2 مریضوں میں قوی علامات ،ملک میں متاثرین کی تعداد اب34ہوئی
جموں وکشمیرکے6 اضلاع میں پرائمری اسکول بند، بائیو میٹرک حاضری نظام معطل
جان محمد
جموں؍؍چین سے شروع ہوئے تباہ کن کروناوائرس نے بلآخرجموں وکشمیرمیں بھی دستک دیتے ہوئے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے،تاہم حکومتی سطح پربہتراقدامات اور عوام میں بیدار ی کے جتنوں کے چلتے زیادہ گھبرانے والی صورتحال نہ ہے،جموں میں دومریضوں میں کروناوائرس کے قوی علامات وامکانات پائے جانے کے پیش نظر انتظامیہ نے جموں اور سانبہ اضلاع کے تمام سرکاری وغیر سرکاری پرائمری اسکولوں کو ماہ رواں کی 31 تاریخ تک بند کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ملک میں ہفتہ کے روز کرونا وائرس انفیکشن کے تین نئے معاملے سامنے آئے جنہیں ملا کر اب تک اس کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 34 تک پہنچ گئی ہے ۔ادھر وادی میں صوبائی انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر چار اضلاع سری نگر، بڈگام، بارہمولہ اور بانڈی پورہ میں پرائمری سطح تک کے تمام سرکاری ونجی تعلیمی ادارے اگلے احکامات تک بند رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ وادی کے باقی اضلاع میں انتظامیہ نے اسکولوں میں دعائے صبح کے اجتماعات اگلے احکامات تک معطل رکھنے کے احکامات جاری کرنا شروع کردیے ہیں۔ جموں کشمیر انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل نے ہفتہ کی شام اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘وادی کے چار اضلاع بانڈی پورہ، بارہمولہ، سری نگر اور بڈگام میں پرائمری اسکول 31 مارچ تک بند رہیں گے’۔ دریں اثنا یونین ٹریٹری انتظامیہ نے جموں کشمیر میں بائیو میٹرک حاضری نظام کو بھی 31 مارچ تک معطل کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اقدام بھی احتیاط کے طور پر ہی اٹھایا گیا ہے۔ ناظم تعلیم جموں انورادھا گپتا نے جموں اور سانبہ اضلاع میں تمام سرکاری و غیر سرکاری پرائمری اسکولوں میں 31 مارچ تک تدریسی عمل معطل رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔حکم نامے میں بتایا گیا کہ جموں اور سانبہ اضلاع کے تمام سرکاری و غیر سرکاری پرائمری اسکولوں میں 31 مارچ تک تدریسی عمل معطل رہے گا تاہم اساتذہ ڈیوٹی پر حسب معمول حاضر ہوں گے۔ حکم نامے میں بتایا گیا کہ اس دوران اگر پرائمری جماعتوں کے کوئی متحانات ہوں گے تو انہیں ملتوی کیا جائے گا اور ان کے لئے اسکول انتظامیہ نئے تاریخوں کا اعلان کرے گی۔سری نگر میں ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان کے حوالے سے کہا ہے کہ وسطی کشمیر کے دو اضلاع سری نگر اور بڈگام اور شمالی کشمیر کے دو اضلاع بارہمولہ اور بانڈی پورہ میں پرائمری سطح تک کے تمام اسکول اگلے احکامات تک بند رہیں گے۔ انتظامیہ کے ترجمان روہت کنسل نے ہفتہ کی صبح اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جموں میں دو مریضوں کے ٹیسٹ رپورٹس آئے ہیں جن کے مطابق ان میں کرونا وائرس ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں متاثرین گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں علاحدہ وارڈس میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ترجمان نے بتایا کہ دونوں متاثرین بغیر اجازت کے ہسپتال چھوڑ کر چلے گئے تھے اب انہیں واپس لایا گیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے گھبرانے کے بجائے تعاون اور احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے۔روہت کنسل نے جموں اور سانبہ اضلاع میں تمام پرائمری اسکول 31 مارچ تک بند کرنے کے حکامات جاری کئے اور اس کے علاوہ جموں کشمیر میں بائیو میٹرک حاضری نظام بھی ماہ رواں کی 31 معطل کردیا۔ چین میں جنم لے کر دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے انتظامیہ نے جموں کشمیر میں محکمہ صحت کو الرٹ پر رکھا ہے۔جموں کشمیر میں کرونا وائرس کنٹرول کے نوڈل افسر ڈاکٹر شفقت خان کا کہنا ہے کہ یونین ٹریٹری میں تین سو کیسوں کے نمونے جمع کئے گئے ہیں جن میں سے 27 نمونوں کو ٹیسٹ کے لئے دلی بھیجا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ جموں کشمیر میں ہی ایک لیبارٹری قائم کرے گی تاکہ نمونوں کو ٹیسٹ کے لیے دلی نہ بھیجنا پڑے۔ملک میں ہفتہ کے روز کرونا وائرس انفیکشن کے تین نئے معاملے سامنے آئے جنہیں ملا کر اب تک اس کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 34 تک پہنچ گئی ہے ۔ان میں سے دو معاملے جموں و کشمیر کے جبکہ ایک معاملہ تمل ناڈو کا ہے ۔پوری دنیا میں کرونا وائرس کے اب تک 102078معاملوں کی تصدیق ہوئی ہے اور 3511افراد کی اس خطرناک بیماری کے سبب موت ہو چکی ہے ۔ ایران کے ایک رہنما کی اس انفیکشن سے موت ہو گئی ہے ۔ سنگاپور میں 13نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ چین میں متاثرین کی تعداد 80651ہو گئی اور اس بیماری سے آج 28لوگوں کی موت ہو گئی۔ملائیشیا میں اب تک 93 کیس سامنے آئے ہیں۔متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر میں بھی کرونا کے متاثرین کی تعداد بڑھ گئی ہے ۔ ایران میں 4747لوگ اس سے متاثر ہیں اور 145لوگوں کی موت ہوچکی ہے ۔ اٹلی میں 4636 لوگ متاثر ہیں اور 197 لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔