سرینگر میں آگ کی وردات میں میاں بیوی اور ان کی کمسن بیٹی از جان

0
0

یواین آئی

سرینگر؍؍سری نگر کے خانیار علاقے میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب آگ کی ایک بھیانک وردات میں میاں بیوی اور ان کی تین سالہ بیٹی جھلس کر لقمہ اجل بن گئے جبکہ ان کی بڑی بیٹی معجزاتی طور پر بچ گئی۔دریں اثنا سری نگر ضلع انتظامیہ نے اس بھیانک آگ کی واحد متاثرہ بچی کے حق میں 15 لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے تعلیمی اخراجات کی بھی ذمہ داری لی ہے۔ضلع مجسٹریٹ سری نگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کہا کہ متاثرہ بچی کے اکونٹ میں 15 لاکھ روپے بطور معاوضہ جمع کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ بچی کے تعلیمی و دیگر اخراجات بھی برداشت کرے گی۔ذرائع کے مطابق پائین شہر کے شیشگری محلہ خانیار میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب جاوید احمد نامی ایک شہری کے رہائشی مکان سے آگ نمودار ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ آگ کی اس بھیانک واردات میں میاں بیوی اور ان کی تین سالہ بیٹی جھلس کر لقمہ اجل بن گئے۔مہلوکین کی شناخت جاوید احمد اس کی بیوی صوفیہ اور ان کی تک سالہ بیٹی حفصہ کے بطور ہوئی ہے۔ طفیل احمد نامی ایک ہمسایہ کا کہنا ہے کہ قریب سوا ایک بجے رات اس مکان سے آگ نمودار ہوئی اور آناً فاناً میں مکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔انہوں نے کہا کہ مہلوک چھ ماہ سے اس مکان میں رہائش پذیر تھا اور اپنا نیا مکان تعمیر کررہا تھا جس میں اس کو جلد ہی منتقل ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی لیکن ان کو بچا نہ سکے لیکن ان کی بڑی بیٹی کسی طرح باہر آنے میں کامیاب ہوئی۔ظہور احمد نامی ایک شہری جو شیشگری محلے کا ہی باشندہ ہے، کا کہنا ہے کہ میں نے دو بجے رات آگ کے بارے میں سنا لیکن بابا ڈیمب میں قائم فائر اسٹیشن والے یہاں نہیں پہنچے۔انہوں نے کہا کہ آگ کی اس وردات میں میاں بیوی کے ساتھ جو بچی از جان ہوئی ہے وہ جسمانی طور ناخیز تھی۔ ادھر پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہیں۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا