لوگوں کو کارپوریٹروں اور بی جے پی لیڈروں کی رضامندی سے پری پیڈ بل ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امیت کپور
لازوال ڈیسک
جموں؍؍عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر امیت کپور نے آج بڑی تعداد میں پارٹی کارکنوں اور جانی پور کے رہائشیوں کی قیادت میں جموں و کشمیر خاص طور پر جانی پور علاقے میں لوگوں کو پری پیڈ بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور کرنے کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ مرکز کی مودی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس دوران مظاہرین نے مرکز کی مودی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے امت کپور نے کہا کہ محکمہ پی ڈی ڈی لوگوں کو پری پیڈ کے ذریعے بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز بھی جانی پور کے علاقے سے کیا گیا ہے جس کی وہ سخت مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ یہ سب کارپورٹرس اور بی جے پی لیڈروں کی رضامندی سے کر رہا ہے۔امیت کپور نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت نے سال 2021 میں پورے ملک میں پری پیڈ میٹر لگانے کا فیصلہ کیا تھا جس کی بیشتر ریاستوں نے مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بھی ریاستی حکومت نے کچھ علاقوں میں لوگوں کو پری پیڈ یا پوسٹ پیڈ کے ذریعے بل ادا کرنے کا اختیار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ایل جی حکومت کو جموں و کشمیر میں لوگوں کو زبردستی پری پیڈ بل ادا کرنے پر مجبور کرنے کی کیا ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الحال کوئی سیاسی جماعت اس کی مخالفت نہیں کر رہی۔ اپنی پارٹی اور ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی ،بی جے پی کی بی ٹیموں کے طور پر کام کر رہی ہیں جب کہ بی جے پی لیڈران اور کارپورٹرز کی رضامندی سے لوگوں کو پری پیڈ بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور کر کے ظلم کیا جا رہا ہے، اس لیے وہ اس کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اس کی بھرپور مخالفت کرے گی اور سڑکوں پر اس کے خلاف ایک بڑی تحریک شروع کرے گی۔امیت کپور نے کہا کہ دہلی کی طرح جموں و کشمیر کے لوگوں کو بھی یہ اختیار دیا جانا چاہئے کہ وہ پری پیڈ میٹر لگانا چاہتے ہیں یا پوسٹ پیڈ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ اس کے خلاف ایک بڑی تحریک شروع کریں گے اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کی پوری طرح ذمہ دار حکومت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت میں، پی ڈی ڈی سے چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کی توقع تھی اور اس کے مطابق، اس نے اسمارٹ میٹر لگائے اور یہ وعدہ کیا کہ بغیر کٹوتیوں کے بجلی فراہم کی جائے گی۔ تاہم شہر کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی کٹوتی سے صورتحال مزید خراب ہے جس سے پانی کی فراہمی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ نہ صرف بجلی کی غیر مقررہ کٹوتیوں کی وجہ سے پریشان ہیں بلکہ محکمہ بجلی کی جانب سے پری پیڈ میٹروں کی تنصیب کے بعد بجلی کے بھاری بلوں نے لوگوں کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایل جی کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے اور پی ڈی ڈی کے عہدیداروں سے ان کے غیر سنجیدہ رویہ پر سوال اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چوبیس گھنٹے بجلی فراہم نہیں کی جاتی اس کے باوجود صارفین کو بجلی کے استعمال کے بھاری بل بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایل جی جموں و کشمیر سے ذاتی مداخلت طلب کی اور بجلی صارفین کو بھاری بجلی کے بل بھیجنے کی غلطی کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی۔