خطۂ کوکن اردو کا گہوارہ اور تخلیق و تنقید و تحقیق کا نمایاں ہوتا ہوا اردو جزیرہ ہے : ڈاکٹر عبدالرحیم نشترؔ،مہاراشٹر میں اردو تحقیق و تنقید: ماضی حال اور مستقبل کے موضوع پر گوگٹے جوگلے کر کالج رتناگری میں ایک روزہ قومی سمینار
لازوال ڈیسک
رتناگری؍؍ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان ، نئی دہلی اور شعبۂ اردو ، گوگٹے جوگلے کر کالج رتناگری کے باہمی اشتراک سے ’’ مہاراشٹر میں اردو تحقیق و تنقید : ماضی ، حال اور مستقبل ‘‘ کے عنوان پر رادھا بائی شیٹے سبھا گرہ ، کالج کیمپس میں ایک روزہ قومی سمینار ۲۲ ؍ فروری کو منعقد کیا گیا جس میں صبح ساڑھے دس بجے سے شام چھ بجے تک چار اجلاس بڑی کامیابی سے پایۂ تکمیل کو پہنچے ۔ محترمہ شلپا تائی پٹوردھن ( چیئر پرسن ، رتناگری ایجوکیشن سوسائٹی ، رتناگری ) کی صدارت میں منعقدہ سمینار میں خطۂ کوکن کے اردو پروانوں کی بڑی تعداد آخری اجلاس تک محظوظ و مستفید ہوتی رہی ۔ جب جناب علی ایم شمسی نے افتتاحی تقریر کے لیے مائیک سنبھالا تو سارا ہال تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا ۔ یہ گویا شمسی صاحب کا پرتپاک خیر مقدم تھا ۔ وہ خطیبِ کوکن ہیں اور بولنا شروع کرتے ہیں تو ’’ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی ‘‘ والی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ شمسی صاحب نے آغاز ہی اس طرح کیا کہ انسان سب سے پہلے انسان ہے ۔ دنیا کا کوئی مذہب نفرت و عداوت ، قتل و غارت گری ، فتنہ و فساد ، شر انگیزی اور دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا ۔ انھوں نے اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں ہندو مسلم اتحاد و اتفاق کی موثر مثالیں پیش کیں ۔ شمسی صاحب نے کہا کہ آج اردو کی حیاتِ نو کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو رہا ہے ۔ ہمارا یہ خطۂ کوکن جہاں دو سو برس پہلے اردو کے نام پر گھنا اندھیرا چھایا ہوا تھا آج اردو تعلیم اور زبان و ادب کی جگمگاہٹ سے آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہا ہے ۔ برسوں پہلے جس کوکن میں صرف دو ہائی اسکول تھے آج وہاں دو دھائی سو تعلیم گائیں اردو کا پرچم لہرا رہی ہیں ۔ اس موقع پر انھوں نے ڈاکٹر عبدالرحیم نشترؔ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مہاجر نے کوکن کی شناخت بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انھوں نے کوکن کی بکھری ہوئی تاریخ کو بڑی محنت اور خلوص مندی کے ساتھ اپنی دو تصانیف ’’ کوکن میں اردو تعلیم ( حصہ اول اور دوم ) ‘‘ میں یکجا کردیا ہے۔ بابائے کوکن کیپٹن فقیر محمد مستری نے دیہات و قصبات میں اردو زبان و تعلیم کی تحریک چلائی ۔ آج اس بستی میں آکر سرشاری محسوس کر رہا ہوں ۔ڈاکٹر عبدالستار دلوی ،ڈاکٹر میمونہ دلوی ، ڈاکٹر یونس اگاسکر ، بدیع الزماں خاور ، اختر راہی اور دوسرے بہت سے ناموں کا حوالہ دے کر انھوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ آج کوکن میں سیکڑوں اہلِ قلم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا ثبوت پیش کر رہے ہیں ۔سمینار کے روحِ رواں ڈاکٹر محمد دانش غنی کی ادبی خدمات اور سرگرمیوں پر تحسین و تہنیت کا اظہار بھی کیا ۔معروف نقاد و شاعر ، محقق اور کالم نگار شمیم طارق نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر میں تحقیق و تنقید کی طویل روایت ہے ۔ لچھمی نارائن شفیق، شیخ چاند ، مادھو رائو پاگڑی ، کالی داس گپتا رضا ، ظ انصاری ، نجیب اشرف ندوی ، صفدر آہ اور دوسرے کئی قلمکاروں نے بہت اہم کارنامے انجام دیے ہیں۔ کئی تحقیقی و تنقیدی فن پاروں کو اولیت کا ہے مگر ایک دو ایسے اصحاب بھی ہیں جنھوں نے تحقیق و تنقید کی صحت مند روایت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ شمیم طارق نے کہا کہ تحقیق و تنقید ہی سے واضح ہوتا ہے کہ وطن دوستی اور قوم پرستی میں کیا فرق ہے ۔ اقبال نے وطن دوستی کے جذبے کے تحت ’’ سارے جہاں سے اچھا ‘‘ کی تخلیق کی تھی اور ’’نیشنلزم ‘‘ کے خطر ناک مضمرات کو دیکھتے ہوئے اپنی نظم ’’ وطنیت ‘‘ میں اس کی مخالفت کی تھی ۔شمیم طارق نے تحقیق و تنقید میں فرق کو بھی بتایا اور اس سلسلے میں اقبال کا ترانۂ ہندی سے بیشتر مثالیں بھی دیں ۔ اختتامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالرحیم نشترؔ نے آجکے دن کو ایک یادگار لمحے سے تعبیر کیا ۔ انھوں نے کہا کہ عالی جناب علی ایم شمسی اور شمیم طارق صاحبان نے جہاں اردو زبان کو خالص ہندوستانی اور گنگا جمنی تہذیب کا نمائندہ قرار دیا وہیں ہندو مسلم یک جہتی اور ہم آہنگی کے واقعات سناکر غیر مسلم سامعین کی غلط فہمیوں کو بھی دور کیا ۔ ڈاکٹر عبدالرحیم نشترؔ نے کہا کہ جنوبی ہند اور بطورِ خاص مہاراشٹر میں اردو بڑی تیزی پھل پھول رہی ہے ۔ یہاں اردو تعلیم کے سلسلے ابتدائی جماعت سے لے کر اعلیٰ جماعت تک جاری و ساری ہیں ۔ مہاراشٹر میں اردو تنقید و تحقیق کے ماضی و حال کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ دونوں میدانوں میں مہاراشٹر نے کئی بڑے نام دیے ہیں اور حالیہ تنقید و تحقیق کا جائزہ لیں تو خاصے نئے نام متاثر کرتے نظر آتے ہیں ۔ نشترؔ صاحب نے خظۂ کوکن کو اردو کا گہوارہ اور تخلیق و تنقید و تحقیق میں نمایاں ہوتے ہوئے اردو جزیرے سے تعبیر کیا ۔ اس سمینار میں کویت سے محترمہ میمونہ علی چوگلے بطور مہمانِ خصوصی اور رتناگری کے معروف معالج ڈاکٹر علی میاں پرکار بطور مہمانِ اعزازی کے علاوہ ڈاکٹر مسرت فردوس (اورنگ آباد ) ، ڈاکٹر شفیع ایوب ( نئی دہلی ) ، پروفیسر سلیم محی الدین ( پربھنی ) ، ڈاکٹر غضنفر اقبال ( گلبرگہ ) ، ڈاکٹر رونق رئیس ( بھیونڈی ) ، جناب رفیق جعفر ( پونے ) ڈاکٹر عبدالباری (پونے ) ، ڈاکٹر عبدالرحیم اے ملا ( بیجاپور ) ، ڈاکٹر صفیہ بانو ( احمد آباد ) ، جناب خان حسنین عاقب ( پوسد ) ، ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی ( شیموگہ ) ، پرویز احمد (کامٹی ) ، محترمہ جویریہ قاضی (بھیونڈی ) ، ڈاکٹر ماجد قاضی ( ممبئی ) ،جناب عبید حارث ( ممبئی )، ڈاکٹر سید تاج الہدا خطیب ( بیلگام ) ، جناب تسنیم انصاری ( برہان پور ) ، جناب سعید کنول ( ممبئی ) اور کئی دوسرے شہروں سے اردو کے اہلِ قلم اور ریسرچ اسکالرس نے شرکت کی ۔پرنسپل ڈاکٹر کشور سکھٹن کر نے مہمانوں کا استقبال کیا ۔ڈاکٹر محمد دانش غنی صدر شعبہ اردو نے سمینار کی غرض و غائیت بیان کی اور نظامت کے فرائض طیبہ بورکر نے نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کئے ۔ڈاکٹرمکرند ساکھلکر ( وائس پرنسپل ، ایڈمنسٹریشن ) نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس سمینار کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں کل ۳۷ مقالے پڑھے گئے جومہاراشٹر میں اردو تحقیق و تنقید : ماضی ، حال اور مستقبل کا آئینہ ہیں ۔ ڈاکٹر محمد دانش غنی نے ان سبھی مقالات کو ترتیب دے کر ’’مہاراشٹر میں اردو تحقیق و تنقید : ماضی ، حال اور مستقبل ‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل دے دی اور آنے والی نسلیں اس کتاب سے ضرور فیض یاب ہوں گی ۔