غزل

0
0

جو جان سے پیارا ہوتا ہے‘‘
وہ یار نِیارا ہو تا ہے
جو پاس کھڑی ہو تنہائی
تو عشق سہارا ہو تا ہے
لو پئیے سمندر کوئی کیوں
یہ آب جو کھارا ہوتا ہے
وہ جیت کو کہتا ہے اپنی
جو عشق میں ہارا ہوتا ہے
جو پوچھا منیؔ سے حالـ، کہا
ہے شُکر گُزارا ہوتا ہے
۔۔۔ہریش کمار منیؔ بھدرواہی۔۔۔
9596888463

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا