0
0

1947ء کے بعد جتنے سال آ ئے اب ان کو ریورس گیر لگ چکا ہے ۔
اُس کی عمر کتنی ہے ٹھیک سے معلوم نہیں ، شاید ہزار یا دس ہزار سال ، شاید لاکھ سال شاید کروڑوں سال۔با رش آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھی بالکل جیسے ہسپتال کے اپریشن تھیٹر میں پڑے کسی مریض کے دل کی دھڑکن جو نہیں جانتا ہوتا کہ اس پرجن ہاتھوں نے جراحی کرنا ہے وہ کسی مسیحا کے ہیں یا دولت کی ہوس میں مبتلا کسیـ شخص کے۔ دولت کی ہوس مالی کرپشن اور بے رحمی کی ماں ہوتی ہے۔ بارش اُسے ہمیشہ سے اچھی لگتی تھی ، اس سے اندر کی خباثت تو دُھل نہ پاتی تھی بس تھوڑا سا احساس دے جاتی تھی کہ شاید جسم کی آلائش دُھلنے کے ساتھ ذہن کی ناپاکی بھی تھوڑا کم ہو گئی ہے۔ابھی شام ہونے میں کچھ وقت باقی تھا لیکن گہرے بادلوں کی وجہ سے ملجگے اندھیرے کا منظر تھا ۔پارک جس کی لکڑی کے بنچ پر بیٹھا وہ بارش کا مزہ لے رہا تھا اُس کے آفس کے قریب تھا اور نزدیکی کچی آبادی میں واقع اُس کے گھر کے بھی قریب۔ وہ اکثر اس پارک میں آجاتا تھا، پارک میں اُگے خوبصورت پھولوں کو دیکھنے یا شاید صرف اپنی تنہائی دُور کرنے۔ پارک کے درخت سینکڑوں پرندوں کا مسکن تھے ۔ انسانوں کی آوازیں سننے میں اب اُسے دلچسپی نہ رہی تھی شاید وہ ان پرندوں کی آوازیں سننے آتا تھا ۔ پرندے اُسے اچھے لگتے تھے ۔ پرندوں نے اپنے اوپر مذہب اور سم ورواج کا لبادہ نہیں اوڑھایا تھا نہ ہی وہ انسانوں کی طرح ہر شے کی ہوس میں مبتلا تھے ۔مذہب اور روحانیت کی آڑ میں کتنے لوگ کوئی کام کیے بغیر دوسروں کی کمائی پر پلتے ہیں۔
یہ پارک جس خطہ میں تھا وہاں پہلے ایک نواب حکمرانی کرتا تھا ، پھر ایک نیا ملک بنا تو نواب نے اپنی ریاست اس ملک میں شامل کر دی۔ نیا ملک جغرافیائی طور پر تو ایک ملک تھا لیکن اس میں بسنے والے لوگ ابھی تک باقاعدہ ایک قوم کی صورت اختیار نہ کر سکے تھے ۔نئے ملک کے لوگ مذہبی تھے یا غیر مذہبی ، تعلیم یافتہ تھے یا ان پڑھ، ایک بڑی تعداد اپنے اخلاقی رویوں میں غیر مہذب تھی ۔ ان لوگوں کے رویوں میں جارحیت اور عدم برداشت موجود تھی۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ بظاہر ایک شخص مذہبی ہو جاتا ہے لیکن مذہب اس کے اندر کے درندے پر اثرانداز نہیں ہو پاتااور جب بھی موقع ملتا ہے وہ درندہ اس شخص پر حاوی ہو جاتاہے۔ انسان مذہبی نہ بھی ہو تب بھی اس کے اندر ایک درندہ چھپا ہوا ہوتا ہے جو حالات اور موقع ملتے ہی اپنے آپ کو ظاہر کر دیتا ہے۔
پارک کے چاروں طرف لوہے کی جنگلہ نما دیوار تھی جس کے پار دیکھا جا سکتا تھا ۔پارک کے چاروں طرف سڑک او ر سڑک کی دوسری جانب دکانیں جہاں غریبوں کے لیے کم اور دولتمندوں کے لیے بہت کچھ تھا۔ جو لوگ نئے نئے دولتمند بنتے ہیں ، ان کی نفسیات باقی لوگوں سے تھوڑا مختلف ہوتی ہے ، یہ لوگ اپنی گاڑیوں کے ہارن بار بار اور خواہ مخواہ بجا تے ہیں ۔ وہ اس طرح کے لوگوں کو نا پسند کرتا تھا لیکن وہ ان کے منہ لگنا بھی پسند نہیں کرتا تھا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ شیطان کی آنت کی طرح لمبی ہو جانے والی مقدمہ بازی میں اُلجھ جائے۔ اُس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ انصاف حاصل کرنے کے لیے جج کو رشوت دیتا۔
بو جھ بن جانے والے رسم و رواج کاسسٹم گردے ناکارہ ہو جانے والے کسی مریض کی طرح تو نہیں جس کو ہومیوپیتھک ادویات 64۔R اورشوابے Eel Serum Anguillae-30 اور Aurum Chloriatum Nat- 30مستقل دے کر ڈائلائیسز سے بچا لیا جائے۔ یہ تو ذہن کی اتھا ہ گہرائیوں میں پلنے والی ان منفی خواہشات اور دولت کی ہوس کی عملی شکل ہوتا ہے جس کو ٹھیک کرنے کے لیے کسی لیڈر کی نہیں بلکہ اجتماعی مثبت سوچ اپنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مریض دوا تو کھائے لیکن Creatinineاور یوریاپیدا کرنے والی غذائوں کا پرہیز نہ رکھے تو پھر کیا فائدہ۔
بارش کے قطرے ایسے گر رہے تھے جیسے فوجی پیراشوٹ کے ذریعے فضا سے اترتے ہیں۔ بارش جب مٹی پر گرتی تو اُس کی خوشبو اُس کے دل کو چھوتی ۔ کاش انسان کے دل پر غموں کے اثر سے پڑنے والے اثرات بھی بارش سے دھل جاتے۔بارش لمحہ موجود ہے ایسے ہی انسان کا سکون اور خوشی کا احساس بھی لمحہ موجود میں رہنے سے ہے۔
اس کابیشتر وقت انٹرنیٹ پر مطا لعہ میں گزرتا ۔ انٹرنیٹ کی ہی ایک پوسٹ نے اسے بتایا کہ دنیا میں جتنی بھی بڑی فارما سیوٹیکل اور پیسٹی سائیڈ کمپنیاں ہیں ان کے مالک سپر پاورز کے خفیہ ادارے ہوتے ہیں جو پہلے انسانوں اور فصلوں میں بیماریاں لانے والے وائرس لانچ کرتے ہیں پھر ان کی ادویات مارکیٹ میں لا کر کھربوں ڈالر کا فنڈ جنریٹ کرتے ہیں ۔ بعد میں یہ فنڈ اپنے خفیہ مقاصد کی تکمیل کے لیے خرچ کرتے ہیں۔
اچانک بادل زور سے گرجے اور آسمانی بجلی کڑکی ، وہ اپنی تنہائی میں مزید سمٹ گیا ۔ اُس نے اوپر کی طرف دیکھا جیسے سمجھنا چاہ رہا ہو کہ کیا بارش کے ساتھ آسمان سے ارواح بھی اتر رہی ہیں۔ پارک کے درخت مسلسل ہوتی بارش میں نکھر گئے تھے ۔ کیا یہ درخت پرندوں کے ساتھ ساتھ جنات کا بھی مسکن ہیں؟ اُس نے سوچا، پھر ادھر اُدھر دیکھا شاید پارک میں اُسے جنات چلتے پھرتے نظر آجائیں۔ بارش میں کافی دیر سے بیٹھنے رہنے کی وجہ سے اُسے ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی لیکن یہ ٹھنڈ بھی اُسے اچھی لگ رہی تھی ۔وہ جانتا تھا کہ وہ مسافر ہے اور مسافر کا پڑائو اور خواہشات محدود ہوتے ہیں۔ اُسے محسوس ہوا کہ کوئی دوسرا بھی اس کے پاس آکر بنچ پر بیٹھ گیا ہے ۔ اُس نے مڑ کے دیکھا تو وہ کوئی بے حد حسین عورت تھی ۔ سفید لباس میں سفید رنگت کے ساتھ اس کا چہرہ انتہائی حسین نین نقش دکھا رہا تھا ۔ عوررت نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا تو اس کو اپنے اندر ایک یخ لہر سی دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ عورت کا ہاتھ انتہائی سرد تھا جیسے اس کے ہاتھ پر برف کا ٹکڑا رکھ دیا گیا ہو۔ پھر اچانک وہ عورت اس کے سامنے سے غائب ہو گئی ، ہاں اس کے ہاتھ کا لمس ابھی تک اسے اپنے ہاتھ پر محسوس ہو رہا تھا۔ کیا کبھی کسی کا اپنا خیال بھی مجسم صورت اختیار کر سکتا ہیـ؟ اُ س نے سوچا۔اس کی واپسی کا وقت ہو چلا تھا۔
تیز ہوتی بارش میں اُس کا جسم درختوں سے اوپر فضا میں جا رہا تھا لیکن اُس کا جسم تو تھا ہی نہیں تو پھر کیا تھا ؟

اکبر شیخ اکبر
بہاول پور ، پاکستان

FacebookTwitterWhatsAppShare

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا