الرئيسية بلوق الصفحة 7656

مینڈھر کالج کے طلباء کے مابین لڑائی

0

ناظم علی خان

 

مینڈھر؍؍ مینڈھر میں کالج کے طلباء کے درمیان لڑائی جھگڑ ا میں ایک طالب علم بر ی طر ح زخمی ہو گیا جس کی حالت کو نا زک دیکھتے ہوئے ڈاکٹرو ں نے جی ایم سی جمو ں منتقل کر دیا ۔ اطلا عات کے مطابق جی ڈی سی مینڈھر کے طلباء کے درمیان کسی معاملے کو لیکر لڑائی جھگڑا ہو گیا جس کے نتیجہ میں ایک طالب علم ند یم اقبال ولد محمد اقبال سکنہ ہر نی جو کہ5thسمسٹر کا طالب علم ہے بر ی طر ح سے زخمی ہو گیا جس کو دیگر ساتھو ں نے فو ری طور پر سب ضلع ااسپتال مینڈھر پہنچایا جہا ں پر ڈاکٹرو ں نے بنیا دی علا وج و معالجہ کر نے کے بعد اس حالت کو نا زک دیکھتے ہوئے جی ایم سی جمو ں منتقل کر دیا ،۔ البتہ فو ری طور پر لڑائی کی وجہ معلوم نہیں ہو پائی ہے ۔ اس سلسلہ میں مینڈھر پو لیس نے تحقیقات شر وع کر دیا ہے ۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

سواچھ بھارت ابھیان خزانہ عامرہ پہ بوجھ

0

سڑکوں،گلی کوچوں ،بازاروں میں غلاظت کے ڈھیر

ظہیر عباس

منڈی؍؍جہاں پورے دیش میں سرکاری وغیر سرکاری تنظیمیں سوچ بھارت ابھیان کا ڈنکا بجا رہے ہیں وہی پر سب ضلع اسپتال منڈی کے صدر دروازے نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور سرکار و غیر سرکاری تنظیموں کے دعوئوں کی پول کھول دی ہے ۔واضح رہے کہ سب ضلع اسپتال منڈی کے صدر دروازے کے باہر گزشتہ پانچ روز گندگی کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں جس سے اسپتال میں آنے جانے والے مریضوں اور تیمارداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مشتاق احمد ایک عام شہری کے مطابق ان کا گزر روزانہ اسپتال کے سامنے سے ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئیدنوں سے انہوں نے اس گندگی کے ڈھیر کو جوں کا توں دیکھا ۔انہوں نے کہا کہ اس کی بدبو کی وجہ سے مریض تو مریض بازار سے گزر نے والا ہر شخص مرض میں مبتلا ہو جائے گا۔ منڈی بازار میں محکمہ تعمیرات عامہ کی طرف سے صفای ستھرائی کا کوئی بھی کام نہیں ہوتا۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے ملازمین محض تہواروں کے موقع پر بازار کی صفائی کرتے ہیں باقی دنوں بازار میں گندگی کے ڈھیر پڑے رہتے ہیں جو کہ سوچ بھارت ابھیان کا مذاق بنا ہوا ہے ۔منڈی کے ذی شعور لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ طارق احمد زرگر سے اپیل کی ہے کہ وہ منڈی بازار میں صفای کرمچاریوں کی تعیناتی کو عمل میں لایں تاکہ سوچ بھارت ابھیان کا مقصد پورا ہو سکے۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

بٹھیاں بہروٹ میں مسافر بس حادثے کا شکار

0

زخمی جائے حادثہ سے راجوری ہسپتال منتقل

عمرارشدملک

راجوری؍ راجوری سے دوداسن بالا جابرہی بس بٹھیاں کے مقام پر اس وقت حادثے کا شکارہوئی جب ڈرائیور گاڑی لاپرواہی سے جلابرہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق تھنہ منڈی سے تقریبا سات کلو میٹر کی دوری پر راجوری سے جانیوالی بس زیر نمبری JKO2G/2239 زیرو ٹو جی جوکوٹ بہروٹ اور بٹھیاں سے ہوتی ہوئی دوداسن بالا جارہی تھی کہ اچانک حادثہ کا شکار ہوگء۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ لاپروہی کی وجہ سے بس ڈرائیور کیقابو سے باہر ہو کر تقریبا 100 فٹ نیچے مکی کی فصل میں الٹ گئی۔ بس میں سوار 17 افراد زخمی ہوئے جنہیں علاج کے لئے ضلع ہسپتال راجوری منتقل کیاگیا۔وہیں راجوری ہسپتال سے معلوم ہوا کہ 17 زخمیوں میں سے ایک کو جموں میڈیکل کالج منتقل کیا گیا ہے جبکہ دیگر زیر علاج راجوری ہسپتال میں ہیں۔وہیں اس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال نے ضلع ہسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور ڈاکڑوں کو سخت ہدایت دی کہ کسی بھی قسم کی لاپروہی نہیں ہونی چاہیے۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

زمین کھاگئی آسمان کیسے کیسے،سڑک نگل گئی نوجوان کیسے کیسے!

0

ناریاں کار حادثہ :زندہ پیر کے پاس دریا سے کنبے کے آٹھویں شخص کی نعش بھی برآمد

عمرارشد ملک

 

راجوری ؍؍ راجوری کے ناریاں کے مقام پر دو روز قبل کار حادثے میں ایک ہی گھر کے 8افراد لقمہ اجل ہوگے تھے جن میں ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری کے پرسنل اسسٹنٹ محمود مغل بھی شامل تھے جبکہ ان کے خاندان کے 7افراد بھی کار حادثے میں نہ رہے ۔ ذرائع کے مطابق کار حادثے میں 8افراد جان بحق ہوئے تھے جن میں 7 نعشوں کو برآمد کرلیا گیا تھا جبکہ ایک نعش برآمد نہیں ہوئی تھی جس کے لئے ضلع انتظامیہ نے پولیس ٹیم ،آرمی ،ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں کو تلاش میں لگا دیا تھا جبکہ راجوری اور ناریاں کے مقامی نوجوانوں نے بھی دن رات تلاش شروع کردی تھی اور 2دن کی سخت محنت کے بعد مقامی لوگوں نے آٹھویں نعش تلاش کر ہی لی ۔ ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد محمود مغل اور ان کے خاندان کی نعشوں کو برآمد کر کے ان کے آبائی گائوں بھیجا گیا جہاں معلوم ہوا کہ کا ر میں محمود مغل کا چھوٹا برادرنسبتی وقار احمد مغل بھی تھا جس کے بعد سے ضلع انتظامیہ حرکت میں آئی اور فوری ناریاں دریا میں تلاش شروع کردی اورتیسرئے روز ایک مقامی شخص نے زندہ پیر کے مقام پر دریا میں ایک نعش دیکھی جس کے بعد علاقہ میں شور شرابہ شروع ہوگیا اور فوری طور پر نعش کو پانی سے نکالا گیا جس کی شناخت وقار احمد مغل کے طور پر ہوئی ۔وہیں اضلع انتظامیہ نے تمام لوازمات کے بعد نعش کو وارثوں کے حوالے کردیا گیا جس کے بعد نعش کو اس کے آبائی گائوں گمبھیر مغلاں میں بھیجا گیا جہاں آخری رسومات کے بعد سپردِ خاک کیا جائے گا ۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

مناسک حج کا آغاز :منیٰ نے سفید چادر اوڑھ لی

0

بیس لاکھ سے زیادہ مسلمانان عالم حج کے فرائض انجام دینے میں مصروف

لازوال ڈیسک

مکہ مکرمہ؍؍مناسک حج کا آج سے آغاز ہو گیا ۔ ہندستان سمیت دنیا بھر کے بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان اس بار شریک حج ہیں جو منیٰ کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق پوری دنیا سے آئے حاجیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور کسی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد سکیورٹی جوانوں کومتعین کیا گیا ہے ۔ اس مرتبہ ایرانی شہری بھی شریک حج ہیں ۔سعودی عرب اور ایران دونوں خطے میں روایتی حریف ہیں ۔ ان دونوں کے درمیان پچھلے دنوں کشیدگی اتنی بڑھ گئی تھی کہ گزشتہ سال ایرانی عازمیں سفر حج نہیں کر سکے تھے اور ایک اہم دینی فریضے کی انجام دہی سے محروم رہ گئے تھے ۔ حالات اس بار بھی پوری طرح خوشگوار نہیں۔ اس بار سعودی عرب اور قطر کے مابین سفارتی تنازعے کے بادل بھی چھائے ہوئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق حجاج کرام نے بدھ سے اپنے فریضہ حج کا آغاز کردیا ہے۔بدھ کو نماز فجر کی ادائی کے بعد احرام باندھے حجاج کرام یوم ترویہ کے لیے منیٰ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ جمعرات کو حج کے سب سے بڑے رکن کی ادائی کی کے لیے حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہوں گے۔ اسی دوران اسلام کے پانچویں رکن حج کی ادائیگی کے لئے دنیا بھر سے اٹھارہ لاکھ سے زائد عازمین سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ سعودی عرب میں آج 8 ذوالحجہ ہے جو کہ مناسک حج کا پہلا دن ہوتا ہے۔ لاکھوں عازمین احرام باندھ کر حج کی نیت کر کے تلبیہ کہتے ہوئے لاکھوں کی تعداد میں منیٰ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہاں وہ یوم ترویہ گزاریں گے۔ منیٰ میں ہی عازمین آج ظہر، عصر، مغرب اور عشا جب کہ کل فجر کی نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد عازمین عرفات کے لئے روانہ ہوں گے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ہوگا۔کل میدان عرفات میں نماز ظہر اور عصرایک ساتھ ادا کرنے اور مسجد نمرہ میں خطبہ حج سننے کے بعد عصر اور مغرب کے درمیان وقوف ہوگا جس میں حجاج کرام، اللہ رب العزت کے حضور ذکر و تسبیح کیساتھ خصوصی دعائیں کریں گے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، سعودی حکام نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ بیس لاکھ سے زیادہ عازمین رواں برس فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے ہیں۔ اس موقع پر ریاست کے متعلقہ مختلف سکیورٹی اداروں کی جانب سے سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں تا کہ عازمین حج کی سلامتی اور ان کی جانب سے سہولت کے ساتھ مناسک کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔سعودی حکومت نے دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر ایک لاکھ سے زائد اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا ہے۔ سعودی حکومت نے دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر ایک لاکھ سے زائد اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا ہے۔سعودی حکومت نے دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر ایک لاکھ سے زائد اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔ اسی دوران اسلام کے پانچویں رکن حج کی ادائیگی کے لئے دنیا بھر سے اٹھارہ لاکھ سے زائد عازمین سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، سعودی عرب کی نظامت عامہ برائے پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرل ، میجر جنرل سلیمان الیحییٰ نے ایوان صنعت وتجارت جدہ میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ 1650000 عازمین حج فضائی سفر کے ذریعے پہنچے ہیں۔ 88500 کی زمینی راستے سے آمد ہوئی ہے اور 14,800 سمندری راستے سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے 134,000 شہری اور 109,000 غیر ملکی تارکینِ وطن حج کریں گے۔ واضح رہے کہ اس سال حج کے لیے دنیا بھر سے بیس سے تیس لاکھ کے درمیان عازمین ِ حج کی مکہ مکرمہ میں آمد متوقع ہے۔نظامت عامہ برائے پاسپورٹس کے مطابق اس نے مقدس مقامات کے لیے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 73,488 تارکین وطن کو لائسنس جاری کیے ہیں۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

نوجوان نسل کی شرعی راہنمائی لازمی

0

ایک مشترکہ ادارے کا قیام ناگزیر:سید علی گیلانی

یواین آئی

سری نگر؍؍بزرگ علیحدگی پسند راہنماو حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے عیدالاضحی کے مقدس موقعے پر اپنے عید پیغام میں کشمیری عوام اور عالم اسلام کے ساتھ ساتھ عالمی انسانی برادری کے لیے امن وامان کی زندگی نصیب ہونے اور قتل وغارت سے نجات پانے کی دعا کی ہے۔ بزرگ راہنما نے عالم اسلام کے اندر فلسطین سے لے کر کشمیر تک سبھی خطوں یا ممالک میں موجودہ انتشاری کیفیت کا ازالہ کرنے کے لیے ایک مربوط لائحۂ عمل وضع کئے جانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ اندرونی محاذ پر اپنی صفیں درست رکھتے ہوئے نوجوان نسل کے اندر قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سیاست، معیشت اور معاشرت کی تعمیر کرنے کے رحجان میں آئے روز اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حریت راہنما نے ایسی نوجوان نسل کی شرعی راہنمائی کے لیے پورے عالم اسلام میں ایک مشترکہ ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے، تاکہ ہماری نوجوان نسل کو اسلام کے بتائے ہوئے سیدھے راستے سے بھٹکنے سے بچایا جاسکے۔ مسٹر گیلانی نے کشمیر، فلسطین، یمن، شام، عراق، افغانستان میں بقول اُن کے استعماری اور سامراجی قوتوں کی طرف سے آئے روز انسانی جانوں کے اتلاف پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دین اسلام ہر معصوم انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دے کر ہر فرد کو حقِ زندگی عطا کرتا ہے اوراپنے عقیدے کو کسی بھی شخص پر جبراً ٹھونسنے سے منع کرتا ہے۔ اسلام کے عادلانہ نظام کے تحت اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے جان ومال اور عزت کا تحفظ فراہم کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ حریت راہنما نے امید ظاہر کی کہ دنیا بھر کے حجاج کرام اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کے سامنے عاجزی اور انکساری کے ساتھ پوری دنیا میں امت مسلمہ کو قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی دُعا مانگیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

’تین دہائیوں میں9500افرادجبری لاپتہ‘

0

حقوق بشر کے عالمی اداروں کی مبینہ غفلت شعاری کو حد درجہ افسوسناک : میرواعظ

یواین آئی

سرینگر؍؍ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کشمیر میں ہزاروں لاپتہ افراد کی بازیابی کے سلسلے میں حقوق بشر کے عالمی اداروں کی مبینہ غفلت شعاری کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان گمشدہ افراد کے لواحقین آج بھی اپنے عزیزوں کی راہ تک رہے ہیں اور اپنے بچھڑے ہوئے لوگوں کا درد سہہ رہے ہیں ۔ گمشدہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک بیان میں میرواعظ نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کشمیر میں مبنی برحق جدوجہد کے دوران فورسز کے ہاتھوں 9500 کے قریب افراد کو لاپتہ کیا گیا جبکہ اس دوران 8000 کے قریب کئی گمنام قبریں بھی دریافت کی گئیں جو کشمیر میں مظالم کی منہ بولتی تصویریں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک فرد کے لاپتہ ہونے سے پورا کنبہ اور کبھی پورا سماج متاثر ہوتا ہے اور اس طرح ہزاروں افراد کے لاپتہ ہونے سے کشمیر میں متاثرہونے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی نیم بیوائوں اور یتیم بچوں کی تعداد بھی ہزاروں سے تجاوز کرگئی ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جمائو والا خطہ ہونے کے بنا پرجموںوکشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیاں معمول بنتی جارہی ہے اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ حقوق بشر کے عالمی ادارے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے چپے چپے پر آج بھی فورسز کی ظلم و تشدد کی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں اور نہتے افراد کی ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ایک ایسی قوم جس کی حق و انصاف پر مبنی جدوجہد کو عالمی سطح پر نہ صرف تسلیم کرلیا گیا ہو بلکہ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے میں اس جدوجہد کو قراردادوں کی روشنی میں قانونی جواز بھی فراہم کیا ہو کے خلاف فوجی مہم جوئی کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں بنتا لیکن اس کے باوجود جموںوکشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں تعینات فوج اور فورسز کو لوگوں پر مظالم توڑنے کی نہ صرف کھلی چھوٹ حاصل ہے بلکہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورس ایکٹ جیسے کالے قانون کی آڑ میں ان فورسز کے جرائم کو سند جواز بھی عطا کی جارہی ہے۔ حریت چیئرمین میرواعظ نے کہا کہ کشمیر میں عوام روزانہ ان مظالم اور پر تشدد کارروائیوں کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ حقوق بشر کے عالمی اداروں اور مہذب عالمی برادری کی اس ضمن میں خاموشی نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ان اداروں کی خاموشی سے یہاں فورسز کو لوگوں پر مظالم ڈھانے کی شہہ مل رہی ہے‘ ۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

فوج میں اصلاحات کو منظوری: جنگی صلاحیت بڑھانے پر زور

0

فوج کے غیر ضروری محکموں کو بند کرنے اور بعض شعبوں کو آپس میں ضم کرنے کا فیصلہ

یواین آئی

نئی دہلی؍؍حکومت نے فوج کے سسٹم میں اصلاحات نافذ کرنے اور خرچ کو متوازن بنانے کے مقصد سے آزادی کے بعد سب سے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے فوج کے غیر ضروری محکموں کو بند کرنے اور بعض شعبوں کو آپس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ فوج کی جنگی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے تقریبا 60 ہزار افسران اور فوجیوں کو ضرورت کے مطابق جنگی کردار میں تعینات کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت آج یہاں مرکزی کابینہ کے اجلاس میں فوج کے ورکنگ سسٹم میں اصلاحات اور اخراجات میں توازن کے بارے میں تجاویز دینے والی کمیٹی کی 65 سفارشات کو منظوری دے دی ہے ۔ اجلاس کے بعد وزیر دفاع ارون جیٹلی نے صحافیوں کو بتایا کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ڈی بی شیتکر کی سربراہی میں گزشتہ سال ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے دسمبر میں اپنی رپورٹ پیش کی ہے ، جس میں 99 سفارشات کی گئی ہیں، جن میں سے 65 سفارشات کو وزارت دفاع نے قبول کرلیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفارشات مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی اور انہیں 2019 کے آخر تک مکمل طور پر نافذ کردیا جائے گا۔ ان کے نافذ ہونے سے 57 ہزار افسران اور جوانوں کو جنگی کرداروں اور آپریشنوں نیز دیگر کاموں میں تعینات کیاجائے گا۔ کچھ محکموں سے وابستہ سول ملازمین کو مسلح افواج کی دیگر شعبوں میں بھیجا جائے گا تاکہ وہ کارکردگی کو بڑھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع کے طور پر انہوں نے کمیٹی کی اس رپورٹ اور اس کے نتائج سے متعلق فوج اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ہے ۔ سفارشات میں سب سے بڑا فیصلہ فوجی ڈاک گھروں اور فوجی فارموں کوبند کرنے کے بارے میں کیا گیا ہے ۔ ابھی فوج سے 39 فوجی فارم ہیں جنہیں اب مرحلہ وار بند کردیا جائے گا۔ مسٹر جیٹلی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں اصلاحات کے تحت سگنل کے اداروں پوری صلاحیت کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔ ان میں ریڈیو مانیٹرنگ کمپنی، کور ایئر اسپورٹ سگنل ریجمنٹ، ایئر فورمیشن سگنل ریجمنٹ ، کمپوزٹ سگنل ریجمنٹ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کور آپریٹنگ اور انجینئرنگ سگنل ریجمنٹ کا انضمام بھی کیا جائے گا۔ فوج کے ریپئر ڈپو کی تشکیل نو کی جائے گی اور ان میں بیس ورکشاپ، ایڈوانس بیس ورکشاپ اور فیلڈ کی ورکشاپ کو ملایا جائے گا۔ اسی طرح آرڈیننس محکموں میں کیریج ڈپو، آرڈیننس ڈپو، مرکزی آرڈیننس ڈپو کو آپس میں ملا دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی فوج میں کلرک اسٹاف اور ڈرائیوروں کی بھرتی کے معیار کو تھوڑا سخت کیا جائے گا۔ نیشنل کیڈیٹ کور کی کارکردگی میں بہتری ہو گی۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سال 2015 میں جوائنٹ کمانڈروں کی کانفرنس میں کہا تھا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی فوج میں افرادی قوت کم کرکے ٹیکنالوجی پر زیادہ زور دے رہی ہیں، اور ہم اب بھی اپنی فوج کا حجم بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بیک وقت فوج کی توسیع اور جدیدی کاری ایک مشکل اور غیر ضروری ہدف ہے ۔ جنرل وی پی ملک نے 1990 کی دہائی میں فوج کے سربراہ رہتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 50 ہزار فوجیوں کی کمی کر سکتے ہیں ، بشرطیکہ اس سے ہونے والی بچت فوج کو سرمایہ جاتی اخراجات کے لئے مہیا کرائی جائے ۔ ہندوستانی فوج دنیا کی تیسری بڑی فوج ہے اور اس میں تقریبا 12 لاکھ فوجی ہیں۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

مہنگی کاریں اورہونگی مہنگی!

0

لگژری کاروں پر جی ایس ٹی بڑھانے کی آرڈنینس منظور

Image result for GST ON LUXURY CARS

یواین آئی

نئی دہلی؍؍حکومت نے لگژری گاڑیوں پر اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی ) چارج 15 فیصد سے 25 فیصد کرنے کے لئے جی ایس ٹی(ریاستوں کے لئے معاوضہ) ایکٹ 2017 میں ترمیم کے لئے آرڈنینس کو منظوری دے دی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کی اس تجویز کومنظور ی دی گئی۔ اجلاس کے بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس آرڈیننس سے جی ایس ٹی کونسل کو مسافرگاڑیوں کے دو زمرے میں جی ایس ٹی 15 فیصدسے 25 فیصد تک کرنے کا حق مل گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب جی ایس ٹی کونسل کو فیصلہ کرنا ہے کہ جی ایس ٹی چارج میں کب سے اضافہ کیا جائے گا۔ وزیر موصوف نے یہ واضح کیا کہ اس سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی گاڑیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں مسافر گاڑیوں کی 12 قسموں کا ذکر ہے ، جن میں سے آخری دو اقسام کی گاڑیوں کے جی ایس ٹی چارج میں اضافہ کیا جائے گا۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

کشمیرمیں مظالم کاقہر

0

بھارت کوعالمی فورمزپہ بے نقاب کرناہے:ملیحہ لودھی

Image result for MALIHA LODHI'

  • لازوال ڈیسک
  • نیویارک؍؍اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے لئے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کرے گا۔تفصیلات کے مطابق غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو ہمیشہ مذاکرات کی دعوت دی اور بات چیت کے ذریعے ہی دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی اور مسئلہ کشمیر کوحل کرنے کی کوشش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ ہی مذاکرات کے دروازے بند رکھے۔ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کے حالات اور حقائق جاننے والی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو رسائی دینے سے انکار کیا اور کشمیری عوام کی حق خود ارادیت تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنے کی ہرممکن کوشش کررہا ہے لیکن پاکستان تمام بین الاقوامی فورمز پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کرے گا اور اس سلسلے میں سفارتی کوششیں مزید تیز کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی رہنماؤں سمیت جنرل سیکرٹری اقوام متحدہ کو فراہم کئے گئے دستاویزی اور تصویری ثبوتوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حقائق شامل ہیں عالمی رہنماؤں نے بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی عظیم قربانیوں اور جدوجہد کا اعتراف کیا ہے۔مستقل مندوب نے کہا کہ بھارت کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے سے انکار کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے سے بھی انکار کررہا ہے پاکستان جلد ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام ارکان سے مشاورت اور مسئلہ کشمیر کی قراردادوں پر عملدرآمد کے طریقوں پر غور کرے گا۔
FacebookTwitterWhatsAppShare
Exit mobile version