ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
نئی قومی تعلیمی پالیسی کو متعارف کرانے کے بعد سے ہی ملک کو وشو گرو بنانے کا عوام کو خواب دکھایا جا رہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ پہلے دنیا بھر سے طلبہ یہاں علم حاصل کرنے آتے تھے ۔ اس ضمن میں تکشلا، نالندہ یونیورسٹیوں کی مثال دی جاتی ہے کہ یہ طلبہ کی کشش کا مرکز تھیں ۔ تعلیم و تعلم کا سلسلہ مسلم دور حکومت میں بھی جاری تھا ۔ مہرولی کی جامع الصفات جامعہ مسجد قوۃ السلام میں دس ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے ۔ سکندر لودھی نے تعلیم کو سب کے لئے عام کیا تھا ۔ جبکہ اس سے قبل اعلیٰ خاندانوں کے بچوں کو پڑھنے لکھنے کا حق تھا ۔ مغل دور میں تو کئی شہر شہر علم کہلاتے تھے ۔ تلسی داس نے رامائن مغل بادشاہ اکبر کے دور میں لکھی تھی ۔ سنسکرت میں لکھی گئی کتابوں کا عربی، فارسی و دیگر زبانوں میں اور دنیا بھر کی اہم کتب کا سنسکرت میں ترجمہ ہوا ۔ پنچ تنتر کی جو کہانیاں آج پڑھنے کو ملتی ہیں وہ عربی سے ترجمہ ہو کر ہم تک پہنچی ہیں ۔ اصل کہانیاں سنسکرت میں لکھی گئی تھیں جو کہیں بھی دستیاب نہیں ہیں ۔ اینرجی (تونائی) کو ختم نہیں کیا جا سکتا اس کی شکل بدلی جا سکتی ہے ۔ اس اصول پر سنسکرت میں لکھی گئی کتاب سوریہ پرکاش تفصیل سے بحث کرتی ہے ۔ یہ کتاب عربی میں ترجمہ ہو کر یورپ تک پہنچی ۔ یورپ نے کئی صدیوں کے بعد توانائی کے اصول کو دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ اس طرح بھارت کی تحقیقات کو عربوں نے اور عربوں کی ایجادات کو عرصہ تک بھارت نے آگے بڑھایا ۔ مگر بھارت اور عرب اپنی علمی وراثت اور روایت باقی نہیں رکھ سکے ۔ راجہ و بادشاہوں کی توسیعی سرگرمیوں اور جنگوں میں یہ بیش قیمتی علمی اثاثہ خرد برد ہو گیا ۔ جسے یورپ نے اٹھارویں صدی میں تحقیق و تجربہ کرکے نئے طریقہ سے دنیا کے سامنے پیش کیا ۔
جس خطہ بھارت کا ماضی اتنا روشن رہا ہے، وہ آج تعلیم وتحقیق کے میدان میں چھوٹے چھوٹے ممالک سے بھی پیچھے ہے ۔ اس لئے آٹھ لاکھ طلبہ ہر سال ملک چھوڑ کر بیرونی ممالک پڑھنے جا رہے ہیں ۔ ان کی ٹیوشن فیس پر (تقریباً 6 بلین ڈالر یعنی 45 ہزار کروڑ روپے) جو خرچ ہوتا ہے اتنا بھارت میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ ہے ۔ اگر اس میں ہاسٹل و دیگر اخراجات کو جوڑا جائے تو یہ 28 بلین ڈالر ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب ہے دو لاکھ 17 ہزار کروڑ روپے ۔ جس وقت 2024 میں یہاں انتخابات ہو رہے ہوں گے اس وقت بھارت کے طلبہ دنیا میں تعلیم پر 80 ملین ڈالر یعنی چھ لاکھ تیس ہزار کروڑ روپے خرچ کر رہے ہوں گے ۔ سوال یہ ہے کہ تعلیم کے لئے طلبہ کو ملک سے باہر کیوں جانا پڑ رہا ہے ۔ کیا ملک ان کی تعلیمی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے یا ہمارا تعلیمی نظام طلبہ کو عالمی مقابلہ کے لائق نہیں بنا پا رہا ۔ اس کا جواب دنیا کے تعلیمی اداروں کی رینکنگ سے ملتا ہے ۔ رینکنگ میں بھارت کا نمبر 300 کے بعد شروع ہوتا ہے ۔ یہاں کی جامعات کے ٹاپرس کو اسی ہزار سے ایک لاکھ روپے تنخواہ کی پیشکش ہوتی ہے ۔ جبکہ باہر سے پڑھ کر آنے والے کی تقرری 62 سے 80 لاکھ روپے سالانہ پر ہوتی ہے ۔ یہ فرق تعلیم کے معیار کی وجہ سے ہے ۔
بھارت کے تعلیمی اداروں کی رینکنگ گھٹنے اور طلبہ کو کم آنکے جانے کی دو وجہ سامنے آتی ہیں ۔ اول یہ کہ بڑی تعداد میں یونیورسٹیز میں پروفیسر اور اسکولوں میں اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں ۔ جو سال در سال بڑھتی جا رہی ہیں ۔ صرف مرکزی یونیورسٹیوں میں پروفیسر کی 10814 جگہ خالی ہیں ۔ آئی آئی ٹی میں 3876 اور آئی آئی ایم میں 403 اور باقی جامعات میں 35 فیصد آسامیاں خالی ہیں ۔ اساتذہ کی خالی جگہوں کو پر کرنے کے بجائے عارضی کانٹریکٹ کی بنیاد پر پروفیسرز سے اور اسکولوں میں شکشہ متروں سے کام لیا جا رہا ہے ۔ دوسرے یہ کہ ہمارے یہاں اسپیشلائز کورسز کے لئے انفراسٹرکچر نہیں ہے ۔ موجود سہولت صرف 15 فیصد طلبہ کے لئے ہی ہے ۔ جبکہ بھارت چھوڑ کر باہر جانے والے 70 فیصد بچے اسپیشلائز کورس ہی کرتے ہیں ۔ اور 30 فیصد عام کورسز میں داخلہ لیتے ہیں اس میں تحقیق کا پہلو شامل رہتا ہے ۔ دنیا بھر میں جو تحقیق ہو رہی ہے اس میں بھارتیوں کی کمی نہیں ہے لیکن وہ ملک کے باہر ہیں ۔ بھارت سے سب سے زیادہ بچے امریکہ، کینڈا، یوکے اور اسٹریلیا جاتے ہیں ۔ باقی ممالک میں جانے والوں کی تعداد ان سے کم ہے ۔ روس یوکرین جنگ کے دوران ملک کو یہ اندازہ ہوا کہ کتنے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے باہر جاتے ہیں ۔ طلبہ کو باہر بھیجنے کے معاملہ میں آندھرا پردیش، پنجاب، مہاراشٹر، تمل ناڈو وغیرہ ریاستیں سر فہرست ہیں ۔
ملک میں اس وقت سرکاری و غیر سرکاری 1043یونیورسٹیاں ہیں ۔ ان میں 177 ٹیکنیکل، 63 زراعت، 66 میڈیکل، 23 قانون، 12 سنسکرت اور 11 لینگویج سے جڑی یونیورسٹیاں ہیں ۔ 522 یونیورسٹیوں میں رویتی عام تعلیم ہوتی ہے ۔ اسپورٹ سے جڑی ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے ۔ اس کے لئے باہر جانا ہی پڑے گا ۔ بھارت میں موجود جامعات میں پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے والوں کے لئے کتنی گنجائش ہے ۔ اس کا اندازہ سینئر صحافی پونیہ پرسون واجپئی کی رپورٹ سے ہوتا ہے ۔ ان کے مطابق ہر سال نیٹ کا امتحان سات لاکھ بچے پاس کرتے ہیں ۔ جبکہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں میڈیکل کی کل سیٹیں ہیں 80 ہزار تو سات لاکھ بیس ہزار بچے کیا کریں ۔ یہی صورتحال انجینئرنگ اور مینجمنٹ کی سیٹوں کی ہے ۔ اس پر طرہ یہ کہ ان شعبوں میں ایمپلائمنٹ کی شرح ایک تہائی سے بھی کم ہے ۔ اسی وجہ سے انجینئرنگ اور مینجمنٹ میں بچوں کی دلچسپی کم ہوئی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی بھارت کی تہذیب و تمدن، کلچر کی پڑھائی کرنا چاہے تو اس کا کسی بھی یونیورسٹی میں انتظام نہیں ہے ۔ جبکہ آکسفورڈ اور دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں باضابط بھارتیہ تہذیب و ثقافت کی تعلیم وتحقیق کا کام ہو رہا ہے ۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی کو نافذ کرتے وقت کہا گیا تھا کہ دنیا کی سو سے زیادہ یونیورسٹیاں بھارت میں اپنا کیمپس کھولیں گی ۔ لیکن وہ لسٹ پھسلتے پھسلتے سو سے ساٹھ، ساٹھ سے پچاس، تیس، پندرہ پھر آٹھ پر آکر رک گئی ۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن نے کہا تھا کہ 43 یونیورسٹیز نے بھارت میں دلچسپی دکھائی ہے ۔ مگر بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ 8 یونیورسٹیاں تیار ہیں ۔ حکومت سے منظوری لینے کی لمبی چوڑی کاروائی، تعلیم کو لے کر عوام کا تصور، تعلیم گاہوں میں سیاستدانوں کا دخل، فیس ریگولیشن، فرقہ واریت اور سماج میں تعلیم کو درکنار کئے جانے کے رویہ کو دیکھتے ہوئے انہیں یہاں کا ماحول تعلیم کے لئے سازگار معلوم نہیں ہوا ۔ اس وجہ سے کوئی بھی یونیورسٹی بھارت میں اپنا کیمپس کھولنے کو تیار نہیں ہوئی ۔ سبھی نے یہی کہا کہ ہمارا جو سینٹر قائم ہے اسی سے کام چلا لیجئے ۔ دراصل یہ سینٹر ان طلبہ کے کاغذات پورے کرانے کا کام کرتے ہیں جو باہر تعلیم حاصل کرنے کے لئے جانا چاہتے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں دیئے گئے جواب سے معلوم ہوا ہے کہ دو جگہ کی یونیورسٹیاں بھارت آنے کو تیار ہوئی ہیں ۔ ایک اٹلی کی کوئی پرائیویٹ فیشن یونیورسٹی اور دوسری کا نام کسی کو معلوم نہیں ہے ۔
وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے گجرات کے گاندھی نگر میں گجرات انٹر نیشنل فائنانس ٹیک سٹی کا ورلڈ کلاس کیمپس بنانے کا اعلان کیا تھا ۔ یہ کب تک بن کر تیار ہوگا کوئی نہیں جانتا البتہ تعلیم کے بجٹ میں کی جانے والی کمی سے ملک کا ہر شخص واقف ہے ۔ اگر اعلیٰ تعلیم کے بجٹ کی بات کی جائے تو اس کا 40 فیصد حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوتا ہے ۔ 20 فیصد انفرااسٹرکچر کے لئے مختص ہے ۔ باقی بچے 40 فیصد میں سے 12 فیصد اشتہارات پر اور 28 فیصد میں ریسرچ، نئے اساتذہ کی تقرری، پینشن اور دوسری ضروریات شامل ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کو لے کر کتنے سنجیدہ ہیں ۔ موجودہ سیاسی اقتدار تعلیم کے بہانے زبانی جمع خرچ کے ذریعہ وشو گرو بننے کی ایسی لکیریں کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے کہ لگے ملک میں شاندار تعلیم دی جا رہی ہے ۔ چاہے دنیا کہہ رہی ہو کہ ہم اپنا کیمپس یہاں کیوں کھولیں؟ تو بغیر لکھے پڑھے دنیا پر راج کرنے، وشو گرو بننے کا خواب ایسے کیسے پورا ہوگا ۔