اللہ تعالی مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے لواحقین کو صبرجمیل اور اجراعظیم عطافرمائے
منظور سمسھال
بھلیسہ ؍؍ بلاک چلی سے تین نوجوانوں کی موت واقع ہوئی ہے جس میں اعجاز احمد ،محمد ارشاد، عبدالقیوم گزشتہ دن کرگل میں اچانک گاڑی حادثے میں موت کا شکار ہوگئے۔ دریا میں گاڑی جانے کی وجہ بہہ گئے حادثہ سننے کے بعد خطہ چناب میں غم کی لہر ہے ۔چناب میں غم کی لہر پھیل گئی جموں و کشمیر کے مذہبی شخصیت سجادہ نشین دربار عالیہ یونسیہ نقشبندیہ الحاج پیر میاں محمد مقبول باجی صاحب کا بھلیسہ کی سرزمیں پر ایک روحانی دورہ چل رہا ہے ۔دورہ کے دوران حضرت نے لواحقین کے گھر جاکر ملاقات کر تعزیت کا اظہار کیا۔ حضرت نے علاقہ منو کے اندر چودھری شیر محمد ،نور دین کے صاحبزادے کی اچانک حادثہ سے جو موت واقع ہوئی ہمیں سب کو غم زدہ کر دیا ہے ۔حضرت نے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس دکھ کی گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں کثیر تعداد میں لوگ ماتم میں لوگ شریک تھے ۔مرحوم اعجاز احمد کے ولد سرپنچ چودھری شیر محمد نے پریس بیان کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے جو تین نوجوانوں کی موت کرگل کی سرزمین پر واقع ہوئی ہے جو گاڑی دریا کے اندر جانے سے لاش ڈوب گئی ہیں ۔کرگل انتظامیہ کی طرف کافی کوشش رہی لیکن ابھی نظر نہیں آئی ہے ہم پھر سے ایل جی انتظامیہ جموں و کشمیر سے گزارش کرتے ہیں کسی بھی حال میں ہمارے ناجوانوں کی لاش ملنی چاہئے کیوں کہ یہ حادثہ ہندوستان اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ پیش آیا ہے خدا نہ کرے اگر لاش پانی کے تیز رفتار سے دوسری سرحد پاکستان میں چلے جائیں تو اگر وہاں بھی نظر آجائے ہندوستان سرکار سے اپیل ہے کہ وہ واپس اپنے وطن گھر پہنچنی چاہیے کیوں کہ تب تک ماں باپ کو صبر نہیں آسکتا ہے ۔حضرت نے تعزیت کے دوران ختم شریف کا اہتمام کیا ۔مرحومین کے حق میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ چین سکون عطافرئے اور سوگوار خاندانوں کو صبر جمیل عطافرمائے۔