شبانہ چھاپوں کے دوران متعدد افراد گرفتار
یواین آئی
سرینگر؍؍جموں وکشمیر پولیس نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے سوپور میں شبانہ چھاپوں کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاریاں ایک تصادم آرائی کے دوران جاں بحق ہونے والے ایک مقامی جنگجو کمانڈر کے جلوس جنازہ میں شرکت کرنے والوں کے خلاف کورونا وائرس سے بچائو کے لئے نافذ لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے کے معاملے میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہیں۔ بتادیں کہ سوپور کے آرم پورہ علاقے میں بدھ کو سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان رونما پذیر ایک تصادم آرائی کے دوران جیش محمد جنگجو تنظیم سے وابستہ سجاد نواب ڈار نامی جنگجو کمانڈر جاں بحق ہوا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنگجو کے جلوس جنازے میں شرکت کرکے سماجی دوری کے پروٹوکول کو توڑنے والوں کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلے میں گذشتہ رات قصبہ سوپور کے زینہ گیر علاقے میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاملے میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں کیونکہ ایسے اجتماعات کے انعقاد سے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کی کوششوں کو دھچکا لگتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نافذ لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تحت قانون سخت کارروائی کی جائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ سوپور کے آرم پورہ علاقے میں بدھ کو ایک تصادم آرائی کے دوران جیش محمد نامی جنگجو تنظیم سے وابستہ کمانڈر سجاد نواب ڈار کے جلوس جنازہ میں شرکت کرنے والوں کے خلاف سوپور پولیس نے اسی دن ایک ایف آئی آر درج کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہلوک جنگجو کمانڈر کے لواحقین نے لکھ کے دیا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے پیش نظر سماجی دوری کو بنائے رکھیں گے جب طبی و قانونی لوازمات کی ادائیگی کے بعد لاش ان کے سپرد کی جائے گی۔عینی شاہدین کے مطابق سوپور کے آرم پورہ علاقے میں مہلوک جنگجو کمانڈر کے جلوس جنازہ میں لاک ڈاؤن کی پراہ کئے بغیر سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں مہلوک جنگجوؤں کے تجہیز وتکفین میں ہزاروں لوگوں کی شرکت سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے فکر مندی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حالیہ برس پابندیوں کے باوصف مہلوک جنگجوؤں کے تجہیز وتکفین میں ہزاروں لوگ شرکت کرنے سے باز نہیں رہے۔سال 2018 میں جاری ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2016 ایجی ٹیشن کے مابعد جنگجوؤں کے جلوس ہائے جنازہ میں لوگوں کی بھاری شرکت سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے فکر مندی کا باعث بن گئی ہے جس کو دور کرنا از حد ضروری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان بھاری تعزیتی اجتماعوں سے ملی ٹنسی کو فروغ اور جنگجوئوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔