٭ڈاکٹر ایم اعجاز علی (سابق ممبرپارلیمنٹ راجیہ سبھا)
صدر:ـآل انڈیا یونائیٹیڈ مسلم مورچہ
9110102789
امریکہ سے لوٹنے کے بعد وزیراعظم ہند نریندر مودی جی نے بھاجپا کارکنان کی ایک ٹریننگ کیمپ لگائی اور اس میں جن چار ایجنڈوں پر پوری تقریر تھی وہ تھے کنبہ پروری، بدعنوانی، یونیفارم سول کوڈ اور پسماندہ مسلمان۔ اپنے ان یجنڈوں کے ذریعہ انہوںنے جہاںایک طرف اپنے مخالف سیاسی جماعتوںکو کنبہ پروری اور بدعنوانی جیسے دو ایشوز کے آڑ میں انہیں زیر کرنے کی سیکھ بتائی۔ وہیں دوسری طرف یونیفارم سول کوڈ کے ساتھ پسماندہ مسلمان جیسے دوایشوز کو جوڑکر انہوںنے اپنا ووٹ بینک بڑھانے کی ترکیب بتائی ہے۔ کل ملا کر یہ جھلک جاتی ہے کہ اقتدار میںپھر سے لوٹ کر آنے کی مودی حکومت ہرممکن کوشش کرے گی،جس کے لیے پرانے ایشوز کے ساتھ نئے ایشوز کو بھی جوڑے گی۔ اس طرح کی کوشش بھی سیاسی پارٹیاں کرتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں صرف ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے مسلم سماج کو بھی بہت سوچ سمجھ کر اپنی حکمت طے کرنی چاہئے۔ پہلے دو ایجنڈوں سے مسلمانوںکو کوئی خاص مطلب نہیںہے۔ بقیہ یونیفارم سول کوڈ اور پسماندہ مسلم ایشوز پر کیا راستہ اپنایا جائے، اس پر سنجیدگی کے ساتھ کھلے دل ودماغ کے ساتھ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ ہے،اس پر ردعمل در ردعمل دکھانا نادانی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس پر ردعمل دکھانے والوں سے پوچھا جائے کہ انہوںنے یوسی سی کا مسودہ دیکھا ہے تو وہ بغلیں جھانکنے لگیںگے، کیوںکہ وہ سنی سنائی باتوں کو اپنے دل ودماغ میں بیٹھاکر آندولن شروع کردیتے ہیں۔ حکومت سے کہا تو جائے کہ یوسی سی کا پہلے ڈرافٹ تیار کرکے ہندوستانی عوام کے سامنے پیش کرے۔ ہندوستانی سماج کے مختلف سوشل گروپ ہیں، صرف مسلمانوں سے ہی یہ سماج تو نہیں بنا ہے۔ دلت، آدیواسی،آریہ سماج، لنگایت، وکلنگا جیسے کئی سوشل گروپ ہیں۔ انہیں بھی تو مسودہ دیکھنے کا موقع ملے۔ پھر مختلف ریاستیں مثلاً بنگال، نارتھ ایسٹ اسٹیٹس، جنوبی ہند ریاستیں، گجرات، پنجاب وغیرہ اسے کیسے ہینڈل کرتاہے۔ سناتن دھرم کے چار مٹھادھیش (مذہبی رہنما) کا اس پر میل کھاتا ہے کہ نہیں۔ پھر کرشچین، سکھ، بودھ، یہودی، پارسی جیسے مذہب کے ماننے والے کیا ردعمل دکھاتے ہیں۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اتنے بڑے ملک اور جہاں میں رسم ورواج کی بھرمار ہے، اس میںمسلمانوںکو پہلے اور اکیلے لاٹھی لے کر کھڑے ہونے کی ضرورت کیا ہے۔ سبھی فرقے کویہ دیکھنے کا موقع دیا جائے کہ یونیفارم سول کوڈ کس چڑیا کا نام ہے، کون سا نغمہ وہ سناتی ہے۔ اب تک کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب تک یوسی سی کا مسودہ تیار ہوکر ملک واسیوں کے سامنے نہیںآتا ہے تب یہ مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی مسالہ ہے۔ مسلم نمائندوں کی نادانی ہے کہ وہ مسودہ آنے سے پہلے اس طرح کے ایشوز کو نمک مرچ لگاکر سماج کے سامنے ایسا پیش کرتے ہیں کہ پورے ملک میں مذہب کی بنیاد پر ہندو-مسلم ٹکرائو کا ماحول بن جاتا ہے، جس کا فائدہ سبھی سیاسی جماعتیں اٹھاکر نکل جاتی ہیں۔ یہی سین شاہ بانو کیس، بابری مسجد اور تین طلاق میں دیکھا گیا ہے اور مسلمانوںکو ہار نصیب ہوئی ہے۔ کیوں کہ یہ تمام ایشوز بھلے ہی مسلمانوں کے لیے مسئلہ ہو لیکن سنگھ پریوار کے لیے یہ بڑے سیاسی مسالے ثابت ہوئے ہیں۔ اگر پورے ملک اور ہر قوم کے لیے سب سے خطرناک مسئلہ اگر کوئی ایک ہے تو وہ ہے ’کامنل پولیٹکس‘ کا مسئلہ۔ اس خطرناک مسئلے نے ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رکھا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہمارا پڑوسی ملک ’’چین‘‘ آج سپرپاور ہے، جبکہ ہم سے دو سال بعد 1949 میں آزاد ہوا اور اسے بھی فرنگیوں نے ہندوستان کی ہی طرح کھوکھلا کر دیا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ چین میں آزادی کے بعد کامن پولیٹکس نہیں ہوا جبکہ بھارت میں مندر، مسجد، ہندو، مسلمان اور ہندوستان-پاکستان کے علاوہ دوسرے ایشوز پر سیاست ہوتی ہی نہیں۔ آج وشوگرو کی بات ہوتی ہے لیکن جب تک ہندوستان سے دنگے فساد، ماب لنچنگ اور نفرت کی سیاست کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک وشو گرو کی حیثیت پر پہنچنا مشکل ہے۔ اگر ہمیں بھی ہندوستان کو ترقی یافتہ ممالک کی برابری میں لانا ہے تو پہلے کامنل پولیٹکس کا خاتمہ کرنا ہوگا جس کے قانونی پہل کی ضرورت ہے۔ اس کام کے لیے سب سے اچھا اور اثردار راستہ یہی ہے کہ 1989 میں بنائے گئے ایس سی؍ایس ٹی ایکٹ میں مسلمانوں کو شامل کر دیا جائے۔ اگر مذہب کے نام پر ایسا کرنے میں دقت ہے تو پھر کم سے کم کمزور طبقہ کے مسلمانوں کو ہی اس ایکٹ میں شامل کر دیا جائے۔ آج کل ملک کے وزیر اعظم مودی جی، پسماندہ مسلمانوں کو لے کر بہت پریشان ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ملک بھر میں پسماندہ مسلم کو ایس سی؍ایس ٹی ایکٹ میں شامل کرنے کی مہم چلائیں۔ اس سے کامنل تشدد کا اسی طرح سے خاتمہ ہو جائے گا جیسے اسی ایکٹ میں شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائب کو شامل کرنے سے سوشل تشدد کا خاتمہ ہوگیا۔ پھر اس کام کو کرنے میں مرکزی حکومت کو کوئی بجٹ (بڑے) کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ صرف ایک آرڈیننس لانے کی ضرورت ہے پھر چونکہ اس شمولیت سے کسی دوسرے کی حق ماری بھی ہونے کا سوال نہیں ہے۔ لیکن یہ ہو جانے پر ملک کا ماحول ہی ایک سرے سے بدل جائے گا۔ مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ یو سی سی جیسے معاملہ میں وقت برباد کرنے کے بجائے ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ میں پسماندہ مسلمانوں کو شامل کرنے پر زیادہ زور دیں کیونکہ یہ ملک اور قوم دونوں کے حق میں فائدہ مند ہے۔ ہمیں تو ایسا لگتا ہے جیسے مودی جی نے یو سی سی کے ساتھ پسماندہ مسلمانوں کے مسئلے کو اُٹھا کر ہندوستانی مسلمانوں کو جانے انجانے میں ایک موقع دے دیا کہ اس سے وہ خیر نکال لیں۔ ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کے مسئلے یا دفعہ 341 مسئلے کو زور و شور سے اٹھا کر ہم کامنل پولیٹکس کے رخ کو کامن پولیٹکس کی طرف موڑ بھی تو سکتے ہیں۔ ایسا اگر ہم کرتے ہیں تو سمجھئے کہ حالت حاضرہ میں یہ ایک بڑی حکمت کہلائے گی۔
٭٭٭٭