جموں وکشمیر اپنی پارٹی عہدیدران کا اجلاس

0
0

رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ، حکومت ِ ہند کے حالیہ احکامات پر اظہارِ برہمگی
جموں وکشمیر میں محرم جلوس پر پابندی اور طاقت کے استعمال کی مذمت
لازوال ڈیسک
سرینگر؍؍جموں وکشمیر اپنی پارٹی عہدیداران کا ایک اجلاس پارٹی دفتر بنڈ لال چوک سرینگر میں منعقد ہوا۔ پہلے بیچ کے مرکزی عہدیداران کی تقرری کے بعد صدرسعید محمد الطاف بخاری کی صدارت میں منعقدہ یہ پہلی میٹنگ تھی ۔ میٹنگ میںصوبہ کشمیر کے دستیاب عہدیدران نے شمولیت اختیار کی جس میں سنیئر نائب صدر غلام حسن میر، نائب صدر ظفر اقبال منہاس اور عثمان مجید، جنرل سیکریٹری رفیع احمد میر، صوبائی صدر کشمیر محمد اشرف میر اور صوبائی نائب صدر کشمیر جگموہن سنگھ رینہ شامل تھے۔جمہوری نظام ِ میں نمائندوں اور عوام کے مابین مضبوط روابط کی اہمیت کی کو اُجاگر کرتے ہوئے پارٹی صدر نے جموں و کشمیر میں زمینی سطح پر عوامی رابطہ پروگرام کی ضرورت پر زور دیا۔ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی آنے والے دنوں میں ضلعی سطح پر اپنے روز مرہ کے امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے عوامی سطح پر اقدامات کو مزید تقویت بخشے گی۔ یہ بھی طے پایا کہ پارٹی بہت جلد ضلعی صدور سمیت اپنے دیگر عہدیداروں کی تقرری کا اعلان کرے گی۔جموں وکشمیر میں سول اور پولیس انتظامیہ کے امور کو چلانے میں لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات تفویض کرنے سے متعلق مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جار ی حالیہ حکم نامہ پرسخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پارٹی نے اسٹیٹ ہڈ کی بحالی اور جلد انتخابات کرانے کے مطالبہ کو دوہرایا تاکہ غیر جمہوری اور صوابدیدی فیصلوں پر روک لگائی جاسکے۔اجلاس میں حکومت ِ ہند پرزور دیاگیاکہ جموں وکشمیر میں جمہوری اور سیاسی عمل کو مستحکم کرنے میں شامل تمام تر شرطوں اور حساسیتوں پراس طرح کے فیصلے کرنے سے قبل غور کرنا چاہئے جوکہ آمرانہ نوعیت کے ہوں۔میٹنگ میں کہاگیاکہ’’انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر من مانی فیصلے کرتے کئے جارہے ہیں اور جنہیں انتہائی غیر اخلاقی انداز میں مسلط کیاجاتا ہے‘‘۔شیعہ اکثریتی علاقوں میں حکومت کی طرف سے عائد بندشوں بارے میٹنگ میں کہاگیاکہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ جموں وکشمیر بھر میں کویڈ19گائیڈلائنز کے تحت تمام ایس او پیز ، سماجی اور طبی پروٹوکول پر مثالی عمل آوری کا مظاہرہ کرنے کے باوجود عزاداروں کے ماتمی جلوس پر روک لگائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عزاداروں کی جانب سے جموں و کشمیر میں کوویڈ پروٹوکول کی پیروی کے لئے مثالی نظم وضبط دکھاگیاجوکہ قابل تحسین ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس طرح کے مذہبی اجتماعات پر بلاجواز پابندیاں عائد کرکے نہ صرف لوگوں کو اعلیحدہ بلکہ رسوا کرنے کا فیصلہ کیا ۔میڈیا رپورٹس جن کے مطابق کشمیر کے مختلف مقامات پر عزاداروں پر طاقت کابے تحاشہ استعمال کیاگیا۔ اجلاس میں عاشورہ کو امام حسین ؓ کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہوئے کہاگیاکہ یہ دن امت مسلمہ میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ محرم جلوسوںپرپابندی اور طاقت کا استعمال نہ صرف قابل مذمب بلکہ غیر منطقی ہے۔ انہوں نے عزاداروں کے ساتھ اِس خاص اور مقدس دن پر یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی عہدیداران نے جموں وکشمیر کے لوگوں کی یکساں سماجی واقتصادی ترقی اور سیاسی بااختیاری کے ذریعے پارٹی کے امن اور خوشحالی ایجنڈہ پر عمل پیرا ہونے کی ا پنی کوششوں میں پارٹی صدر کا بھر پور ساتھ دینے کا عزم کیا۔ اجلاس میں انتظامی بدنظمی، ترقیاتی خسارہ، اقتصادی بحران اور عوام و لیفٹیننٹ گورنر سربراہی والی جموں وکشمیر انتظامیہ کے درمیان بڑھتی دوری پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیاگیا۔ پارٹی قیادت نے سیاحت ، کاروبار ، صنعتوں ، زراعت ، باغبانی اور دستکاری شعبہ جات سے وابستہ لوگوں کی حالت زار پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا