تمام صحت کے کارکنان ماں کا دودھ پلانے کو فروغ دینے کے لیے حلف لیں – ڈاکٹر بی پی رائے

0
0

 

ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک منانے کے لیے ریاستی صحت کمیٹی اور یونیسیف کے زیراہتمام ویبینار
پٹنہ // ریاست کے تمام اضلاع میں 1 سے 7 اگست تک ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس ہفتے دودھ پلانے کو فروغ دینے کے لیے بہت ساری سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں آج ریاستی صحت کمیٹی اور یونیسیف کے زیراہتمام ایک ویبینار کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد عوام میں ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ پروگرام آفیسر چائلڈ ہیلتھ ڈاکٹر بی پی رائے نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں میں ریاست میں ماں کا دودھ پلانے کا فیصد کم ہوا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو اضلاع میں ہونے والی تمام ہفتہ وار میٹنگوں میں تمام ہیلتھ ورکرز ماں کا دودھ پلانے کو فروغ دینے کے لیے حلف اٹھائیں گے اور کمیونٹی کو ہر ممکن طریقے سے دودھ پلانے کے لیے حوصلہ افزائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جن بچوں کو پیدائش کے 1 گھنٹے کے اندر دودھ نہیں پلایا جاتا ان میں نوزائیدہ اموات کا 33 فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے۔
پیدائش کے ساتھ ماں کا دودھ پینا ہر نومولود کا حق ہے:یونیسیف میں غذائیت کے ماہر روی نارائن پاڈھی نے بتایا کہ یہ مختلف تحقیقوں سے ثابت ہوا ہے کہ بچوں کی ذہانت کی سطح جو پیدائش کے ساتھ ماں کا دودھ پیتے ہیں، خصوصی طور پر جو ماں 6 ماہ تک صرف اپنا دودھ پلاتی ہیں اور اس کے بعد جن بچوں کو دو سال تک تکمیلی خوراک کے ساتھ مکمل طور پر دودھ پلایا جاتا ہے۔ جس نے ایسا نہیں کیا ان کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ پیدائش کے ساتھ دودھ پلانا ہر نومولود کا حق ہے بچوں کو اس سے محروم رکھنا کسی جرم سے کم نہیں۔ نوزائیدہ کو 6 ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانا بیماریوں سے لڑنے کا سب سے طاقتور طریقہ ہے۔ روی نارائن پاڈھی نے بتایا کہ دودھ پلانے کے علاوہ عورت کی زچگی اور تولیدی صحت مذکورہ خاتون کے پورے خاندان کی ذمہ داری ہے۔ پیدائش کے ساتھ کنگارو مدر کیئر کا آغاز دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
طبی اداروں میں بریسٹ فیڈنگ روم بنایا جائے گا۔بیملیش سنہا، ڈپٹی ڈائریکٹر، چائلڈ ہیلتھ نے بتایا کہ ہر طبی ادارے میں دودھ پلانے کا کمرہ بنایا جائے گا۔ یہ کمرہ اس ادارے کی او پی ڈی کے قریب اور کنگارو مدر کیئر وارڈ کے علاوہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک کے دوران اے این ایم، آشا ورکرز اور آنگن باڑی سیویکا،ساہیکا گھر۔گھر جاکر حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کو چھ ماہ تک صرف دودھ پلانے کی اہمیت سے آگاہ کریں گی اور بدھ اور جمعہ کو ہر آنگن باڑی سنٹر کا دورہ کریں گی۔ سیویکا اور آشا 2 سال تک کے بچوں کی تمام ماؤں سے اس مہم میں شامل ہونے کو کہیں گے۔ بملیش سنہا نے کہا کہ دسمبر 2022 تک تمام صدر اسپتالوں کو ”بوتل فری کیمپس ” قرار دیا جائے گا۔
ماں کے لیے دودھ پلاتے وقت ماسک پہننا ضروری ہے:یونیسیف نیوٹریشن آفیسر ڈاکٹر شیوانی ڈار نے کہا کہ دودھ پلانے سے پہلے سینوں کو صاف پانی سے صاف کریں۔ اس کے علاوہ کم از کم 40 سیکنڈ تک اپنے ہاتھوں کو صابن سے صاف کریں اور دودھ پلانے سے پہلے ماسک کا استعمال کریں۔ اگر ماں دودھ پلانے کے قابل نہیں ہے، تو خاندان کے کسی فرد کی مدد سے ایک صاف پیالے میں ماں کا دودھ نکال کر اسے چمچ سے پلایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ماں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی چھاتی کو صاف پانی سے دھوئے اور اپنے ہاتھوں کو صحیح طریقے سے سینیٹائز کرے۔ بوتل سے دودھ پلانا ہمیشہ ہی نقصان دہ ہوتا ہے۔ کسی بھی حالت میں بند ڈبے کا دودھ نہ دیں۔

 

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا