محمد کامل رضا
چین کےوہان شہر سے پھیلنے والا کورونا وائرس دیکھتےہی دیکھتےپوری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لےلیا اور لوک ڈاؤن کی زنجیر میں لوگوں کو قید کردیا۔یہ سیر وتفریح کرنے والی مخلوق کب تک قید وبند رہتی ۔اس لیے سبھی کے دلوں میں یہ خیال منڈلارہاہوگا کہ کورونا کا وقت بھی گزر جائے گا ۔پالیٹکو میگزین کے ایک قلم کار نے لکھاہے کہ ’’بحران کا وقت بھی نئے مواقع فراہم کرتا ہے ‘‘اور میڈیسن نیٹ ویب سائٹ کی تحقیق میں یہ بھی کہا گیاہے کہ ’’کسی متعددی بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کےلیے کسی کو کچھ وقت کے لیے الگ رکھنا چاہیے‘‘ ۔سائنس کی تحقیق میں یہ بیماری متعددی ہے لہٰذا اس وبائی مرض سے جوجتنا دور ہوگا وہ اتنا ہی محفوظ رہے گا ۔جواس ریس کی چپیٹ میں آئے گا وہ مارا جائے گا ۔
اس لیے دنیا کے بیشتر ممالک کے ذمہ دار حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے وزیراعظم نریندرمودی نےبھی ۲۲؍مارچ کو صبح سا ت بجے سے شام سات بجے تک جنتا کرفیو کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی شام ۵؍بجے ،۵؍منٹ تک کورونا کے معالجوں کےلیے اظہارتشکراور حوصلہ افزائی کےطور پر گھرکے برآمدہ ،بالکنی اور کھڑکی کے پاس کھڑےہوکر تھالی اور تالی بجانے کی بھی بات کہی ۔اس کے بعد پھر ۸؍بجے وزیراعظم ٹی وی کے اسکرین پر یہ اعلان کیا کہ آج بارہ بجے رات سے ۲۱؍دنوں تک پورے دیش میں لوک ڈاؤن رہے گا ۔عوام کو جیسے ہی یہ اعلان سننا تھا کہ مالدارسامان خرید نے کےلیےایسے ٹوٹ پڑےکہ مانو مفت میں کوئی ریلیف تقسیم ہورہی ہو جب کہ غریبوں کےسروں پر آسمان ٹوٹنے کے مترادف یہ اعلان تھا۔اپنے اسی بیان میں وزیراعظم مودی نے یہ بھی کہا کہ اگر اس بیماری سے لاپرواہی برتی گئی تو بھارت کو اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑسکتی ہے ۔ لفظ ’’لاپرواہی ‘‘پر تبصرہ کرنے سے قبل یہ بتاتےچلیں کہ مودی جی نے یہ اعلان کیا کہ ۵؍اپریل اتوار کو رات نو بجے گھر کے سبھی لائٹوں کو بند کرکے گھر کے دروازے پریا بالکنی میں کھڑے ہوکر دیا،موم بتی ،ٹارچ یاموبائل کا فلیش لائٹ جلائیں ۔اور اگر سبھی لوگ ایسا کریں گے تو پر کا ش کے اس مہا شکتی کا احساس ہوگا جس میں ایک ہی مقصد کےلیے سب کھڑےہیں اور یہ اجاگر ہوگاکہ ہم اس قحط سالی میں بھی اکیلے نہیں ہیں بلکہ ۱۳۰؍ کروڑ لوگ ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑےہیں ۔تھالی ،تالی ،ا گربتی اور گوکورونا گوکے نعرے کے ساتھ اس وائرس سے لڑنے کا سلسلہ بھی خوب دراز رہااورہندوستان کی ناخواندہ عوام بھی کورونا سے لڑنے کا مذکورہ عمل کامیاب سمجھ رہی تھی ۔لیکن مرورایام کے ساتھ یہی تھالی اور تالی بجانے والی عوام ان کے اپنےبینک اکاؤنٹ جب خالی ہونےکا اعلان کرنے لگا تو لوگوں میں بے چینی کی ایک لہردوڑنے لگی اور دہاڑی مزدور کی پریشانی میں مزید اضافہ ہونے لگا،مزدوروں کے ساتھ ایک طرف کھانے کا مسئلہ تو دوسری طرف روم کا کرایہ ادا کرنے کا تھا،اس لیے گھر کوچ کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی سبیل ہی نہیں بچا جو پیدل چل سکتے تھے وہ سوچنے کی ہمت باندھنے لگے پندرہ ،سترہ سو کیلو میٹر کا راستہ بن دیکھے ناپنے لگے کبھی ہمت ٹوٹ بھی جاتی تو ۶؍گھنٹےلائن میں کھڑا رہنے اورپیٹ بھر کھانا نہ ملنے کا واقعہ انھیں سہارادیتا ،پھر پیدل وہ بھی لمبا سفر یہ سوچ کر دل گھبرا نے بھی لگتا ۔مرتے نہ کیا کرتے اخیراس مید پر گھر کے لیے پیدل چلنے لگے کہ شاید یہاں سے گاؤں کےحالات اچھے ہوں اور وہاں پیٹ بھر کھانا میسر آجائے ، اس پر عزم کے ساتھ اخیر گھر کےلیے پیدل نکل ہی گئے ۔لیکن بھوک کی شدت اور سفر کی کلفت کو برداشت کرنا ان کےلیے ریت میں محل بنانے کا مترادف تھا۔یہی وجہ ہے کہ بہت سےلوگ راستے میں ہی دم توڑ دیے ۔جب کہ چندافراد اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ۔مزدوروں کی ایک بڑی ٹولی اس امید پر سفر کرنےسے رک گئے کہ شاید ۱۴؍ اپریل کے بعد حالات کچھ سازگار ہو۔اس امید کے ساتھ تقریباً ۴۰؍لاکھ لوگ ٹکٹ بھی بنوالیے ۔لیکن جب ان کی امید پر پانی پھیرگیا اور ۳؍مئی کے بعد ۱۷؍مئی تک لوک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو دوہزار کیلو میٹر کا سفر بھی انھیں آسان دکھنے لگا ۔لیکن پولیس کے ڈر سےروڈ چھوڑ کر جنگلوں کے بیچ سے کوئی گروہ اپنا راستہ کھوج لیا تو کوئی ریل کی پٹری کوراستہ بنانے میں عافیت سمجھا۔مزدوروں کی موت کامعاملہ تو ہم آئے دن سنتے ہی رہتےہیں لیکن حالیہ مزدوروں کی موت کا جوحادثہ رونماہوا ،یہ حادثہ جہاں مزدوروں کی بے بسی ولاچاری کو درشاتاہے تو وہیں پوری انسانیت کی ضمیرکو جھنجھوڑکر رکھادیا ہے ۔اس پورے واقعہ کی منظر کشی عابد قیس رحماؔنی نے کچھ اس طرح کھینچا ہے ؎
ریل کی پٹری پہ جسم ناتواں ٹکڑے ہوا
کتنی آہیں جسم کے اندر سسکتی رہ گئیں
بھوک سے محنت کشوں نے پا ہی لی آخر نجات
روٹیاں فٹ پات پہ منھ ان کا تکتی رہ گئیں
اے کاش!اگر وزیراعظم کیرل کا پہلا کیس(۳۰؍جنوری ۲۰۲۰ء)کے آنےکے بعد ۲۴؍فروری کو ’’نمستے ٹرمپ‘‘کا پروگرام منقطع کردیتااور شروع دن سے ہی اس کورونا وائرس سے مقابلے کےلیے کوئی لائحہ عمل تیارکرتا توشاید آج اس وبائی وائرس سےمرنےکی تعداد دوہزاراور مریضوں کی تعداد ساٹھ ہزارنہ ہوتی ،اورنہ ہی ہندوستان کی معاشی حالت کے خراب ہونے کے ساتھ اورنگ آباد میں لاچار مزدوروں کی جان موت کے حوالے ہوتی ۔
(مضمون نگار آئی آئی ایم سی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکشن دہلی کاطالب علم ہے)