سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کریں تمام میڈیا ادارے :حکومت

0
0
یواین آئی
نئی دہلی؍؍مرکزی وزارت برائے اطلاعات و نشریات نے کورونا وائرس (کووڈ -19) کے متعلق فرضی خبریں دینے کے پیش نظر سپریم کورٹ کے فیصلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے تمام پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو اس پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی ہے ۔وزارت نے آج یہاں ایک حکم نامہ جاری کر کے اس کی کاپی پریس کونسل، نیوز براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن نیشنل، انڈین براڈ کاسٹنگ فاؤنڈیشن کو بھیجی ہیں تاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جا سکے ۔سپریم کورٹ نے حکومت کو ملک میں کورونا وائرس سے متعلق فرضی خبریں دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی منگل کو ہدایت دی تھی ۔ مرکز نے سرکاری مشینری سے حقائق کی تصدیق کئے بغیر ‘ کووڈ -19’ سے متعلق کوئی بھی رپورٹ شائع یا نشر کرنے سے روک کی ہدایات جاری کرنے کے لئے عدالت سے درخواست کی تھی ۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے اور جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی خصوصی بنچ نے ملک بھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے مہاجر مزدوروں کے لئے پیدا ہوئے مسائل کے تدارک کے لئے ہدایات جاری کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کئی ہدایات بھی جاری کیں ۔بینچ نے ایڈووکیٹ الکھ آلوک شریواستو اور رشم بنسل کی عرضیوں کی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مشترکہ سماعت کے دوران نہ صرف مرکزی حکومت کی طرف سے آن لائن پیش کی گئی سٹیٹس رپورٹ کا تفصیلی مطالعہ کیا، بلکہ سالیسٹر جنرل کی جانب سے پیش کی گئی دلائل کو بھی سنجیدگی سے سنا ۔ مرکزی حکومت نے 39 صفحات پر مشتمل سٹیٹس رپورٹ کے 56 ویں پیراگراف میں میڈیا میں کورونا وائرس سے متعلق غیر مصدقہ خبروں کی اشاعت و نشریات پر روک لگانے کے لئے عدالت سے درخواست کی ہے ۔ مرکز نے کہا ہے کہ عدالت اعظمیٰ کو یہ ہدایات جاری کرنی چا ہے تا کہ کوئی بھی میڈیا ادارہ کوروناوائرس کے ساتھ منسلک خبروں کی متعلقہ حکام سے تصدیق کئے بغیر نہ تو پرنٹ میڈیا میں شائع، نہ ہی چینلوں پر یا ویب سائٹس پر نشر کرے ۔ سٹیٹس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر مصدقہ خبروں کی اشاعت و نشریات سے بلا جواز لوگوں میں افراتفری پیدا ہو گی ۔ اپنے دفتر ہی سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مرکز کا موقف رکھ رہے مسٹر مہتا نے سماعت کے دوران بھی فرضی خبروں پر نکیل کسنے کی عدالت سے درخواست کی تھی، جس کے بعد بینچ نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا ، ٹویٹر، فیس بک، اسٹاگرام وغیرہ پر فرضی خبریں شائع کرنے والوں کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہئے اورقانونی کارروائی کی جانی چاہئے ۔
FacebookTwitterWhatsAppShare

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا