"جموں و کشمیر میں مہنگائی عروج پر۔ عوام پریشان اور انتظامیہ قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں ناکام۔”

0
0

 

 

 

 

 

ازقلم:- دانش احمد پرے۔
گوئیگام کنزر بارہمولہ۔
رابطہ:- 8803250765۔

جہاں جموں و کشمیر کے لوگ متعدد برسوں سے انتہائی مصائب اور مشکلات سے دوچار ہیں،وہی پر اشیائے خوردنی اور دیگر ضروری اشیاء کی مہنگائی نے عوام کے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ دنیا بھر کی طرح جموں و کشمیر میں بھی کورونا وبا نامی بیماری سے یہاں کی معاشی اور اقتصادی حالت کافی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ جموں و کشمیر کے لوگ جہاں روز اول سے ہی بے روزگاری اور بے کاری سے جوج رہے ہیں وہی پر دفعہ370 حٹنے اور مسلسل بندشے عائد رہنے سے یہاں بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہیں۔ جس کے نتائج میں یہاں کی معاشی اور اقتصادی حالت مزید کمزور اور متاثر ہوگئی۔

 

کمر توڑ مہنگائی نے جموں وکشمیر کے غریب اور متواسط طبقے کے لوگوں کی نیندیں حرام کر دی ہے اور دل کا سکون بھی اختتام کو پہنچا یا ہے۔ موجودہ دور میں جموں و کشمیر میں روزمرہ استعمال ہونے والی ضروریات کی چیزیں عوام کو انتہائی مہنگے داموں میں ملتی ہیں۔ اشیائے ضروریہ کے علاوہ پچھلے چند ماہ سے کھانے کے تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافہ اس قدر ہوا کہ آج سے چند ماہ قبل بازاروں میں جو پندرہ (15Kg) کلو کے تیل کا ڈبہ اٹھارہ سو (1800) روپیہ میں ملتا تھا جبکہ آج وہی 15 کلو کا ڈبہ یہاں تین ہزار (3000) روپیہ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ مہنگائی صرف یہی پر اختتام کو نہیں پہنچتی ہے بلکہ یہاں دیگر اشیائے ضروریہ کے علاوہ روزمرہ استعمال ہونے والی سبزیوں اور میواجات کی قیمتیں بھی ساتویں آسمان کو چھوتی ہوئی نظر آرہی ہیں، اور خشک چیزیں جن میں دالوں، چائے پتی، آٹا، مصالحہ جات وغیرہ کی قیمتوں میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں ذہن میں یہی خیالات گردش کر رہے ہیں کہ اگر جموں و کشمیر میں لوٹ اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اسی دوڑ سے اضافہ ہوتا رہا، تو وہ لمحات دور نہیں جب یہاں کے سرکاری ملازمت پیشہ(Govt Employees) لوگ بھی اپنی ماہانہ تنخواہ سے گھروں کے اخراجات پورے نہیں کر پائیں گے جبکہ غرباء اور غریبی کی سطح سے نیچے گزر بسر کرنے والے طبقے کے لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔

چیزوں کی اس قدر بڑھتی مہنگائی کے اسباب کو معلوم اور دریافت کرنے پر یہاں کے دکاندار اور تاجر حضرات کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس بات سے واقف نہیں کہ یہاں کی آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی کا راز اور اس کے وجوہات کیا ہیں۔ تاہم مہنگائی کے اسباب میں ایک سبب یہاں کے اکثر دکاندار اور تاجر حضرات خود بھی ہیں۔ کیونکہ دکاندار اور تاجر حضرات دونوں ہی عوام کو لوٹنے میں چوبیس گھنٹے مصروف رہ کر دس روپے کی چیز سو روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ ہمارے دکاندار اور تاجر حضرات میں اکثر حضرات منافع خوری، مفاد پرستی اور خود غرضی کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ اور انتہائی کرب اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ان کو پوچھ گچھ کرنے والا بھی شاید آج تک پیدا نہیں ہوا ہے۔

قیمتوں کو مستحکم کرنے اور اعتدال میں رکھنے کے ضمن میں انتظامیہ بالخصوص "محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری” (Department of Food, Civil Supplies & Consumer Affairs) کی جانب سے بڑے بڑے بلند و بانگ دعوے اور وعدے تو کیے جا رہے ہیں مگر زمینی سطح پر اس کے مثبت اور خاطر خواہ نتائج دیکھنے کو نہیں مل رہے ہیں۔ متعلقہ محکمہ کا عملہ تو کبھی کبھی قیمتوں کے جانچ پڑتال کی خاطر بازاروں کا معائنہ کرتا ہے، مگر میں انتظامیہ کو یہ تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں کے آپ کی کبھی کبھی جانچ پڑتال کرنے سے مہنگائی پر روک تھام نہیں لگ سکتی، کیونکہ ہمارے یہاں صبح و شام قیمتے تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور قیمتوں کی تبدیلی میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اگر آپ واقعی عوام کے خیر خواہ ہیں تو میری محکمہ کے اعلی افسران سے یہی استدا رہے گی کہ آپ بازاروں میں روزانہ قیمتوں کی جانچ پڑتال کرنا معمول بنائیے، اس کے لئے آپ ہر ایک علاقے کے لیے عملہ تشکیل دے۔ امید ہے کہ محکمہ فوری اس مسئلہ پر توجہ مرکوز کرے گا۔

"کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق،
نہ اہلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند۔”

(شاعر مشرق علامہ اقبال)

FacebookTwitterWhatsAppShare

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا