ہر سو بازار بے رونق اور سڑکیں سنسان
یواین آئی
سرینگر؍؍وادی کشمیر میں کورونا قہر کی لہر کو روکنے کے لئے اتوار کو مسلسل 39 روز بھی مکمل لاک ڈاؤن جاری رہا جس کے باعث جہاں بازار بے رونق اور سڑکیں سنسان رہیں وہیں ماہ صیام میں مساجد میں نماز اور تلاوت قرآن کے لئے رہنے والی لوگوں کی بھیڑ بھی کلی طور پر مفقود رہ گئی ہے۔اس دوران وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے 29 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ جموں وکشمیر میں اب تک سامنے آنے والے کیسز کی تعداد بڑھ کر 523 ہوگئی ہے۔کورونا وائرس کے متعلق جاری میڈیا بلیٹن کے مطابق جموں وکشمیر میں اب تک کورونا کے 523 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 137 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ ایکٹو کیسز کی تعداد 380 ہے۔ اتوار کو مزید 25 مریضوں کو ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا ہے۔ادھر ایک رپورٹ کے مطابق حکام نے وزارت داخلہ کی طرف سے لاک ڈاؤن میں قدرے تفاوت لانے کے حکمنامے کو وادی میں ریڈ زونوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر فی الوقت عمل میں نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔مذکورہ رپورٹ میں صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وادی میں ریڈ زونوں کی تعداد زیادہ ہونے کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں تفاوت کے تئیں محکمہ صحت کی طرف سے عنقریب علاحدہ ہدایات جاری ہوں گی۔وادی کے طول و عرض میں لاک ڈاؤن کا سلسلہ برابر جاری ہے اور لوگ سماجی دوری کو بنائے رکھنے اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے لئے کوئی لیت و لعل نہیں کررہے ہیں۔دوسری طرف انتظامیہ بھی وادی میں کورونا کے مثبت کیسز میں ہورہے روز افزوں اضافے کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے علاوہ دیگر احتیاطی تدابیر کی عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے کمر بستہ ہے۔یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ سری نگر میں لاک ڈاؤن برابر جاری ہے اور لوگ وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر تمام تر احتیاطی تدابیر کو عمل میں لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماہ صیام کے دوران سری نگر کے بازاروں میں جو لوگوں کا غیر معمولی رش ہوتا تھا وہ کلی طور پر غائب ہے اور مساجد بھی خالی پڑی ہوئی ہیں۔موصوف نامہ نگار نے بتایا کہ سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اہلکار بھی برابر تعینات ہیں اور لوگوں کی بھیڑ کو جمع نہ ہونے دینے کے لئے وہ باتوں کے ساتھ ساتھ لاٹھیوں کا بھی استعمال کرتے ہیں۔وادی کے دیگر تمام ضلع و تحصیل صدر مقامات سے بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ لاک ڈاؤن برابر جاری ہے اور لوگ گھروں میں ہی رہ کر سماجی دوری کو بنائے رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق دور افتادہ علاقوں میں بھی جنتا کرفیو رضاکارانہ طور پر جاری ہے اور لوگ سماجی دوری کو بنائے رکھنے کے لئے تمام تر اجتماعات یہاں تک کہ تراویح نمازوں کی اجتماعی ادائیگی سے بھی احتراز کررہے ہیں۔وادی کے علاوہ جموں صوبہ اور لداخ یونین ٹریٹری میں بھی لاک ڈاؤن برابر جاری ہے اور لوگ گھروں میں بیٹھ کر اس وبا کا مقابلہ کررہے ہیں۔ تاہم دونوں خطوں میں صورتحال بہت حد تک قابو میں ہے۔