کابل میں گرودوارے پر حملہ گھناﺅنا :صوبت علی

0
0

کہا افغان حکومت کو اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا
لازوال ڈیسک

جموں جموں وکشمیرپردیش کانگریس کمیٹی ایس ٹی محکمہ کے نائب صدر وکارپریٹر جموں میونسپل کارپوریشن وارڈ74صوبت علی چوہدری نے افغانستان میں کابل میں گرودوارہ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے اس حملے کو انسانیت کے خلاف گھناونا جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جبکہ پوری دنیا کو مہلک بیماریوں کوویڈ۔19 کا سامنا ہے اور مختلف اقدامات اپناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچانا یقینیبنانے کے جتن کررہی ہے اور دوسری طرف بیمار ذہنیت کے حامل لوگوں نے صبح 25 سکھوں کا قتل کردیا۔چوہدری صوبت علی کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ افغان حکومت کو اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں سکھ سکون سے رہتے ہیں اور عوام کی خدمت بلا کسی فرق کے عوام کی خدمت کرنے کے باوجود ان لوگوں نے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کے لئے ان پر حملہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ سکھ برادری بلا تفریق عوام کی خدمت کرتی ہے اور ضرورت کے وقت لوگوں کی مذہبی ذمہ داری کے طور پر مدد کرتی ہے۔ انہوں نے سکھ برادری کے ممبران سے یہ بھی کہا کہ وہ تشدد کے ان واقعات کی حوصلہ شکنی کریں یہ صرف اس مقصد کے ساتھ کیا گیا ہے کہ مختلف برادریوں اور ممالک کے مابین تفرق پیدا ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے افغان حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے مابین خوشگوار تعلقات کو خراب کرنے کیلئے دہشت گردسکھ برادری کو نشانہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے سکھوں برادری کے ممبروں سے کہا کہ وہ اس وقت ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کریں اور معاشرے کے دیگر ممبروں کی مدد کریں۔انہوں نے مختصر وقت میں دہشت گردوں کے خاتمے اور انسانی جانوں کو بچانے اور محفوظ مقامات پر ان کی مدد کرنے کے لئے افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہا۔صوبت علی نے حکومت ہندسے مانگ کی کہ وہ افغان حکومت کیساتھ وہاں اقلیتی طبقہ کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے دباﺅڈالیں۔صوبت علی نے غمزدگان کیساتھ گہری ہمدردی کااِظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہندو۔مسلم۔سکھ اتحادہی ہمارے ملک کی خوبصورتی ہے اور ہم ہرحال میں اس اتحادکوبرقرار رکھیں گے۔اُنہوں نے کہاکہ کوئی بھی مذہب اس طرح کے گھناﺅنے حرکت کی اجازت نہیں دیتا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا