پاکستانی سرکار قصورواروںکے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائے: حاجی فضل الرحمن
سید حسان
سہارنپور ؍ ؍سکھوں کے مذہبی گرو نانک دیو جی کا پیدائشی مقام ننکانہ صاحب پاکستان میں شرپسند عناصر کے ذریعہ گرودوارہ پر کی گئی پتھربازی اور سکھوں کے خلاف نعرے بازی نے نہ صرف انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے بلکہ اس واقعہ میں جو لوگ ملوث ہیں پاکستانی سرکار کو انکے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لانی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے کیا۔ وہ آج یہاں سہارنپور کے مقامی ہوٹل میں آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور و آل پارٹی سنگھرش سمیتی کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ پاکستان کے ننکانہ صاحب میں گرودوارہ پر ہوئے پتھراؤ، پاکستان کے پیشاور میں سکھ لڑکے پروندر کے قتل، جے این یو میں نقاب پوش لوگوں کے ذریعہ اساتذہ و طالب علموں کے ساتھ کی گئی مارپیٹ، شہریت ترمیمی قانون، این پی آر و این آر سی اور یوپی پولیس کے ذریعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنے والوں پر ظلم کئے جانے و موجودہ دور میں ملک کو درپیش مختلف مسائل کو لیکر آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور کے زیراہتمام آل پارٹی سنگھرش سمیتی کی پریس کانفرنس سہارنپور کے ہوٹل راج محل میں منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم جملے بازی نہ کرکے ملزموں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائیں اور جن لوگوں نے سکھ نوجوان کا قتل کیا ہے انکو بھی پھانسی کی سزا دلائیں۔ انھوں نے کہا کہ جے این یو دہلی میں رات کے اندھیرے میں بھاجپا کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے غنڈوں نے جس طرح سے طالب علموں و اساتذہ کے ساتھ مارپیٹ کی اور اپنی شناخت چھپانے کیلئے نقاب پہن کر یونیورسٹی میں غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا یہ سب مرکز کی خاموشیوں کا نتیجہ ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ان غنڈوں کی پہچان کرکے انکو سزا دلانے کا کام کرے۔ حاجی فضل الرحمن نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں کی آواز کو مرکز و یوپی کی پولیس لاٹھی کے زور سے خاموش کرنا چاہتی ہے مگر یہ لوگ دیوانے ہیں اور آئین کی حفاظت کیلئے اپنا پرامن مظاہرہ جاری رکھیں گے جو آندولن شروع ہوا ہے وہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔ انھوں نے شاہین باغ میں مظاہرہ کر رہی خواتین کی حمایت کا اعلان کیا ۔ سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے سنجے گرگ اور کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی سریندر کپل نے کہا کہ 70 سال میں پہلی مرتبہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پولیس کے مظالم دیکھنے کو مل رہے ہیں آئین کی حفاظت ہر ہندوستانی شہری کی ذمہ داری ہے اور جب طالب علم آئین کی حفاظت کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں ایسے میں مودی سرکار کے اشارے پر بھاجپا کے غنڈے طالب علموں پر حملہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے پورے ملک میں افراتفری کا ماحول ہے اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ گر رہی ہے۔ ایسے میں ملک کے لوگوں کے سامنے آئین بچانے کیلئے پرامن مظاہرہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی آندولن میں گھس کر دنگا کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پورا ملک ان کی حرکتوں کو دیکھ رہا ہے ملک میں بڑھ رہی مہنگائی، بے روزگاری اور اصل مسائل سے لوگوں کا دھیان ہٹانے کیلئے سرکار ہر روز نئے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل سہارنپور کے ضلع صدر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی اور آل پارٹی سنگھرش سمیتی کے کنوینر سابق ممبراسمبلی وریندر ٹھاکر نے ننکانہ صاحب گرودوارہ میں ہوئی پتھربازی اور جے این یو میں شرپسند عناصر کے ذریعہ طالب علموں و اساتذہ کی پٹائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ ننکانہ صاحب کی حفاظت کے اعلی انتظامات کرے اور وہاں جانے والے زائرین کی حفاظت کیلئے بھی بندوبست کرے ۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کو چاہئے کہ وہ جے این یو واقعہ کی اعلی سطحی جانچ کراکر ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کرے کیونکہ اس سے یونیورسٹیوں کا ماحول خراب ہو رہا ہے اور لوگوں میں دہشت کا ماحول ہے۔ سردار چندرجیت سنگھ نکو ، عیسائی سماج کے مذہبی پیشوا فادر ڈینیل اور نائب شہر قاضی ندیم اختر نے کہا کہ ملک میں امن و امان اور بھائی چارہ بنا رہے اسکے لئے ہم سب کو مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ ہندو ستان کی حکومت کو پاکستان کے اوپر دباؤ بنانا چاہئے اور وہاں رہنے والے سکھوں اور دیگر اقلیتوں کی حفاظت کیلئے پاکستان کے سفیر کو طلب کرکے اپنے جذبات سے آگاہ کرانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے عناصر وہ چاہے پاکستان میں ہوں یا ہندوستان میں جہاں بھی شرپسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ مذمت اور سزا کے لائق ہیں۔ یوپی حکومت کے سابق وزیر سرفراز خان اور راشٹریہ لوکدل کے ضلع صدر راؤ قیصر سلیم نے کسانوں کے مسائل کا ذکت کرتے ہوئے کہا کہ پورے دیش کا کسان آج پریشان ہے خاص طور سے مغربی یوپی میں گنا کسانوں کو بقایا رقم نہ ملنے کی وجہ سے فاقہ کشی پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے لیکن حکومت کو اسکی کوئی فکر نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ چینی مل کسانوں کے گنے کی بقایا رقم ادا نہیں کر رہی ہیں سہارنپور کی چینی ملوں پر ہی کسانوں کا کروڑوں روپیہ بقایا ہے لیکن حکومت صرف جملے بازی کرنے میں مصروف ہے۔ پریس کانفرنس میں براؤن ووڈ اسکول کے پرنسپل سیدہ صبوحی افتخار، سماجوادی پارٹی کے شہر صدر اعظم شاہ، سید حمزہ حسین، راشٹریہ لوکدل کے ریاستی جنرل سیکریٹری چودھری دھیر سنگھ، بہوجن سماج پارٹی کے ضلع نائب صدر راؤبابر ایڈوکیٹ، رالود کے ریاستی نائب صدر حاجی سلیم قریشی گنگوہ، عیسائی سماج کے رہنما فادر سنیل انی کرشنن ، سینئر بسپا لیڈر چودھری ابوبکر، سردار پروندر سنگھ، مولانا حارث مظاہری، سردار رنجیو سنگھ، مظہر عمر خان، سردار پربھجیت سنگھ، سردار اندرپریت سنگھ، سردار راجبیر سنگھ، عرشی حسن، سردار پرویر سنگھ، علی پدھان گاڑا، سردار خوشی سنگھ، قاری جاوید، قاری وسیم، سید حسان وغیرہ موجود رہے۔