کالجوں میں کنٹریکچول لیکچراروں کی نئی بھرتی کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے
یواین آئی
سرینگرجموں وکشمیر ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کو ہدایت دی ہے کہ وادی کشمیر کے کالجوں میں کنٹریکچول لیکچراروں کی نئی بھرتی کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے محکمہ کو کالجوں میں کنٹریکچول لیکچراروں کی بھرتی سے متعلق پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کرنی کی ہدایت دی ہے۔دراصل محکمہ اعلیٰ تعلیم نے مبینہ طور پر فروری اور مارچ میں دو مختلف سرکاری حکم ناموں کے ذریعے وادی کشمیر میں گزشتہ سال تقرر کئے کئے کنٹریکچول لیکچراروں کی مدت کار میں 31 جولائی 2019 تک توسیع کی اور اس کے لئے مختلف وجوہات پیش کی گئیں۔ تاہم فیصلے کے خلاف ڈاکٹر تجمل الاسلام سمیت متعدد پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ نوجوانوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ایک رٹ پٹیشن دائر کی۔جسٹس علی محمد ماگرے نے گزشتہ روز رٹ پٹیشن کو نپٹاتے ہوئے ریاستی حکومت اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کو کالجوں میں کنٹریکچول لیکچراروں کی نئی بھرتی کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ میں یہ رٹ پٹیشن ایڈوکیٹ جی این شاہین کے ذریعے دائر کی گئی تھی جس میں کنٹریکچول لیکچراروں کی مدت کار میں توسیع کو پالیسی کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔رٹ پٹیشن دائر کرنے والے پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ امیدواروں نے کہا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم ہر سال جنوری یا فروری میں کالجوں میں پڑھانے کے لئے کنٹریکچول لیکچراروں کی عارضی اسامیوں کے لئے نوٹیفکیشنز جاری کرتا تھا۔انہوں نے کہا ‘محکمہ نے اس بار پالیسی کے برخلاف مارچ میں ایک سرکیولر نکالا جس میں کہا گیا کہ گزشتہ برس تقرر کئے گئے کنٹریکچول لیکرار اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔ جب خواہش مند امیدواروں نے اس پر سوالات اٹھائے تو محکمے کا جواب تھا کہ چونکہ اس وقت ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ نافذ ہے اس لئے ہم تازہ بھرتی کے لئے نوٹیفکیشن جاری نہیں کرسکتے’۔انہوں نے کہا ‘یہ محض ایک بہانہ تھا کیونکہ اگر محمکہ چاہتا تو جنوری سے لیکر مارچ تک کبھی بھی نوٹیفکیشن جاری کرسکتا تھا۔ مارچ میں جاری کئے گئے سرکیولر میں کہا گیا کہ گزشتہ برس تقرر کئے گئے لیکچرار اپنی خدمات ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کے اختتام یعنی 23 مئی تک جاری رکھیں گے۔ لیکن اس کے بعد دوسرا سرکیولر جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ یہ لیکچرار اب اپنی خدمات 31 جولائی تک جاری رکھیں گے’۔خواہش مند امیدواروں نے کہا کہ کنٹریکچول لیکچراروں کی مدت کار میں توسیع اس سے متعلق پالیسی کی خلاف ورزی تھی اور ہم نے فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ان کا کہنا تھا ‘ہم نے اس کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور وہاں ایک رٹ پٹیشن دائر کی۔ ہم نے اپنی عرضی میں کہا کہ کنٹریکچول لیکچراروں کی تقرریوں میں توسیع غیرقانونی ہے اس اسے عدالت کے سابقہ احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایک ماہ کے اندر نئی تقرریوں کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے’۔انہوں نے مزید کہا ‘ہم نے رٹ پٹیشن اس لئے دائر کی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ مستحق اور قابل امیدواروں کو ان کا حق ملے اور پہلے سے موجود پالیسی کی کوئی خلاف ورزی نہ ہو’۔