منڈل کمیشن کی سفارشات کے نفاذاور27فیصدریزرویشن کے حق میں احتجاجی مظاہرہ
لازوال ڈیسک
جموں؍؍آل جموں و کشمیر بیکورڈ کلاسز او۔بی۔ سی نوجوان طبقات تنظیمات کا آج ایک مشترکہ مظاہرہ جموں میں ہوا،یہ احتجاج 27% ریزرویشن کو لے کر ہوا جس میں بیکورڈ طبقات کی تمام تنظیمات نے شرکت کی تمام او۔بی۔سی تنظیمات کشمیر صْوبہ۔آل انڈیا او۔بی۔سی فیڈریشن جموں دھوبی ویلفیئر سنٹر کمیٹی کشپ راج پوت سبھا ،وشوکرماسبھا ،تیلی ویلفیئرایسوشیشن او۔بی۔سی مہاسبھا بازیگر مہا سبھا سانسی مہاسبھا بھوریا مہاسبھا پرجاپتی مہا سبھا واربر ناء مہاسبھا شڈیول کاسٹ شڈیول ٹرئیپ و دیگر تنظیمات نے اس مظاہرے میں شرکت کی ۔مظاہرہ میں مْقررین نے سابقہ و اب کی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا پچھلی سرکاروں نے اس طبقات کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی کی اب کی سرکار چاہے مرکزی ہو یا جموں و کشمیر کی سرکار ہو آج تک اس طبقات کو 27% ریزرویشن و سیاسی ریزرویشن دینے میں ناکام رہی ھے ۔اس طبقات آبادی کو منڈل کمیشن رپورٹ کے مطابق یہاں ریزرویشن نہیں دی گئی ھے۔ْیوٹی کے اندر جموں و کشمیر میں دفعہ 370 ختم ہونے کے باوجود جموں و کشمیر میں اس طبقات آبادی کو آبھی تک 27% ریزرویشن نا دے کر سرکار نے اس طبقات کے ساتھ کھلم کھلی ستم ظریفی کی ھے دوسری اور ریاستی سرکار کی اور سے جھوٹے دعوے گئے ہیں ۔اس طبقات آبادی کو 2% ریزرویشن بڑھا کر 4% فیصد ریزرویشن دی گئی ھے بیکورڈ طبقات آبادی اس بات کو صاف کرتے ہوئے یہ بتا دینا چاہتی ھے جموں و کشمیر کے اندر ابھی تک او۔بی۔سی کے نام پر کوئی بھی ریزرویشن نہیں دی گئی ھے۔سرکار کی اور سے 2005 سے لے کر آج 2020 تک او۔بی۔سی کے نام کا کوئی بھی آرڈر نہیں ہوا ھے جس آرڈر کے تحت یہ طبقات آبادی ریزرویشن لے رہی ہو صرف اور صرف یہ گمرہ کْن بات ھے ایک بہت بڑا جْھوٹ آج تک سرکاروں کی اور سے بولا جاتا رہا ھے سچ تو یہ ھے او۔ایس سی کے نام پر چند دن پہلے سرکار کی اور بذریعہ پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا اخبارت میں آیا تھا کے او۔ایس۔سی طبقات کو 2% ریزرویشن بڑھا کر 4% فیصد ریزرویشن دی گئی ھے جموں وکشمیر کے اندر یہ کون لوگ ہیں جنہیں یہ ریزرویشن دی گئی ھے ۔سرکار واضھ کرے دفعہ 370 اگر جموں و کشمیر کے اندر ختم ہو چْکی ھے یْوٹی قانْون لاگو ھے پھر منڈل کمیشن 9 آنریبل ججزز پر مشتمل رپورٹ کے مطابق یہاں27 فیصد ریزرویشن آج تک لاگو کیوں نہیں سرکار کی اور سے کی گئی ۔جموں و کشمیر کی سرکار یہ کٹھ پْتلیوں والا کھیل تماشہ فوری بند کرکے آنریبل 9 ججزز سپریم کورٹ آف انڈیا منڈل کمیشن رپورٹ کا فیصلہ فوری جموں و کشمیر میں لاگو کرے کیونکہ پچھرلے 73 سال عرصہ سے لے کر آب تک اس طبقات آبادی کے سرکاروں کی اور سے بہْت امتحان لئے گئے ہیں اب صبر بہْت ہو گیا ھے لہٰذا تمام جموں وکشمیر بیکورڈ تنظیمات بذریعہ آج کے اس مظاہرے کے سرکار کو بتا دینا چاہتی ہیںیوْٹی کے اندر جموں و کشمیر میں فوری 9 جحجز سپریم کورٹ آف انڈیا منڈل کمیشن رپورٹ کے فیصلے کو یہاں پر سرکار لاگو کرے ۔پروٹیکل ریزرویشن جموں و کشمیر کے اندر سرکار فوری اس طبقات کو دے کریمی لییر آٹھ 8 لکھ سے بڑھا کر 15 لکھ سرکار کرے دیگر سینٹر محکمے کی طرع یہاں پر کیندر ودیالوں میں اس طبقات آبادی کو ریزرویشن و دیگر سہولیات دی جائیں یہ طبقات آبادی ہمیشہ جموں و کشمیر میں امن بھائی چارے پر یقین رکھتی ھے اور آگے بھی اس طبقات کا یہء میشن رہے گا ۔مْقررین نے اس مْدعا کو مدنظر رکھتے ہوئے پْرامن طریقے سے بعد میں پریس کلب سے لے کر جموں شہر کے کئی بازاروں سے مارچ کرتے ہو ئیبذریعہ سرکار سے پْرزور سے کہا سرکار فوری جموں و کشمیر میں 27% ریزرویشن منڈل کمیشن رپورٹ لاگو کرے ،سیاسی ریزرویشن اس طبقات کا حق ھے سرکار فوری اس آبادی کو دے آگر ایسا سرکار نے نہیں کیا تو آگے آنے وقت میں یہ طبقات آبادی کوئی اور قدم اْٹھائیگاجس کی ذمہ دار یہاں کی سرکار ہو گی۔ اس مظاہرے میں حصّہ لینے والوں میں چوہدری بنسی لال، محمد شبیر ،کستوری لال وسوترہ، رحیم دین ملک، محمداقبال ،ایودییا کمار منوہ، فقیرچندستیا، محمد سلیم ،ششی کمار ورما ،راجندر سیکّہ سمیترہ دیوی ،سونیل کمار، پراجاپتی ،اشوک ڈوگرہ، شمش دین، گوپال سنوترہ ،موہن لال پووار، راجیش اومی، تلک راج، کلدیپ راج ،خادم حسین ،مختیار کالیا، اونکار سنگھ، مْلکھ راج منی، جسبنت سیگھ، محمد رشید، بودراج ،مدن لال چرگوترہ، گرداری لال ،موراری لال، محمد اکرم ،منور لال نظیر احمد و دیگر او۔بی۔سی طبقات نوجوانوں کے ساتھ کافی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔