محکمہ نہیں ٹھیکہ دارذمہ دار،باربارنوٹس بھیجنے کے باوجودکام شروع نہیں کیا:ایگزیکٹیوانجینئر
افتخارجعفری/آکاش ملک
سرنکوٹ؍؍لور سنئی سے پنچایت گھر سنئی تک دو کلو میٹر سڑک کی حالت نہایت ہی ابتر ہے جس پر گاڑیوں کا چلنا بھی محال ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ یہ سڑک گاؤں سنئی کے عوام کے لئے سرنکوٹ پہنچنے کا واحدذریعہ ہے لیکن سڑک کے خستہ ہونے کی وجہ سے اسکولی طلاب کے ساتھ ساتھ عام مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق سڑک سے تارکول پوری طرح سے اکھڑ چکی ہے جبکہ نالیوں کا نام و نشان تک بھی موجود نہیں ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب موسلہ دھار بارش ہوتی ہے تب یہ سڑک نالے کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس پر پیدل چلنے والے راہگیروں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کا چلنا بھی محال ہو جاتا ہے۔مقامی لوگوں نے مزید بتایا کہ اس سڑک پر قریب چار سال قبل تارکول بچھائی گئی تھی جو چھ ماہ کے بعد ہی اکھڑ گئی۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ کے ذمہ داران آفیسران کو بارہا گوش گزار کیا گیا تاہم انہوں نے ہر بار کی طرح محض یقین دہانیاں ہی کرائی اور ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی خاموشی کا خوب فائدہ محکمہ نے اٹھایا ہے۔اس ضمن جب اسٹینٹ ایگزیکٹو انجینئر سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سڑک کی مرمت کی تاخیر کے لئے فنڈس کی کمی کو وجہ بتایا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سڑک کا ٹینڈرنگ ہو چکی ہے جس کے لئے ٹھیکدار کی طرف سے تاخیر کی جارہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابتک متعلقہ ٹھیکیدار کو پانچ نوٹس بھی جاری کئے گے ہیں تاہم ہر بار چند دنوں کے اندر کام شروع کرنے کا بتا کر ٹھیکیدار ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔