’ڈھول کے پول ‘ثابت ہوئے انتخابات ایگزٹ پول!

0
0

بی جے پی نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بڑی جیت درج کی،تلنگانہ پر کانگریس کا قبضہ
یواین آئی

نئی دہلی؍؍لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اتوار کو اپنی مقبولیت کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے تین ہندی بولنے والی ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بڑی جیت درج کی۔تلنگانہ سمیت چار ریاستوں کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی میں بی جے پی کی اہم حریف کانگریس کو راجستھان اور چھتیس گڑھ میں دھچکا لگا اور وہ ان دونوں ریاستوں میں اپنی حکومت کھو بیٹھی لیکن پارٹی نے جنوب کی ایک اہم ریاست تلنگانہ میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی جب اس نے ریاست کے قیام کے بعد سے مسلسل 10 سال تک حکمران بھارت راشٹرا سمیتی (بی آرایس) کواکھاڑ پھینکا۔بی جے پی، جس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کے رتھ پر سوار ہوکر چاروں ریاستوں میں الیکشن لڑا، اس نے راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس سے اقتدار چھین لیا اور اس بار اپنے پرانے گڑھ مدھیہ پردیش میں بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا اورپارٹی اقتدار مخالف لہر کے اندازوں کو جھٹلاتے ہوئے دوتہائی سے بھی زیادہ سیٹیں جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔چار ریاستوں کی آخری اطلاعات کے مطابق 230 رکنی مدھیہ پردیش اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی نے 163 سیٹیں جیت لیں تھی جب کہ ریاست میں کانگریس نے 66 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ راجستھان میں کل 199 سیٹوں پر ہوئے انتخابات میں بی جے پی نے115 سیٹیں جیت لی ہیں جب کہ حکمراں جماعت نے 69 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور 14نشستیں دیگر جماعتوں وآزاداُمیدواروں کے کھاتے میں گئی ہیں۔چھتیس گڑھ کی کل 90 سیٹوں میں سے بی جے پی کے امیدوار 54 سیٹ جیت لیں۔ کانگریس نے 35 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ۔تلنگانہ میں کل 119 سیٹوں میں سے کانگریس 64 سیٹوں پر قبضہ حاصل کیا ۔ بی آر ایس کو 39 سیٹیں ملی ہیں ،یہاں اے آئی ایم آئی ایم نے 7نشستیں حاصل کی ہیں۔واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی 2018 کے انتخابات میں تقریباً ایک سال کانگریس کے ہاتھوں اقتدار گنوانے کو چھوڑ کر مسلسل پانچویں بار حکومت بنانے جا رہی ہے۔مدھیہ پردیش میں گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے 114 سیٹیں جیتی تھیں جب کہ بی جے پی نے 109 پر کامیابی حاصل کی تھی۔بعد میں مسٹر جیوترادتیہ سندھیا کی قیادت میں پارٹی لیجسلیچر پارٹی کے ایک دھڑے کے بی جے پی میں شامل ہونے کی وجہ سے کمل ناتھ حکومت گر گئی تھی۔گزشتہ انتخابات میں راجستھان میں کانگریس کو 100، بی جے پی کو 73 سیٹیں ملی تھیں۔ چھتیس گڑھ میں کانگریس کو 68 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اور بی جے پی 15 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی۔تلنگانہ میں 2018 میں بی آر ایس نے 88 اور کانگریس نے 19 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔بی جے پی نے اس جیت کو وزیر اعظم نریندر مودی کے تئیں مضبوط اعتماد اور بی جے پی حکومتوں کی عوامی فلاحی پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں کا نتیجہ قرار دیا۔مسٹر مودی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر انتخابی نتائج پر اپنے ابتدائی تبصرے میں کہا، ’’مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے انتخابی نتائج بتارہے ہیں کہ عوام کا اعتماد صرف اور صرف گڈ گورننس اور ترقی کی سیاست میں ہے۔ اس کا بھروسہ بی جے پی پر ہے۔کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے تلنگانہ کے ووٹروں کا اپنی پارٹی پر اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پارٹی تین ریاستوں میں اپنی شکست سے مایوس ہوئے بغیر اگلا لوک سبھا الیکشن انڈیا اتحاد پارٹیوں کے ساتھ دوہرے جوش و جذبے کے ساتھ لڑے گی۔کانگریس کے کچھ لیڈروں اور کارکنوں نے پھر سے ای وی ایم کا مدا اٹھایا اور پارٹی کے کچھ کارکنان ای وی ایم کے خلاف پلے کارڈز لے کر کانگریس ہیڈکوارٹر پر احتجاج کرتے نظر آئے۔تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی پارٹی کی شکست کو قبول کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ان چار ریاستوں کے ساتھ میزورم اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی پیر کو ہوگی۔یہاں یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ ملک کی چار بڑی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے نتائج ایگزٹ پول کے نتائج کے بالکل برعکس آئے ہیں۔ اصل نتیجہ میں جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے تین ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اپنا جھنڈا لہرایا، وہیں کانگریس نے تلنگانہ کے قیام کے بعد گزشتہ دس برسوں سے اقتدار میں رہی بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کو اقتدار سے ہٹایا۔ جبکہ میزورم میں ووٹوں کی گنتی پیر کو ہوگی۔زیادہ تر ایجنسیوں کے ایگزٹ پولز میں جہاں کانگریس کو چھتیس گڑھ میں واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر آرہی تھی وہیں راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ دکھایا گیا تھا۔ ایگزٹ پولنگ ایجنسیوں کے نتائج تلنگانہ کے معاملے میں بڑی حد تک درست ہیں جہاں کانگریس نے بی آر ایس کو بری طرح شکست دی ہے۔ ایگزٹ پولز کے مختلف نتائج کے مطابق بی جے پی نے چھتیس گڑھ میں کانگریس سے نہ صرف جیت چھین لی ہے بلکہ جیت کے مارجن میں بھی اضافہ کیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے دو تہائی سے زیادہ سیٹیں جیت کر اب تک کی اپنی بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔چھتیس گڑھ میں اب تک کے نتائج میں بی جے پی نے 32 سیٹیں جیتی ہیں اور 22 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے جبکہ کانگریس 18 سیٹیں جیت کر 17 سیٹوں پر آگے ہے۔ ایگزٹ پول میں روزنامہ بھاسکر نے کانگریس کو 46 سے 55 سیٹیں، بی جے پی کو 35 سے 45 اور دیگر کو 0 سے 10 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا تھا۔ انڈیا ٹی وی-سی این ایکس نے یہ بھی کہا تھا کہ کانگریس کو 46 سے 56 سیٹیں ملیں گی، بی جے پی کو 30 سے 40 سیٹیں اور دیگر کو 3 سے 5 سیٹیں ملیں گی۔ نیوز 24 اور ٹوڈے چانکیا نے چھتیس گڑھ میں کانگریس کو 57، بی جے پی کو 33 اور دوسروں کو ایک بھی سیٹ نہیں دی تھی۔ ٹی وی 9 بھارت ورش اور پولسٹریٹ نے پیش گوئی کی تھی کہ کانگریس کو 40 سے 50 سیٹیں، بی جے پی کو 35 سے 45 اور دیگر کو تین سیٹیں ملیں گی۔آج کی ووٹوں کی گنتی میں بی جے پی نے راجستھان میں سو کا ہندسہ عبور کرتے ہوئے 114 سیٹیں جیتی ہیں اور 01 سیٹ پر آگے ہے۔ اس بار کانگریس کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور اس نے 67 سیٹیں جیتی ہیں اور 02 سیٹوں پر آگے چل رہی ہے۔راجستھان کے ایگزٹ پول میں روزنامہ بھاسکر نے کہا تھا کہ بی جے پی کو 98 سے 105 سیٹیں ملیں گی، کانگریس کو 85 سے 95 سیٹیں اور دیگر کو 10 سے 15 سیٹیں ملیں گی۔ انڈیا ٹوڈے اور ایکسس مائی انڈیا نے بی جے پی کو 80 سے 100 سیٹیں، کانگریس کو 86 سے 106 سیٹیں اور دیگر کو 9 سے 18 سیٹیں ملنے کی پیش گوئی کی تھی۔ ٹی وی 9 بھارت ورش اور پولسٹریٹ نے بی جے پی کو 100 سے 110 سیٹیں، کانگریس کو 90 سے 100 سیٹیں اور دیگر کو 5 سے 15 سیٹیں ملنے کا اندازہ لگایا تھا۔آج کی ووٹوں کی گنتی میں کانگریس نے تلنگانہ میں 56 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور وہ 08 سیٹوں پر آگے ہے جبکہ بی آر ایس نے 32 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور 07 سیٹوں پر آگے ہے۔ بی جے پی نے چار سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور چار پر آگے ہے۔اس جنوبی ریاست کے ایگزٹ پول میں انڈیا ٹی وی-سی این ایکس نے کہا تھا کہ کانگریس کو 63 سے 39 سیٹیں ملیں گی، بی آر ایس کو 31 سے 47 سیٹیں ملیں گی، بی جے پی اتحاد کو 2 سے 4 اور اے آئی ایم ایم کو 5 سے 7 سیٹیں ملیں گی۔ ریپبلک ٹی وی میٹرکس نے کانگریس کو 58 سے 68 سیٹیں، بی آر ایس کو 46 سے 56 سیٹیں، بی جے پی اتحاد کو 4 سے 9 سیٹیں اور اے آئی ایم ایم کو 5 سے 7 سیٹیں ملنے کی پیش گوئی کی تھی۔ ٹی وی 9 بھارت ورش۔پولسٹریٹ نے کہا تھا کہ کانگریس کو 49 سے 59 سیٹیں ملیں گی، بی ا?ر ایس کو 48 سے 58 سیٹیں ملیں گی، بی جے پی اتحاد کو 5 سے 10 اور اے آئی ایم ایم کو 6 سے 8 سیٹیں ملیں گی۔بی جے پی نے مدھیہ پردیش میں اپنی پچھلی جیت کو برقرار رکھا۔ ووٹوں کی گنتی میں پارٹی نے 114 سیٹیں جیتی ہیں اور 44 سیٹوں پر آگے ہے۔ وہیں کانگریس تقریباً 65 سیٹوں تک محدود دکھائی دے رہی ہے۔ اب تک جاری کردہ نتائج میں پارٹی نے 35 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور 30 ??سیٹوں پر آگے ہے۔مدھیہ پردیش کے ایگزٹ پول میں روزنامہ بھاسکر نے پیش گوئی کی تھی کہ کانگریس کو 105 سے 120 سیٹیں ملیں گی، بی جے پی کو 95 سے 115 سیٹیں اور دیگر کو 0 سے 15 سیٹیں ملیں گی۔ نیوز 24 – ٹوڈے چانکیا نے کہا تھا کہ کانگریس کو 74 سیٹیں ملیں گی، بی جے پی کو 151 سیٹیں اور دیگر کو پانچ سیٹیں ملیں گی۔ ریپبلک ٹی وی میٹرکس نے کانگریس کو 97 سے 107 سیٹیں، بی جے پی کو 118 سے 130 سیٹیں اور دیگر کو 0 سے 2 سیٹیں ملنے کی پیش گوئی کی تھی۔ٹی وی 9 بھارت ورش۔پولسٹریٹ نے پیش گوئی کی تھی کہ کانگریس کو 111 سے 121 سیٹیں، بی جے پی کو 106 سے 116 اور دیگر کو 0 سے 6 سیٹیں ملیں گی۔ایگزٹ پول کے نتائج کے مطابق میزورم میں بھی ایم این ایف اورزیڈ این پی کے درمیان سخت لڑائی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ میزورم اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی پیر کو ہوگی۔

FacebookTwitterWhatsAppShare

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا