لاک ڈاؤن لوگوں کو دبانے کے لئے نہیں ہے: دلباغ سنگھ
یواین آئی
جموں؍؍جموں و کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے نافذ لاک ڈاؤن لوگوں کو دبانے کے لئے نہیں بلکہ ان کے تحفظ کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام الدین مرکز کے اجتماع میں شرکت کرنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور ان کے رابطے میں آنے والوں کو ٹریس کیا جارہا ہے۔موصوف نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ‘لاک ڈاؤن کو لوگوں کو دبانے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کی صحت کے تحفظ کے لئے نافذ کیا گیا ہے لوگوں کو بھی عقل سے کام لینا چاہئے اور اپنا تعاون فراہم کرنا چاہئے’۔دلباغ سنگھ نے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز درج ہونے کے بارے میں کہا: ‘تبلیغی جماعت (جنہوں نے دہلی کے نظام الدین مرکز میں منعقدہ اجتماع میں شرکت کی ہے) کے لوگوں میں مثبت کیسز کی تعداد ٹھیک ٹھاک ہے، ان کو لے کر تمام تر احتیاطی تدابیر کی جارہی ہیں اور اب تک تقریباً سب کو کورنٹائن کیا گیا ہے اور ان کے رابطے میں آنے والے لوگوں کو بھی ٹریس کیا گیا ہے اب اگر کوئی باقی ہے تو اس کی ٹریسنگ کی کارروائیاں جاری ہیں’۔بیرون وادی قرنطینہ عرصہ مکمل کرنے والوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ‘جب تک لاک ڈاؤن جاری ہے تب تک کسی قسم کی نقل وحمل کی اجازت نہیں دی جائے گا تاہم اس دوران لازمی سروسز کسی بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی’۔موصوف پولیس سربراہ نے کہا کہ اگر کہیں اشیائے خورد نوش یا دیگر اشیائے ضروریہ بیچنے والے گراں فروشی کررہے ہیں تو لوگ اس ضمن میں متعلقہ پولیس تھانوں میں کیس درج کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس اپنے افسروں اور جوانوں کی ضروریات صحت کو پورا کرنے کے لئے کوشاں ہے اور ان ضروریات کے پیش نظر محکمہ نے بہت ساری چیزیں جیسے فیس ماسک وغیرہ خود تیار کی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس والے ایسی ایسی جگہوں پر تعینات ہیں جو صحت کے لحاظ سے حساس ہیں، وہ قرنطینہ مراکز پر تعینات ہیں، ریڈ زون علاقوں میں ڈیوٹی کررہے ہیں لہٰذا جب وہ واپس آتے ہیں تو انہیں اپنی صحت کی حفاظت کے لئے ایک ڈی انفکیشن ٹنل سے گذر کر اپنے آپ کو سینی ٹائز کرنا پڑتا ہے