الرئيسية بلوق الصفحة 5

سروانند کول پریمی انسان دوست، نامور اسکالر، محب وطن، استاد اور ایک سماجی شخصیت تھے

0

 

راجندر پریمی

9871034686
سروانند کول پریمی کی ایک ہفتہ طویل پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا اختتام پوجا ارچنا کے ساتھ ہوا۔لیجنڈری سروانند کول پریمی کی صد سالہ پیدائش کی ایک ہفتہ طویل تقریبات نئی دہلی میںلودھی روڈ کے سائی بابا مندر میں خاندان کی طرف سے پوجا ارچنا کی پیشکش کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔اس موقع پرخاندان نے آنجہانی کے لئے دعا کی، جو 1990 میں کشمیر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے، یہ خاندان کے یقین پر ایک شدید دھچکا تھا ۔

https://en.wikipedia.org/wiki/Sarwanand_Koul_Premi
پریمی دو نومبر1924 کو اننت ناگ ضلع کے صوف شالی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔اس سال 2 نومبر کو ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا آغاز ان کے آبائی اسکول سے ہوا، جو اب ان کے نام پر ایک ہائر اسکنڈری اسکول ہے۔وہیںمقامی حکام اور اسکول کی جانب اسکول پرنسپل کی قیادت میں تقریب کا انعقاد ہو ا جس میں مقامی لوگوں، طلباء ، عملے اور انتظامیہ کی جانب سے آنجہانی کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
سروانند کول ایک مشہور فریڈم فائٹر، نامور انسان دوست، ایک پرجوش گاندھیائی، ایک نامور اسکالر، محب وطن، استاد اور ایک سماجی مصلح تھے۔ وہ کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اپنے ادبی اور ثقافتی کام کے لیے بہت مشہور تھے۔ وہ ایک معروف شاعر، صحافی اور نامور مصنف بھی تھے۔ انھوں نے تقریباً 3 درجن کتابیں تصنیف کیں اور اپنے پیچھے بہت سے مخطوطات چھوڑے، وہ ایک سخت گیر سیکولرسٹ تھے اور قومی تفہیم کے لیے مسلسل کام کرتے رہے۔
دریںا ثناء ساہتیہ اکیڈمی نئی دہلی اور جموںو کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لٹریچر نے نامور شاعر کے مونوگراف شائع کیے ہیں۔زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی نمایاں خدمات کو اجاگر کیا گیا۔انھیں جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت نے زبان، ادب اور تعلیم کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے لیے 1997 میں گولڈ میڈل اور انعام سے نوازا اور 2021-22میں انہیں لائیف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔مرکزی حکومت نے بھی کسی حد تک ان کی خدمات کو تسلیم کیا۔دہلی کے مختلف میٹرو اسٹیشنوں پر اپنا پینل کٹ آؤٹ لگا کرانہیں یاد کیا گیا۔وزارت مواصلات کی طرف سے 13.10.2021 کو ایک خصوصی پوسٹل کور بھی جاری کر کے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔
اس ضمن میں مقتول شاعر کے بڑے بیٹے شری راجندر پریمی نے کہا کہ حال ہی میں 7 نومبر 2024 کو، ساہتیہ اکادمی نئی دہلی کے کشمیری ایڈوائزری بورڈ کی طرف سے، گورنمنٹ ایم ایل ہائیر سیکنڈری اسکول بجبہاڑہ میں، پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے حصے کے طور پر ایک دن کا پروگرام منعقد کیا گیا۔جہاں مقررین نے زندگی کے مختلف شعبوں میں آنجہانی پریمی کی عظیم شراکت پر روشنی ڈالی۔

 

https://lazawal.com/?page_id=179131

55 واں اِفّی : ثقافتوں کے مابین واقع فاصلوں کو پْر کرنے والا ، اساطیری شخصیات کو اعزاز بخشنے والا ، مستقبل کی سمت کا تعین کرنے والا میلہ

0

 

 

چیتنیا کے پرساد

 

(ڈی ایف ایف کے سابق ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل اور اِفّی کے سابق فیسٹیول ڈائرکٹر )
بھارت کا 55واں بین الاقوامی فلمی میلہ (اِفی) 20 نومبر سے 28 نومبر کے درمیان گوا کے خوبصورت ساحلوں پر سنیما سے متعلق تقریبات کی ایک تازہ لہر لانے کے لیے مستعد ہے۔ اس سال کا میلہ فلم کی جھلک پیش کرنے کے علاوہ اور بہت کچھ لے کر آئے گا؛ یہ عالمی ثقافتوں کا ایک اتصال ہوگا، ابھرتی ہوئی آوازوں کی آواز کا مخزن ہوگا اور بھارت کی سنیما کی وراثت کے تئیں ایک گہرا خراج عقیدت بھی ہوگا۔ افی 2024 آگے کی جانب اٹھایا گیا ایک بے باکانہ قدم ہے، نہ صرف اپنے بالیدہ ہونے کے لحاظ سے بلکہ ایک ایسے ممتاز بین الاقوامی فلمی میلے کے طور پر جس کے تحت دونوں یعنی بھارت کی فعال ثقافت اور سنیما کے فن کو مطلع عالم پر جشن کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔

https://open.spotify.com/track/0QLMZAMAl67e776FRFevDL
اس سال، اِفّی نے یہاں آسٹریلیا کو ’’خصوصی توجہ کے ملک کے طور پر‘‘ پیش کیا ہے، اس کے تحت ثقافتوں میں واقع فاصلوں کو پر کرنے اور بین الاقوامی رواداری کو فروغ دینے کے سلسلے میں میلے کی عہد بندگی پر زور دیا جائے گا۔ اس شعبے کے تحت بھارتی ناظرین کو آسٹریلیا کے سنیما کی گہرائیوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے مدعو کیا جائے گا جس کے ذریعہ وہ مخصوص فلموں کے انتخاب کی جستجو کریں گے اور یہ فلمیں جاندار ڈراموں سے لے کر مخاطری کامیڈیوں اور غور و فکر کی دعوت دینے والی دستاویزی حصے پر مشتمل ہوں گی۔ اس مخصوص مرتکز لینس کے توسط سے ناظرین آسٹریلیا کی منفرد اور پروان چڑھتی ہوئی سنیمائی زبان کا تجربہ کر سکیں گے۔ یہی چیز افی کو مختلف النوع ثقافتی پہلوئوں کی ستائش اور پیش کش کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بناتی ہے جہاں اس پر مکالمہ بھی ہوتا ہے۔ ایسا کرکے اِفّی 2024 روایتی فلمی اسکریننگ سے کہیں آگے بڑھ کر ایک عمیق اثرات کا حامل تجربہ فراہم کرنے والا ذریعہ بن جاتا ہے اور یہی چیز اس میلے کو مختلف داستانوں، عوام اور دنیا کی ثقافتوں کے مابین ایک پل کے طور پر کام کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔
اِفّی 2024 کا نوع بہ نوع اضافہ، بھارتی فیچر فلموں کے سب سے ’’بہترین اولین ڈائرکٹر ‘‘ کا ایوارڈ یہ اگلی پیڑھی کے بھارتی فلم سازوں کے معاملے میں ایک نمایاں خصوصیت کا حامل ہوگا۔ یہ ایوارڈ محض ایک اعتراف نہیں ہے بلکہ کسی نوجوان ڈائرکٹر کے عرصہ عمل میں یہ ایک محوری لمحہ ہوگا۔ اس کے ذریعہ بھارتی سنیما کے نئے تناظر کے لیے راستہ ہموار ہوگا۔ اس زمرے کو پہلی مرتبہ ہدایت کاری کے فرائض انجام دینے والوں کے لیے وقف کرنا، اِفّی اس کے ذریعہ اختراعی آوازوں کو پروان چڑھانے کی اپنی عہد بندگی اور انہیں فزوں تر ہوتی ہوئی مسابقتی صنعت میں اپنی شناخت بنانے میں مدد کرنے کا اشارہ بھی دے گی۔ جہاں ایک جانب متعدد بین الاقوامی فلمی میلے پہلے سے مقام کے حامل باصلاحیت افراد پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، افی کے ذریعہ پہلی مرتبہ فلم سازوں کی کوششوں کے اعتراف کا عمل ایسا ہے جس سے بھارتی سنیما کی نمو اور مستقبل کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں اس کی عہدبندگی اجاگر ہوتی ہے۔
اس سال کا میلہ بھارتی سنیما کی چار معروف شخصیات کو بھی خراج عقیدت پیش کرے گا۔ ان شخصیات میں راج کپور، تپن سنہا، اکی نینی ناگیشور رائو (اے این آر) اور محمد رفیع کے نام شامل ہیں۔ ان اساطیری شخصیات نے بھارتی سنیما کی وراثت کو سمت عطا کی اور متعدد پیڑھیوں کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔ منتخبہ کلاسیکی اور خصوصی طور پر تخلیق کردہ پیشکشوں کے ذریعہ، اِفّی نئی پیڑھی کے لیے فنکاری کو زندہ جاوید شکل میں پیش کرے گا اور بین الاقوامی ناظرین کو بھارت کے مالا مالا سنیما کی تاریخی کی بامعنی جھلک بھی دکھائے گا۔ یہ خراج عقیدت بھارتی سنیما کی گہرائی کی ایک یادگار بھی ہوگا، ثقافت پر مرتب ہوئے اس کے تغیراتی اثرات کا بھی حامل ہوگا اور ان مشعل برداروں کی پائیدار معنویت کو بھی اجاگر کرے گا۔
اِفّی کا فلم بازار، اب یہ اپنے 18 برس مکمل کر چکا ہے، یہ ایک فعال مارکیٹ پلیس ہے جہاں فلم سازوں، فائننسروں، ڈسٹری بیوٹرس اور بین الاقوامی صنعت کے قائدین کو یکجا ہونے کا موقع حاصل ہوتاہے۔ ویونگ روم میں 200 سے زائد دکھائی جانے والی فلموں کے ساتھ فلم بازار ایک ایسی جگہ ہے جہاں کہانیاں سرمایہ کاروں کو تلاش کرتی ہیں ، فلمیں ڈسٹری بیوٹروں سے مربوط ہوتی ہیں اور اشتراک قائم ہوتے ہیں۔ یہ کلی طور پر اپنے مقصد کے لیے وقف پلیٹ فارم اِفّی کو اسکریننگ پر مرتکز دیگر تیوہاروں سے علیحدہ حیثیت عطا کرتا ہے۔ یہاں پروجیکٹروں کو نمو پذیر ہونے کا موقع حاصل ہوتا ہے اور یہ پروجیکٹ اس میلے کے دائرے سے بھی آگے بڑھ کر پروان چڑھتے ہیں۔ دونوں یعنی بھارتی اور بین الاقوامی فلم سازوں کے لیے، فلم بازار ایک داخلی دروازے کا کام کرتا ہے جہاں سے وہ عالمی ناظرین تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور ایک ایسے نایاب نیٹ ورک کو ملاحظہ کرنے کا موقع حاصل کرتے ہیں جس کے ذریعہ وہ مستقبل کے پروجیکٹوں کو حاصل کر سکتے ہیں۔
اِفّی کا انڈین پینورما سیکشن اس میلے کا ایک خصوصی امتیازی نشان بن چکا ہے۔ اس کے تحت ناظرین کو ہم عصر بھارتی سنیما کے مختلف النوع اور متنوع انتخاب ملاحظہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ 25 فیچر فلموں اور 20 غیر فیچر فلموں کے ساتھ جنہیں ان کی سنیمائی عمدگی، موضوعاتی ہمہ گیری اور جمالیاتی خلاقیت کے لیے منتخب کیا گیا ہے، بھارتی پینورما بھارتی داستان گوئی کی فعالیت اور تنوع کو اجاگر کرتا ہے۔ بین الاقوامی ناظرین کے لیے یہ بھارت کے سماجی- ثقافتی پیش منظر کی حقیقی تفہیم فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت علاقائی بیانیوں سے لے کر پیش رو تجربات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ یہ سیکشن اِفّی کے اس مشن کو ایک نئی قوت عطا کرتا ہے جس کے تحت اِفّی بھارتی سنیما کو اس کی تمام تر گہرائیوں اور تنوع کے ساتھ پیش کرتا ہے، اور اس طرح اسے عالمی فلم مکالمے کا ایک بیش بہا حصہ بنا دیتا ہے۔
اِفّی 2024 کی ایک نمایاں خصوصیت پر مبنی پہل قدمی ’’مستقبل کے خلاقانہ ذہن ہیں‘‘ (سی ایم او ٹی)، یہ ایک ایسا پروگرام ہے جسے وزارت اطلاعات و نشریات اور قومی فلم ترقیاتی کارپوریشن (این ایف ڈی سی) نے وضع کیا ہے اور یہ پروگرام نوجوان فلم سازوں کو پروان چڑھانے کے لیے وقف ہے۔ سی ایم او ٹی ابھرتی آوازوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ مختصر فلمیں، دستاویزی فلمیں اور اینی میشن کی جھلک پیش کر سکتیہیں۔ اس کے ذریعہ تجربے کار صنعتی پیشہ واران سے روابط استوار ہوتے ہیں۔ سی ایم او ٹی کے توسط سے نہ صرف نوجوان باصلاحیت افراد کو اجاگر کر رہا ہے بلکہ بھارتی فلم سازوں کی اگلی پیڑھی کو بھی بااختیار بنا رہا ہے یعنی انہیں کامیاب ہونے کے لیے وسائل اور روابط فراہم کر رہا ہے۔ اس پہل قدمی نے افی کے کردار کو ایک ایسے میلے کے طور پر استحکام بخشا ہے جو ایک تقریب سے بڑھ کر خلاقیت اور نمو کے لیے پروان چڑھانے والی زمین بن جاتا ہے۔
بھارت پَرو کے مقصد سے ہم آہنگ رہتے ہوئے، کانز 2024 میں حاصل ہوئی عالمی توجہ کے ساتھ اِفّی بھارت کے متنوع ثقافتی ورثے کو ایک تقریب کی شکل میں بھی پیش کرے گا۔ بھارت پَرو، جو ایک ایسی مہم ہے جس کے تحت کثرت میں وحدت کی بھارت کی مالامال روایات اجاگر ہوتی ہیں، اس کے تحت اِفّی میں اس کے سنیمائی اظہار کے مواقع فراہم ہوتے ہیں، جہاں پیش کی جانے والی فلمیں، تقریبات اور پروگرام بھارت کی کثیر پہلوئی شناخت کو اجاگر کرتیہیں۔ بھارت ثقافت کی یہ تقریب بین الاقوامی ناظرین کو ایک عمیق تجربہ اور بھارتی تاریخ کی گہری تفہیم فراہم کرتی ہے، اس کے ذریعہ وہ سنیما کے طاقتور لینس کے توسط سے اس کے ورثے کو سمجھنے کا ایک موقع حاصل کرتیہیں۔
اِفّی 2024 بھارتی سنیما کے لیے ایک تغیراتی لمحے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ بھارتی فلم سازوں کو مطلع عالم تک رفعت دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم کا کام کر رہا ہے۔ ابھرتی ہوئی صلاحیتوں، عالمی اشتراک اور ثقافتی تبادلے کے سلسلے میں میلے کے ذریعہ دیا جانے والا زور فنون کے معاملے میں ایک عالمی قائد بن جانے کی بھارت کی خواہش کے پہلو کو بھی مربوط کرتا ہے۔ اِفّی کے ذریعہ صنعت پر مبنی پہل قدمیوں کو جس طرح سے منفرد انداز میں مربوط کیا گیا ہے، نئی آوازوں کو اعتبار بخشا گیا ہے اور سنیمائی ورثے کو جس پرزور طریقے سے پیش کیا جائے گا، یہ تمام امور بھارتی سنیما کی نمو میں ایک محوری کردار ادا کریں گے اور مطلع عالم پر اس کا بہتر استقبال ہوگا۔ اس سال کے ایڈیشن میں صنعت پر ایک ناقابل فراموش اثر مرتب ہوگا۔ اِفّی بطور میلہ نہیں بلکہ یہ بھارت کے سنیماکی ثقافت کا ایک مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل کے تعین کے معاملے میں ایک سرگرم قوت بن کر ابھرے گا۔
بین الاقوامی فلم سازوں کے لیے، اِفّی 2024 بھارتی فعال سنیمائی پیش منظر سے مربوط ہونے کے لیے ایک بے مثال موقع فراہم کرتا ہے۔ متنوع ناظرین تک رسائی کا ایک موقع فراہم کرکے، فلمی بازار کے وسائل تک رسائی فراہم کرکے اور آسٹریلیا کے شوکیس جیسے سیکشنوں کے ساتھ مربوط ہوکر، اِفّی بین الاقوامی فلم سازوں کو بھارت کی پسند اور یہاں کے ذوق کی تفہیم کا موقع فراہم کرے گا، رجحانات اور مواقع کو سمجھنے کا ذریعہ بنے گا۔ معروف بھارتی فنکاروں کو اِفّی کی جانب سے پیش کیے جانے والے خراج عقید ت کا عمل بھی ایک ایسا مالا مال ثقافتی پس منظر ہوگا جو بین الاقوامی مہمانان کو بھارتی سنیما کی وراثت اور تعاون کا ادراک اور ستائش کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ان تمام تر باہمی روابط کے ذریعہ اِفّی نے ایک منفرد، مشترکہ ماحول قائم کیا ہے جس سے دونوں یعنی بھارتی اور عالمی سنیما مالا مال ہوں گے۔
55واں اِفّی ایک ایسا میلہ ہے جس نے روایت کو مستقبل کی فکر، اختراع کے ساتھ بڑی خوبصورتی سے مربوط کیا ہے ، بھارتی سنیما کی جید شخصیات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی آوازوں کا بھی خیال رکھا ہے۔ بھارت پَرو کے جذبے سے لے کر ابھرتے ہوئے باصلاحیت افراد کے لیے نئے ایوارڈ کی فراہمی تک اِفّی 2024 سنیما کی بالیدہ ہوتی ہوئی نوعیت کا مرقع بن گیا ہے اور اس کے ذریعہ کہانی کو روابط قائم کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر جو قوت حاصل ہے اس کا جشن بھی منایا جا سکے گا۔ چونکہ اس فلمی میلے میں بین الاقوامی فلم ساز، صنعتی قائدین، اور ناظرین یکجا ہوں گے، اس عمل نے بھارت کو عالمی سنیما میں ایک کلیدی شراکت کی حیثیت عطا کی ہے اور پائیدار اثرات اور تصوریت کے حامل ایک میلے کے طور پر اِفّی کی حیثیت کو بھی اعتبار عطا کیا ہے۔

https://lazawal.com/?page_id=179131

اے سی بی نے مغل روڈ پروجیکٹ کے بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش کیا

0

سابق چیف انجینئر رمَن پوری اور ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج

طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزیاں۰بغیر قانونی منظوری کے وقت میں توسیع اور اضافی اخراجات۰حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان

جان محمد

جموں؍؍جموں و کشمیر میں مغل روڈ پروجیکٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں اینٹی کرپشن بیورو نے سابق چیف انجینئر رمَن پوری اور ایک بڑی تعمیراتی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق، ٹھیکے کے دوران غیر قانونی فوائد دینے اور قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاری مالی نقصان پہنچایا گیا۔

https://en.wikipedia.org/wiki/Mughal_Road
تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (ACB) نے مغل روڈ پروجیکٹ کے سلسلے میں سابق چیف انجینئر رمن پوری اور ہندستان کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ سمیت دیگر افراد کے خلاف کرپشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ مقدمہ اے سی بی کی جانب سے بفلیاز سے شوپیاں-پلوامہ تک مغل روڈ کی تعمیر میں ادائیگیوں کے سلسلے میں کی گئی تحقیقات کی روشنی میں درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ چیف انجینئر نے کمپنی کے دعوے قبول کرلیے جنہیں محکمہ نے رد کردیا تھا، جس سے حکومتی خزانے کو بھاری مالی نقصان ہوا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 15 مارچ 2005 کو مشترکہ کمشنر ورک اور چیف انجینئر مغل روڈ پروجیکٹ پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیوڈی) نے کنٹریکٹ کا ٹینڈر جاری کیا تھا۔ تمام قانونی مراحل کے بعد ریاستی کنٹریکٹ کمیٹی کی سفارش پر ڈیولپمنٹ کمشنر ورک نے ہندستان کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ کو 214.40 کروڑ روپے کے معاہدے کا ٹھیکہ دیا۔ اس معاہدے کی شروعات یکم مارچ 2006 کو ہوئی اور مکمل ہونے کی مدت 28 فروری 2009 مقرر کی گئی۔ بعد میں 25 جنوری 2010 کو 126.64 کروڑ روپے کی اضافی رقم کے ساتھ تکمیلی معاہدہ کیا گیا اور منصوبے کی تکمیل کی آخری تاریخ 31 مارچ 2011 مقرر کی گئی۔ مزید وقت کی توسیع دیتے ہوئے 15 فروری 2012 کو منصوبے کی تکمیل کی نئی تاریخ طے کی گئی، لیکن کمپنی مقررہ وقت تک کام مکمل نہ کرسکی اور پھر مزید وقت مانگا گیا۔ اس معاملے کو تصفیے کے لیے ثالثی میں بھیج دیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ سابق چیف انجینئر رمن پوری کمپنی کے نمائندوں سے دفتر سے باہر ملاقاتیں کرتے تھے اور قانونی ضوابط کی پابندی کیے بغیر کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے کمپنی کے خط پر دستخط کرکے اس بات سے اتفاق کرلیا کہ پرانے نرخوں پر کام جاری رکھا جائے، جس کی بنیاد پر ثالثی ٹربیونل نے 21.52 کروڑ روپے اور اضافی 11.27 کروڑ روپے کمپنی کے حق میں منظور کر لیے جس سے حکومتی خزانے کو نقصان ہوا۔
اس طرح، سابق چیف انجینئر رمَن پوری نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کمپنی کو بلاجواز فائدہ پہنچایا۔ انہوں نے کمپنی کو وقت کی توسیع دی اور مقررہ وقت میں پروجیکٹ مکمل نہ ہونے پر جرمانے کی صورت میں لگنے والے 54 کروڑ روپے کی بھی معافی دی۔مذکورہ بالا واقعات میں جموں و کشمیر پی سی ایکٹ 2006 کے سیکشن 5(1)(د) پڑھا جائے سیکشن 5(2) اور آر پی سی کے سیکشن 120-بی کے تحت رمن پوری، ہندستان کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ اور دیگر افراد کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے۔ اس ضمن میں کیس ایف آئی آر نمبر 23/2024

پولیس اسٹیشن اے سی بی سری نگر میں درج کرلیا گیا ہے۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

https://lazawal.com/?page_id=179131

انڈس واٹر ٹریٹی جموں و کشمیر کی ترقی میں رُکاوٹ ـ:عمر عبداللہ

0

بجلی کے شعبے میں کام کی رفتار تیز کرنے اور عوامی اداروں کو جوابدہ بنانے کا مرکز سے مطالبہ

لازوال ڈیسک

نئی دہلی؍؍جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج انڈس واٹر ٹریٹی کے اثرات پر روشنی ڈالی، جو خطے کے آبی وسائل کے استعمال میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کے باعث جموں و کشمیر اپنی وسیع آبی ذخائر اور پن بجلی کی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ موسم سرما کے سخت مہینوں میں جب بجلی کی پیداوار کم ہوتی ہے، تو جموں و کشمیر کو اس کا بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ بجلی کی کمی عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے۔عمر عبداللہ یہ بات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے بجلی کی کانفرنس میں کہہ رہے تھے۔ مرکزی وزیر بجلی منوہر لال نے اس کانفرنس کی صدارت کی جس میں وزیراعلیٰ کے علاوہ ان کے اضافی چیف سکریٹری دھیرج گپتا، پرنسپل سکریٹری بجلی ایچ راجیش پرساد اور جموں و کشمیر ڈسکومز کے ایم ڈیز بھی شریک تھے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے بجلی شریپاد یسو نائک اور ملک بھر سے آئے بجلی کے وزرا اور اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔

https://sansad.in/ls/members/biography/2?from=members
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کی شرائط جموں و کشمیر کو محض "رَن آف دی ریور” طرز کے منصوبے لگانے تک محدود کرتی ہیں، جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کی پوری پن بجلی کی صلاحیت کو بروئے کار نہیں لایا جا سکتا۔’’پن بجلی جموں و کشمیر کے لیے توانائی کا واحد قابل عمل ذریعہ ہے۔ لیکن، معاہدے کی رکاوٹوں کی وجہ سے ریاست کو دوسرے ریاستوں سے بجلی درآمد کرنی پڑتی ہے، جو اس کی معیشت پر بوجھ بن جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہند کو جموں و کشمیر کو خصوصی مالی تعاون فراہم کرنا چاہیے، جس میں ضروری فنڈنگ اور منصوبوں کے لیے مدد شامل ہو تاکہ اس کے چھپے ہوئے آبی وسائل کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے۔
عمر عبداللہ نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں و کشمیر میں "ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم” کے تحت بجلی کے نقصانات کو کم کرنے والے منصوبوں کو تیز کرنے میں مرکزی پبلک سیکٹر اداروں، جیسے پی ای ایس ایل اور نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن، کو جوابدہ بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکز کو بجلی کے انفراسٹرکچر کے کاموں کی تکمیل کے لیے اضافی فنڈز فراہم کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔
شمسی توانائی اور ماحول دوست توانائی کے حوالے سے ایک سیشن میں عمر عبداللہ نے لداخ میں شمسی توانائی کی پیداوار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اس اضافی بجلی کو خریدنا چاہے گا جو لداخ پیدا کرنے کے قابل ہو۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کانفرنس میں شرکت کے لیے پیر کی شام یہاں پہنچے اور تمام تکنیکی سیشنز میں جموں و کشمیر کے مؤقف کو اجاگر کیا۔

https://lazawal.com/?page_id=179131

’بین الاقوامی خطرات کا مقابلہ بین الاقوامی حکمت عملی سے‘

0

بھارت میں ’ایڈاپٹیو ڈیفنس‘کا قیام، بدلتی دنیا کے چیلنجوں کا جواب:راجناتھ سنگھ

ہائبرڈ جنگ اور سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے بھارت کا جدید دفاعی نظام؛آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا: دفاع میں خود انحصاری کی نئی راہیں

لازوال ڈیسک

نئی دہلی؍؍وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دہلی ڈیفنس ڈائیلاگ (DDD) کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ’’ایڈاپٹیو ڈیفنس‘‘یعنی ’’قابل موافقت دفاع‘‘کے نظام پر زور دیا۔ اس ڈائیلاگ کا انعقاد منوہر پاریکر انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسس (MP-IDSA) نے "جدید جنگی منظرنامے میں رہنمائی” کے موضوع پر کیا۔
راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا کہ ’’ایڈاپٹیو ڈیفنس‘‘صرف ایک حکمت عملی نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی نظام کو تیز رفتار دنیا کے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، "ہمارے خطرات بین الاقوامی ہیں، لہذا ہماری حکمت عملیاں بھی بین الاقوامی ہونی چاہئیں۔”

https://www.rajnathsingh.in/
انہوں نے روایتی جنگی تصورات میں ہونے والی تبدیلیوں، خاص طور پر دہشت گردی، سائبر حملے، اور ہائبرڈ جنگ جیسے چیلنجز کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی نظام میں ترقی کی راہیں سائنسی و تکنیکی جدت کے ذریعے ہی ہموار ہو سکتی ہیں۔ حکومت نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ادارے کا قیام، افواج میں مشترکہ ہم آہنگی، اور نئے بین الاقوامی دفاعی تعلقات کا فروغ بھی اسی مقصد کے لیے کیا ہے۔
وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت خود کو "ڈرون ٹیکنالوجی” کا عالمی مرکز بنانا چاہتا ہے اور ملک میں انقلابی دفاعی تحقیق و ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے "آئی ڈی ای ایکس” اور "اڈیٹی” جیسے منصوبوں کا ذکر کیا، جو مقامی تحقیق و ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ بھارت کے لئے ضروری ہے کہ سائبر اسپیس اور مصنوعی ذہانت میں آنے والی نئی تبدیلیوں کے لیے خود کو تیار رکھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ‘اڈپٹیو ڈیفنس’ ایک اسٹریٹجک نقطہ نظر ہے جہاں ابھرتے ہوئے خطرات کا مو ثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے کسی ملک کا فوجی اور دفاعی طریق کار مسلسل تیار رہتا ہے۔ انہوں نے کہا –‘‘اڈپٹیو ڈیفنس جو کچھ ہوا ہے اس کا محض جواب دینا نہیں ہے بلکہ کیا ہوسکتا ہے اس کا اندازہ لگانا، اور اس کے لیے مستعدی سے تیاری کرنا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس میں غیر متوقع اور بدلتے ہوئے حالات کے باوجود ایک ذہنیت اختیار کرنے اور اپنانے، اختراع کرنے اور ترقی کی منازل طے کرنے کی صلاحیت شامل ہے۔
حالات سے متعلق آگاہی، تزویراتی اور حکمت عملی کی سطحوں پر لچک، لچک، چستی، اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے ساتھ انضمام کو سمجھنے اور ایڈیپٹو دفاع بنانے کی کلیدیں ہیں۔ یہ ہمارے اسٹریٹجک فارمولیشنز اور آپریشنل ردعمل کا منتر ہونا چاہیے’’۔راج ناتھ سنگھ نے ‘اڈپٹیو ڈیفنس’ کو محض ایک اسٹریٹجک انتخاب نہیں بلکہ ایک ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا –’’جیسے جیسے ہماری قوم کے لیے خطرات پیدا ہوئے ہیں، اسی طرح ہمارے دفاعی نظام اور حکمت عملیوں کو بھی بنانا چاہیے۔ ہمیں مستقبل کے تمام ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ ہماری سرحدوں کی حفاظت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے کے بارے میں ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے نشاندہی کی کہ خطرات اور چیلنجوں کی بدلتی ہوئی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلح افواج کے اندر ابھرتے ہوئے نئے تناظر، نظریات اور آپریشنز کے تصورات کے ساتھ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے جنگ کے روایتی تصورات کو نئی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کو گرے زون اور ہائبرڈ جنگ قرار دیا جہاں دفاع کے روایتی طریقوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مسلسل موافقت بہترین حکمت عملی ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے روایتی سرحد سے متعلق خطرات سے لے کر دہشت گردی، سائبر حملوں اور ہائبرڈ جنگ جیسے غیر روایتی مسائل تک ہندوستان کو درپیش سیکورٹی چیلنجوں کی متنوع رینج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی اور تکنیکی منظر نامے میں ایک موافق دفاعی حکمت عملی کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے، اور ایک مضبوط اور خود انحصاری ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اس میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ادارے کا قیام، تینوں افواج کے درمیان اتحاد کو فروغ دینا، تربیتی نصاب کو بہتر بنانا اور دنیا بھر میں نئیدفاعی شراکتیں قائم کرنا شامل ہیں۔
وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ ڈجیٹلائزیشن اور معلومات کے زیادہ بوجھ کے موجودہ دور میں دنیا کو نفسیاتی جنگ کے بے مثال پیمانے کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قومی سلامتی کے خلاف معلوماتی جنگ کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے موافق دفاعی حکمت عملی استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے سائبر اسپیس اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر کام کرنے والے سرکردہ ممالک میں ہندوستان کو برقرار رکھنے کے حکومت کے عزائم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے سائز اور صلاحیت کے حامل ملک کے پاس دفاع میں اے آئی کی آنے والی عالمی اختراعات سے نمٹنے کی صلاحیت اور اس کے ساتھ ہونا ضروری ہے۔
آخر میں، راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ DDD جیسے پلیٹ فارمز بین الاقوامی دفاعی ماہرین کو باہمی تعاون کے ساتھ جدید دفاعی حکمت عملیوں کی تشکیل کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے "آتم نربھر بھارت” اور "میک ان انڈیا” جیسے منصوبوں کے تحت بھارت کی دفاعی خود انحصاری پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات بھارت کو مستقبل میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل بنائیں گے۔ڈی ڈی ڈی (DDD) ایک اہم پلیٹ فارم ہے جو بھارت میں دفاع اور سلامتی سے متعلق پیچیدہ مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس فورم کا مقصد دفاعی ماہرین، پالیسی سازوں، اور فوجی رہنماؤں کو مل کر موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کا حل تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

https://lazawal.com/?page_id=179131

جموں میں آل انڈیا میگلوریہ مہاجن براداری کااجلاس منعقد

0

آنے والے سالانہ اجتماع (میل) کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی

لازوال ڈیسک
جموں؍؍آل انڈیا میگلوریہ مہاجن براداری کاایک اجلاس برادری کے دفتر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈگیانہ جموں میں ہریندر گپتا (چیئرمین) کی صدارت میں منعقد ہوا۔

https://jkapd.nic.in/orders.html

اس موقع پرللت گپتا (صدر)، کش کمار گپتا، دیو کمار گپتا، اشوک گپتا، راجیش گپتا، کلدیپ گپتا اور سدیش گپتا نے شرکت کی جس میں 15.11.2024 (جمعہ) کو آنے والے سالانہ اجتماع (میل) کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔انہوںنے کہاکہ ہون اور پوجا صبح 9.30 بجے شروع ہوگی۔ وہیںصبح 11.30 بجے لنگر پرشادہوگا۔اس موقع پرچیئرمین نے تمام برادری ممبران سے اپیل کی کہ وہ نئے تعمیر شدہ دیوستھان پر جائیں ،کلدیوتا اور بوا دتی جی کا آشیرواد لیں۔

https://lazawal.com/?page_id=179131

کسان کیندر جموں میں شہد فیسٹیول کا انعقاد،افتتاحی ہنی فیسٹیول نے جموں کو میٹھا کیا

0

جموں اور ملحقہ اضلاع سے شہد کی مکھیاں پالنے والوں، کسانوں اور کاروباریوں نے شرکت کی

لازوال ڈیسک
جموں؍؍محکمہ زراعت، جموں، ایپی کلچر ڈیولپمنٹ اسکیم نے فخر کے ساتھ کسان کیندر، تالاب تلو، جموں میں افتتاحی شہد فیسٹیول کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کا افتتاح ڈائریکٹر زراعت جموں، ارویندر سنگھ رین نے کیا، اور اس میں جموں اور ملحقہ اضلاع کے 400 سے زیادہ شہد کی مکھیاں پالنے والوں، کسانوں اور کاروباریوں کی زبردست شرکت دیکھی۔وہیںمیلے میں شہد پر مبنی مصنوعات، سرگرمیوں اور فروخت کے 20 سے زائد اسٹالز کی نمائش کی گئی۔ اس اقدام کا مقصد مکھیوں کی زراعت کو فروغ دینا اور اسٹیک ہولڈرز کو جوڑنے، علم کا اشتراک کرنے اور کاروباری مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

https://jkapd.nic.in/
اس موقع پرڈائریکٹر ایگریکلچر اے ایس رین نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ یہ تقریب سپورٹ ٹو ایگریکلچر ایکسٹینشن اسکیم کا حصہ ہے، جو کسانوں اور شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں کی روزی روٹی بڑھانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل بی کیپنگ اینڈ ہنی مشن (NBHM)، جو ایک مرکزی سیکٹر اسکیم ہے، سائنسی شہد کی مکھیوں کے پالنا کو فروغ دینے اور "میٹھے انقلاب” کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شہد کی مکھیوں کو سائنسی خطوط پر استوار کرنے پر زور دیا تاکہ اسے مزید پروان چڑھایا جا سکے۔ ڈائریکٹر زراعت نے اس شعبے کی مضبوطی کے لیے محکمہ کی جانب سے اٹھائے گئے مختلف منصوبوں اور اقدامات کے بارے میں مزید بتایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہد کی مکھیاں پالنے والوں خصوصاً نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے اور شہد اور اس کی ضمنی مصنوعات کی مارکیٹنگ پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اجتماع کو بتایا کہ ہولیسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو شہد کی مکھیوں کی کالونیاں 80 فیصد سبسڈی کے ساتھ فراہم کی جاتی ہیں۔
تاہم راجیش ورما، اسسٹنٹ اینٹومولوجسٹ، نے جموں میں مچھلی کی زراعت کو آگے بڑھانے کے لیے محکمے کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ شہد کے میلے نے شہد کی مکھیوں کے پالنے والوں کو کامیابی کے ساتھ اکٹھا کیا، جس سے انہیں بصیرت کا اشتراک کرنے، علم حاصل کرنے، اور خطے میں مکھی کی صنعت کو مضبوط کرنے کے لیے کاروباری مواقع تلاش کرنے کا ایک قیمتی موقع فراہم ہوا۔تاہم تکنیکی سیشن کا انعقاد ماہرین نے کیا جن میں پروفیسر دیویندر شرما (سکاسٹ جموں) اور ڈاکٹر دیپک سنگھ، ٹریننگ آفیسر شامل تھے۔اس پروگرام کے دوران مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا جن میں شہد کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن، شہد کی مکھیوں کے پالنے میں کاروباری ترقی، مکھیوں کی کالونی کا انتظام شامل تھا۔وہیں تربیت حاصل کرنے والوں کو محکمہ زراعت کی طرف سے فراہم کردہ محکمانہ سکیموں اور دیگر فوائد سے بھی آگاہ کیا گیا۔

https://lazawal.com/?page_id=179131

زنانہ کالج نواکدل میں کشمیر کلامنچ کی پیشکش

0

قدم کاٹھس تام‘ اسٹیج ڈرامہ حاضرین کے سامنے کیا پیش

شافیہ گلفام
سرینگر؍؍کشمیر کلامنچ سے وابستہ فنکاروں نے زنانہ کالج نواکدل میں ڈاکٹر سوہن لال کول کا لکھا اور حکیم جاوید کی ہدایت میں کشمیری اسٹیج ڈرامہ’ز قدم کاٹھس تام’حاضرین کے سامنے پیش کرکے ان سے خوب داد حاصل کی۔ڈرامے میں

https://en.wikipedia.org/wiki/Srinagar

جن اداکاروں نے اپنی بہترین اداکاری سے سامعین کو محفوظ کیا ان میں طارق جمیل،جہانگیر فراش، عارف بٹ، فیاض بٹ، عادل فاروق اور بینش منظور قابل ذکر ہیں جبکہ ڈرامہ کے پسمنظر میں فیاض صوفی،عبدالحمید راتھر،شیخ پرویز، جوزیہ میر نظیر ہربول،اور محمد یوسف شاہین تھے۔ڈرامہ کی کہانی نوجوانوں میں خود اعتماد سازی کی بحالی پر مبنی ہے۔ کشمیر نوجوانوں میں سماج کے تئیں ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے مشن کے ساتھ کشمیر کلامنچ نے اسکولوں اور کالجوں میں متعدد مختصر اور مکمل طوالت کے ڈرامے پیش کئے ہیں اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے تحت زنانہ کالج نواکدل میں آج کی یہ پیشکش بھی تھی۔اس کار کردگی کا مقصد دوسروں کی طرح طالب علموں کو اپنے سماج میں فعال بنانا ہے۔اس موقع پر زنانہ کالج نواکدل کے پرنسپل ڈاکٹر محمد فاروق خاص مہمان کی حیثیت سے پروگرام میں شریک ہوئے۔کشمیر کلامنچ کے صدر عبدالمجید وانی نے منچ کے چیئرمین نظیر ہربول کے ساتھ فنکاروں اور طلباء کی موجودگی میں ڈاکٹر میر کو اعزاز سے نوازا۔اس موقع پر کالج انتظامیہ کے علاوہ طلباء کی بھاری تعداد نے پروگرام میں شرکت کی۔

https://lazawal.com/?page_id=182911&amp=1

3فیصد مہنگائی الاؤنس اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں اضافہ کا آرڈر جاری کیا جائے

0

جے کے این او پی آر یو ایف نے جموںو کشمیر کے وزیر اعلیٰ سے مداخلت کی اپیل کی

لازوال ڈیسک
جموں ؍؍ نیشنل اولڈ پنشن ریسٹوریشن یونائیٹڈ فرنٹ (این او پی آر یو ایف ) نے یکم جولائی 2024 سے سرکاری ملازمین اور جموں و کشمیر یوٹی کے پنشنرز کو 3فیصد مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) کے آرڈر کے جلد از جلد اجراء اور ہاؤس رینٹ الاؤنس کا مطالبہ کیا ہے۔

https://x.com/NOPRUF_INDIA

اس سلسلے میں یو ٹی جنرل سکریٹری این او پی آر یو ایف جموں و کشمیر سکون منیر نے ایک بیان میں ڈی اے اور ایچ آر اے کے آرڈر کی جاری کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مداخلت کی درخواست کی۔انہوں نے وزیر اعلیٰ پر زور دیا کہ وہ محکمہ خزانہ کو جولائی 2024 سے ڈی اے اور جنوری 2024 سے ایچ آر اے کے اجراء کی ہدایت کریں تاکہ ملازمین کو روزمرہ کی زندگی میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے زیادہ نقصان نہ پہنچے۔

https://lazawal.com/?page_id=182911&amp=1

ایل آئی سی کی پہلے ششماہی میں نمایاںکارکردگی

0

مارکیٹ شیئر رواں مالی سال کے پہلے ششماہی کے لیے 61.07فیصد ہو گیا

لازوال ڈیسک
ممبئی؍؍ لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیاکے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 30 ستمبر 2024 کو ختم ہونے والے چھ مہینوں کے لیے اکیلے اور مجموعی مالیاتی نتائج کو منظور کیا اور اپنایا۔جاری اعداد و شمار کے مطابق 30 ستمبر 2024 کو ختم ہونے والے ششماہی کے لیے بعد از ٹیکس منافع 18,082 کروڑ روپے ہے جو30 ستمبر 2023 کو ختم ہونے والے ششماہی کے لیے 17,469 کروڑ روپے تھا ۔ فرسٹ ایئر پریمیم انکم (FYPI) (آئی آر ڈی اے آئی کے مطابق) کے ذریعہ ماپنے والے مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے، ایل آئی سی 30 ستمبر 2024 کو ختم ہونے والے ششماہی میں 58.50 کے مقابلے میں 61.07فیصد کے مجموعی مارکیٹ شیئر کے ساتھ ہندوستانی لائف انشورنس کاروبار میں مارکیٹ لیڈر بنی ہوئی ہے۔

https://licindia.in/
30 ستمبر 2024 کو ختم ہونے والے ششماہی کے لیے، انفرادی کاروبار میں ایل آئی سی کا مارکیٹ شیئر 39.79فیصداور گروپ کاروبار میں 74.77فیصد تھا۔ 30 ستمبر 2024 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے کل پریمیم آمدنی2,33,671 کروڑ روپے ہے جو30 ستمبر 2023 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے 2,05,760 کروڑ روپے تھی۔30 ستمبر 2024 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے انفرادی نئے کاروبار کی پریمیم آمدنی 29,538 کروڑ روپئے تھی جو30 ستمبر 2023 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے 25,184 کروڑ روپے تھی ۔ 30 ستمبر 2024 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے انفرادی تجدید پریمیم آمدنی 1,15,158 کروڑروپئے ہے جو 30 ستمبر 2023 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے 1,09,599 کروڑ روپے ہوئی تھی ۔30 ستمبر 2024 کو ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت کے لیے کل انفرادی کاروباری پریمیم بڑھ کر 1,44,696 کروڑ روپے ہو گیا جوپچھلے سال کے مقابلے کی مدت کے لیے 1,34,783 کروڑ روپے تھا۔
تاہم ایل آئی سی نے گزشتہ مالی برس کے مد مقابل رواں مالی برس میں نمایاں ترقی کی ہے ۔اس سلسلے میں سدھارتھ موہنتی، سی ای او اور ایم ڈی، ایل آئی سی نے کہاکہ اس سال کی پہلی ششماہی (مالی سال 2024-25) کے دوران، ایل آئی سی مختلف کاروباری پیرامیٹرز جیسے کہ مارکیٹ شیئر، پریمیم، غیر مساوی حصص میں مجموعی ترقی فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ انفرادی کاروبار،وی این بی مارجن اور ایمبیڈڈ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔انہوںنے کہا کہ منافع پر سمجھوتہ کیے بغیر پروڈکٹ اور چینل مکس میں تبدیلیوں کے ساتھ مارکیٹ شیئر کو بڑھانے کے حوالے سے ہماری حکمت عملی بہت واضح نتائج دے رہی ہے۔ انہوںنے مزیدکہا کہہم نے اپنی مصنوعات کو نئے ریگولیٹری رہنما خطوط کے ساتھ اس طرح سے ترتیب دیا ہے کہ انہیں اس طرح سے ڈیزائن کیا جائے کہ صارفین، شیئر ہولڈرز اور مختلف مارکیٹنگ چینل پارٹنرز کی دلچسپی کا خیال رکھا جائے۔ انہوںنے کہاکہ ایل آئی سی میں ہمیں یقین ہے کہ ایسی تمام تبدیلیاں جو صارفین کے لیے دوستانہ ہیں بالآخر ملک میں لائف انشورنس مارکیٹ کو وسعت دیں گی۔ ہم اپنے تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے لائف انشورنس مارکیٹ کی مزید ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

https://lazawal.com/?page_id=179131