بارہمولہ،// جموں و کشمیر پولیس نے پیر کے روز یہاں کئی ‘پاکستانی خواتین’ کو تحویل میں لے کر ان کا ‘مظفرآباد چلو’ مارچ ناکام بنا دیا۔
سال 2010 میں اعلان شدہ بازآبادکاری پالیسی کے تحت اپنے شوہروں کے ساتھ وارد کشمیر ہونے والی متعدد ‘پاکستانی خواتین’ پیر کی صبح یہاں جمع ہوئیں اور سری نگر – مظفرآباد روڑ پر مارچ کرنے لگیں۔
تاہم جب یہ احتجاجی خواتین خانپورہ پہنچیں تو جموں و کشمیر پولیس کی زنانہ پولیس کی نفری نے حرکت میں آ کر ان خواتین کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
قبل ازیں پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے نورین نے نامہ نگاروں کو بتایا: ‘ہم آج کسی بھی صورت میں سرحد پار کر کے رہیں گے۔ اس پار یا اُس پار اگر ہمیں گولی بھی کھانی پڑے ہم تیار ہیں۔ ہمارے پورے رشتہ دار پاکستان میں ہیں۔ ہم ان کی خوشی اور غم میں شامل نہیں ہو پا رہے ہیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘میری ماں فالج کا شکار ہیں۔ وہ پچھلے ایک سال سے دربستر ہیں۔ میں آج کسی بھی صورت میں سرحد پار کر کے اپنے ماں سے ملوں گی۔ میں اپنی ماں کی خدمت کرنا چاہتی ہوں’۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی مصباح جنید نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم نے آج تک بہت بار احتجاج کیا لیکن کوئی ہماری بات سنتا ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ہماری مانگ ہے کہ آپ ہمیں سرحد پار کرنے کی اجازت دیں۔ سرکار ہماری بالکل بھی سن نہیں رہی ہے۔ ہم لیفٹیننٹ گورنر سے بھی ملے لیکن کوئی ہمارے حق میں فیصلہ نہیں لیتا۔ آج چاہے آپ گولے مارے یا جو بھی کرے ہم واپس نہیں جائیں گے’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہمارا گناہ کیا ہے؟ ہماری غلطی کیا ہے؟ ہم نے تو شادیاں کی ہیں۔ اگر ہم غیر قانونی طریقے سے آئے ہیں تو آپ نے ہمیں اسی وقت واپس کیوں نہیں بھیجا؟ آپ لوگوں نے ہی بازآبادکاری پالیسی کا اعلان کر کے ہمیں یہاں بلایا۔ اب نہ ہمیں رہنے دے رہے ہو نہ جانے’۔
بتا دیں کہ 2010 میں جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت نے اُس وقت کی مرکزی حکومت کے آشیرباد سے 1989 سے 2009 تک پاکستان چلے جانے والے کشمیری نوجوانوں کی واپسی کے لیے ایک بازآبادکاری پالیسی کا اعلان کیا۔
واپسی کے خواہش مند نوجوانوں سے کہا گیا تھا کہ وہ واہگہ اٹاری، سلام آباد اوڑی، چکاں دا باغ پونچھ اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ نئی دہلی میں سے کسی ایک راستے سے واپسی اختیار کر سکتے ہیں۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں رہائش اختیار کر چکے 4587 کشمیری نوجوانوں میں سے اس پالیسی کے تحت 489 نوجوان ہی واپس لوٹ آئے جنہوں نے واپسی کے لیے نیپال کا راستہ اختیار کیا۔
ان میں سے تقریباً 350 نوجوان اپنے پاکستانی بیوی بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے آئے۔ بعد ازاں 2016 میں بی جے پی کی حکومت نے متذکرہ پالیسی پر روک لگا دی۔
اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ کشمیر آنے والی 350 پاکستانی خواتین کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہے اور وہ اپنی قسمت کو کوس رہی ہیں۔ جب سے آئی ہیں ایک بار بھی پاکستان میں اپنے میکے نہیں جا پائی ہیں۔ انہیں بھارتی شہریت ملی ہے نہ سفری دستاویزات۔
ان میں سے بیشتر خواتین کو شدید مالی دشواریوں کا سامنا ہے۔ اکثر ذہنی دبائو کا شکار ہیں۔ اب تک کم از کم دو پاکستانی خواتین خودکشی کر چکی ہیں۔ جن دو کو طلاق دی جا چکی ہے وہ بھی یہیں پھنس کر رہ گئی ہیں۔