انتظامیہ کی خاموشی سے عوام مشکلات میں، کب تک بے بسی کا عالم رہے گا
عمرارشدملک
راجوری؍؍بارش اور برف کے موسم میں اکثر سرینگر جموں شاہراہ بند رہنے سے تاجروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جموں سرینگر شاہراہ کے متبادل رابطہ روڑ کی تعمیر کو لیکر ہزاروں بار مشکلات سے دو چار ہونا پڑا لیکن جب ریاستی حکومت نے پیرگلی کے دونوں طرف کو جوڑنے کے لئے رابطہ روڑ کو تعمیر کیا تو مختلف قسم کی سازشیں بھی شروع ہوگئی۔ آج حکومت کے پاس بہترین قسم کی ٹیکنالوجی اور مشینری موجود ہے لیکن پھر بھی مغل شاہراہ کو 4 سے 5 ماہ تک ٹریفک کی آمدورفت کے لئے بند رکھا جاتا ہے جس سے تاجروں کو تو لاکھوں کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے لیکن پیرگلی کے دونوں طرف کے لوگوں کو بھی مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے کیونکہ راجوری پونچھ اور شوپیان پلوامہ کے لوگوں میں رشتے داریاں بھی ہیں اور اکثر شاہراہ بند رہنے سے ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیوں میں شریک نہیں ہو پاتے۔ وہیں راجوری پونچھ کے لوگوں کو جموں سفر سے سرینگر سفر آسان اور نزدیک ہے لیکن مغل شاہراہ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے تاکہ اس شاہراہ کو زیادہ سے زیادہ وقت تک بند رکھا جائے۔ مغل شاہراہ کو دو طرفہ 12 ماہ بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ جموں کشمیر کے مقامی لیڈروں کو یک زبان ہوکر اس پر جدوجہد کریں۔ راجوری پونچھ کے مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ پیرگلی کے دونوں طرف کے لوگوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مغل شاہراہ سے برف ہٹنے کا کام شروع کروائے تا کہ ٹریفک کی بحالی ہوسکے اور لوگوں کی مشکلات بھی ختم ہوسکے۔ لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی کا استعمال کریں اور برف کو جلد از جلد ہٹائے تاکہ شاہراہ بحال ہوسکے۔