
شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
امام وخطیب مسجد انوار گوونڈی ممبئی
8767438283
اسلام کی بہت ساری خصوصیات میں سے یہ خصوصیت بھی توحید ورسالت کے حقوق کے بعد اساس کا درجہ رکھتی ہے کہ جس میں انسانیت کی خدمت،اس کے حقوق کی حفاظت،اس کی ضروریات کی رعایت ، اس کی حرمت و عزت کےپاس و لحاظ،اور اس سے محبت وہمدردی کے روئیے کو انسانیت کی معراج اور انتہائی اعلیٰ کردار قرار دیا گیا ہے،بلکہ غور کیا جائے تو انسانی خدمات کے یہ اعمال وکردار خالق ارض وسماء کے حضور پیش کی جانے والی عبادتوں کی بھی ہمسری کرتے نظر آتے ہیں،
روزہ ایک عبادت ہے’اور اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے’رب دوجہاں کے اعلان کے مطابق تمام عبادات کا بدلہ جنت اور سامان جنت کی شکل میں قیامت میں کامیاب ہونے والوں کو ملے گا مگر روزے کا بدلہ خود خدا کی ذات ہے’، اسی روزہ کے بارے میں قانون ہے’کہ اگر کسی نے روزہ نہیں رکھا اور دوسرے ایام میں بھی رکھنے کا چانس نہیں ہے’تو وہ ہر روزے کے بدلے غریبوں کو کھانا کھلائے،عمدا روزہ توڑنے کی صورت میں وہ دوسرے دنوں میں ساٹھ روزے کا کفارہ ادا کرے اگر یہ نہیں کر سکتا تو ساٹھ فقراء کے کھانے کا انتظام کرے،معلوم ہوا کہ ایک روزہ ایک مسکین کے دو وقت طعام کے برابر ہے،انسانیت کی عزت ووقعت اور اس کی بلندی نیز اس کی خدمت اور حفاظت اسلام کے نزدیک کس قدر عظیم عمل ہے اس نظام عبادت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
پوری دنیائے انسانیت اللہ تعالیٰ کا خاندان ہے’ اس خاندان کے افراد کے بارے میں نیک جذبات اور پاکیزہ خواہشات اللہ تعالیٰ سے محبت کا بھی تقاضا ہے اور اسلامی تعلیمات کا حکم بھی، ہمدردی وغم گساری کا ایک اہم پہلو مادی اعتبار سے انسانی ضروریات کی تکفیل ہے’، زندگی کے بنیادی سامانوں کی فراہمی اور ان کے ذریعے مفلسوں اور غریبوں کی امداد واعانت ہے’ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ اصحاب ثروت کے اوپر ڈھائی فیصد مال کو معاشرے کے غرباء ومساکین کے لئے خاص کرنے کو فرض قرار دیا ہے اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے سخت وعید سنائی ہے’ انفاق کے اس قانون کے علاوہ بھی متعدد مقامات پر پروردگار عالم نے ضرورت مندوں پر مال خرچ کرنے،ان کی خبر گیری کرنے ,ان کے کھانے پینے اور ان کے دوا وعلاج کا مقدور بھر انتظام کرنے کی ترغیب بھی دی ہے’اور اس طرح کے زریں خدمات انجام دینے والوں کے لیے آخرت میں بشارتوں کی دولتوں کا بھی ذکر کیا ہے’،ارشاد ہے،وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا السماوات والارض اعدت للمتقین،الذین ینفقون فی السراء والضراء والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس واللہ یحب المحسنین (آل عمران آیت نمبر 134) دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس وسعت زمین وآسمان جیسی ہے اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لئے مہیا کی گئی ہے جو ہرحال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں،خواہ بدحال ہوں یا خوشحال اور جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں،، اس روئے زمین پر بے شمار نظریات اور عقائد ملتے ہیں جن میں جزوی طور پر انسانی ضروریات کو جگہ دی گئی ہے اور خاص مواقع اور مخصوص طبقوں میں انسانی خدمات کی ضمنی طور پر تعلیم دی گئی ہے یہ امیتاز صرف اسلام ہی کے حصے میں ہے’کہ اس دنیا میں اگر ایک مسلمان کسی مستحق اور ضرورت مند کا مالی تعاون کی صورت میں خیال کرتا ہے’تو عالم آخرت میں اس کے خرچ شدہ مال کو سات سو گنا زیادہ کرکے دیا جائے گا اور خود خدا کا اعلان ہے’جس کو دلکش تمثیل کے پیرائے میں واضح کردیا گیا ہے،،جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی خالص خدا کی رضا کے لئے اور اس کے بندوں کی خدمت کے لئے اپنی جائز ضروریات کی تکمیل میں،اہل خانہ کی پرورش میں،اعزہ واقربا کی خبر گیری میں،یا محتاجوں کی اعانت میں،یا رفاہ عام کے کاموں میں یا اشاعت دین اور جہاد کے مقاصد میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں) ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں،اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی ( البقرۃ آیت نمبر 261)
محسن کائنات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عہد میں جب روئے زمین ہر طرف خود غرضی اور حیوانیت کی تاریکیاں چھائی ہوئی تھیں اپنے اس فرمان سے کہ،،جس شخص کی رات آسودگی کے عالم میں گذری اور عین اس وقت اس کا پڑوسی فاقے کی حالت میں ہو تو اس کا ایمان مکمل نہیں ہے’،،کے ذریعے انسانیت کی قندیل روشن کی تھی، ایثار وہمدردی،اخوت وغمگساری،سخاوت وفیاضی اور محبت ومؤدت کے بے شمار پیغامات کے ذریعے آپ نے دنیا کو اخلاق و انسانیت سے آشنا کیا، اپنے دکھ درد کے ساتھ ساتھ غیروں درد وکرب کا احساس عطا کیا، انسانیت کی حفاظت اور معاشرے میں اسے عزت واحترام اور ہر کڑے وقت میں اس کے دست وبازو بن جانے کا جذبہ عطا کیا۔عملی اعتبار سے بھی آپ کی پوری زندگی انسانی حقوق کی حفاظت اورہر لحاظ سے ہر زاویہ سے اس کی خدمات کی روشن تصویر اور بے غبار آئینہ ہے’،
رمضان المبارک کا مہینہ جہاں نیکیوں کا موسم بہار ہے عبادتوں کا سیزن ہے، رحمت الٰہی اور عنایات ربانی کی فصل ربیع ہے’وہیں یہ ماہ مقدس جود وسخا اور ہمدردی وغم گساری کا بھی سعادت بخش زمانہ ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت و فیاضی کا دریا تو عام حالات میں بھی جاری رہتا تھا،آپ کے ایثار ہمدردی کا ابر کرم ہر وقت پوری شان سے برستا رہتا اور انسانیت کی کشت ویراں کو شاداب کرتا رہتا تھا لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں آپ کے کرم کی بارشیں موسلادھار ہو جاتیں، سخاوت و فیاضی کے دریائے ناپیدا کنار میں تموج آجاتا،جضرت عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ،،رمضان المبارک میں آپ کے پاس روزانہ جبریل علیہ السلام آیا کرتے اور ملاقات کرتے اس عالم میں آپ کی داد و دہش،آپ کی سخاوت،آپ کا ایثار اور آپ کی فیاضی ہواؤں کی طرح تیز اور عام ہوجایا کرتی تھیں (بخاری) اس وجہ قطعی طور پر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لمحات میں اس قدر برکتیں رکھ دی ہیں کہ اس میں نیکیاں اپنے اجر کے اعتبار سے ،بھلائیاں اپنے نتائج کے لحاظ سے اور تمام کار خیر اپنے انجام کے حوالےسے انتہائی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں،حضرت سلمان فارسی کی مشہور روایت ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ،،جو شخص رمضان میں نفلی عبادت کے ذریعے قرب الہی کا طالب ہوگا تو عام دنوں کے فرض کے برابر ثواب ملے گا اور جس نے اس ماہ میں فرض ادا کیا تو وہ ر مضان المبارک کے علاوہ ستر فرائض کے ادا کرنے والے کی طرح ہوگا،یہ مہینہ خاص طور سے ہمدردی اور غم گساری کا ہے’،اگر کسی نے کسی روزہ دار کی افطار کا انتظام کردیا تو یہ عمل اس کی مغفرت اور جہنم سے آزادی کا ذریعہ ہوگا،اور روزہ دار کے ثواب میں کمی کئے بغیر روزہ دار کی طرح یہ شخص بھی ثواب کا مستحق ہوگا،صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے ہر شخص کے اندر اتنی طاقت تو نہیں کہ وہ روزے دار کو افطار کرائے ارشادِ ہوا کہ اس کے لئے اہتمام شرط نہیں ہے اگر کسی نے ایک کھجور یا ایک گھونٹ لسی سے بھی افطار کرادیا تو بھی مذکور اجر وثواب کے لئے کافی ہے'(بیہقی وابن خزیمہ)
اس فرمان سے جہاں اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ زندگی کی ضروریات کے سلسلے میں ایک صاحب ایمان سے اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اسے اپنی ذات تک محدود نہ رکھے بلکہ ارد گرد اور اعزہ واقربا اور پڑوس واحباب میں سے جو تنگ دست اور ضرورت مند ہوں ان کا خیال رکھے،ان کی خبر گیری کرے، ان کی ضروریات کا انتظام کرے وہیں یہ امر بھی بالکل واضح ہے’کہ غریبوں کی مسیحائی کے لئے، تنگ دستوں کی اشک سوئی کے لئے اور ضرورت مندوں کی کفالت کے لیے یہ ضروری نہیں ہے’کہ اپنی وسعت سے اوپر اٹھ کر معاشرے کے معیار کے مطابق تعاون ہو تبھی خدا کے یہاں
یہ عمل لائق تحسین ہوگا بصورت دیگر اعانت وامداد کا یہ عمل کسی حیثیت میں شمار نہیں ہوگا،بلکہ یہاں اپنی وسعت کے بقدر ہر عمل خدا کے یہاں قابل قبول ہے خواہ وہ ظاہرا ایک ذرے کی مقدار میں کیوں نہ ہو۔۔
اس وقت لاک ڈاؤن کی وجہ ملک میں جو افراتفری ،
سماجی ابتری،اور معاشی بدحالی ہر سو چھائی ہے، اور جس طرح ملک کی عوام خصوصاً مڈل کلاس اور خط افلاس کے نتیجے گذارنے والوں کی جو حالت زار ہے’وہ شوشل میڈیا،اخبارات اور دیگر ذرائع ہمارے سامنے ہے،جس میں فاقہ مستی،غربت، مسکنت،بیچارگی ،جبر وقہر، حیرانی وشکستگی، وسائل زیست سے محرومی و ایمان شکن ناداری، اداسی ومایوسی، اور حسرت ویاس کی المناک تصویریں روزانہ نگاہوں کے سامنے آتی ہیں اور ایک حساس ودردمند قلب وروح کو تڑپاجاتی ہیں۔۔۔
ایسے خونچکاں حالات اور کربناک ماحول میں جہاں انسان ایک دانے کو ترس کر رہ گیا ہو، جہاں حکومت کے غیر ذمہ دارانہ قانون کی بنیاد پر بے شمار لوگوں کے ایام چلچلاتی ہوئی اور شعلے برساتی ہوئی دھوپ میں اور راتیں بھوک و پیاس کے عالم میں دراز ہوجاتی ہوں، جہاں متوسط طبقے کے خوشحال خاندانوں کے بھی چولہے اس وقت سرد ہوکر رہ گئے ہوں، جہاں غربت و افلاس کے پاؤں کی سرحدیں بے حد وحساب دراز ہوچکی ہوں، وہاں انسانیت کی خبر گیری، غریبوں اور مزدوروں کے ساتھ بندہ پروری، معاشی تنگ دستوں کے ساتھ فیاضانہ سلوک اور کرم گستری کی حیثیت دوچند ہو جاتی ہے۔
وقت کی یہ آواز ہے’کہ ان بے یارومددگار مجبوروں کی فریاد پرنہ صرف اہل ثروت بلکہ وہ لوک بھی جو کم ازکم سکون اطمینان سے اپنی تمام ضروریات اور سامان زندگی کے استعمال پر قادر ہوں اور ان ذرائع خوردونوش کو وہ پوری فراخی کے ساتھ استعمال بھی کررہے ہوں۔ لبیک کہیں اور ان مسکینوں کی ضروریات کا حتی الوسع انتظام کریں، انہیں مایوسیوں کے اندھیروں سے نکالنے کی کوشش کریں جو صرف افلاس کے باعث زندگی سے مایوس ہوچکے ہیں۔
کرب واضطراب سے لبریز حالات کی صدا ہے’کہ معاشرے میں محتاجوں اور بے کسوں کی بنیادی ضرورتوں کی کفالت اور ان کے لباس وطعام کا انتظام اور دوا وعلاج کے لئے رقموں کی فراہمی وسیع پیمانے پر ہو، فقر ومسکنت کی دھوپ سے جھلسے ہوئے بے شمار مزدور پیشہ افراد کے دووقت کی روٹیوں اور افطار و سحر کی اشیاء کے ذریعے ان کے روزوں کو خوشگوار بنانے کے لئے خوشحال لوگوں کی سرگرمیاں تیز تر ہونی چاہیئے۔
رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں اور اس کے انسانیت نواز لمحوں کا تقاضا ہے کہ اس دور میں مسلمان اپنی آرائش،آسائش اور زیب وزینت کے سامانوں میں کمی کردیں
اپنے معیار اور کھانے پینے کے اسٹیٹس کو تھوڑا نیچے کردیں، اور خورد ونوش سے لیکر لباس تک تمام چیزوں کو اعتدال پر لائیں، تاکہ اس عمل کے نتیجے میں ضرورت مندوں پر خرچ کرنے، ان کی تنگدستی فقر وفاقہ دور کرنے، اپنے اموال کو محتاج اور بے بس لوگوں پر صرف کرنے اور دیگر نیکی وخیرات کی راہیں ہموار ہوں،
اس وقت معاشی اعتبار سے پورا ملک تباہی کے دہانے پر ہے اچھے اچھے خوشحال لوگ بھی کاروبار کے ٹھپ ہوجانے کی وجہ سے معاشی افلاس کا شکار ہوچکے ہیں،ان میں وہ بھی ہیں جو مزدور ہیں،وہ بھی ہیں جو ملازمت پیشہ ہیں،وہ بھی ہیں جو صنعت کار ہیں،وہ بھی ہیں جو متوسط درجے کے تاجر ہیں اور وہ بھی جو مدارس ومساجد اور دوسرے دینی اداروں میں ملازم ہیں، ان میں سے بہت سے ایسے جن کی حالتیں عموماً ظاہر رہتی ہیں اور بہت سے بلکہ زیادہ تر ایسے ہیں جن کے چہرے پر تو صبر کی روشنی رہتی ہے’اطمینان وسکون کی خاموشی رہتی ہے مگر ان کی خانگی زندگی نہایت مشکلات میں ہوتی ہے’، ان کی خودداری اظہار سوال سے اگرچہ مانع ہوتی ہے مگر گھر میں غربت اور افلاس کی اڑتی ہوئی گرد بہت کچھ داستان بیان کرتی ہے، ایسے باعزت اور باوقار لوگوں کو اس موسم دردوالم میں خاص طور سے یاد رکھنا چاہیے، مختلف پیرائے اور مہذب انداز میں ان کی ضروریات معلوم کرکے ان کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے، اپنے رشتے داروں اقرباء اور اعزہ کی خبر گیری کے ساتھ محلے میں جائزہ لے کر وہاں کم از کم افطار کا سامان ہی بھیج دینا بہت بڑی اعانت ہے’، زندگی وہی ہے جو جو دوسروں کے لئے نفع بخش ہو ، جو ضرورت مندوں کے لیے پناہ گاہ کی طرح ہو، یا فیاضی ،سخاوت، اخوت، محبت،اور ہمدردی و الفت کے اوصاف کے باعث اس درخت کی طرح ہو جس کی گھنیری شاخیں تمام سمتوں میں پھیلی ہوئی ہوں، اور صحرا کا تھکا ماندہ مسافر اس کے سائے میں آرام کرکے حیات نو کا سرمایہ حاصل کرلے،اسلام درحقیقت اسی زندگی اور اسی کردار کا طالب ہے’،پیغمبراعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفع بخش زندگی کے انہیں کرداروں کو مجسم صورت عطا کی ہے’، جو اصحاب کرام سے لیکر آج بھی اس کرہ ارض پر کسی نہ کسی صورت میں ضرور موجود ہے’، ورنہ تو وہ زندگی جو ذاتی مفادات کے حصار میں بسر ہو، خود غرضی، و مفاد پرستی کے حدود میں گذرے، کارخانہ قدرت کی تمام اشیاء اور سامان عیش پر اپنے علاوہ انسانیت کے دوسرے افراد کے لیے کوئی حق تسلیم نہ کرے ، ایثار رواداری اور اخلاق ومروت کے عناصر اس کی ذات میں موجود نہ ہوں تو یقیناً وہ زندگی انسانی حیات نہیں بلکہ حیوانیت ہے، شیطانیت ہے اور معاشرے کا ناسور ہے،