مینڈھرتا بھیرہ سڑک پر غیر معیاری تعمیری کام باعث ِ تشویش :عوام
سرفرازقادری
مینڈھر؍؍ مینڈھر کے علاقہ بھیرہ کی عوام نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مینڈھر قاسم نگر تا بھیرہ جانے والی سڑک کی اتنی خستہ حالت ہے کہ گاڑیوں کا چلنا تو بہت مشکل انسان کا پیدل چلنا بھی بہت سے مشکل ہے ۔نالیاں نہ ہونیکے باعث سارا بارشی پانی سڑک کے بیچ سے گزر کر آس پاس میں بسنے والے لوگوں کے مکانوں اور زمینوں میں چلاجاتاہے ۔جس کی وجہ سے سڑک کی بھی خستہ حالت ہو چکی ہے اور عوام کا بھی نقصان ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مینڈھر قصبہ سے آدھے کلومیٹر سے شروع ہونے والی مینڈھر تا بھیرہ سڑک کی یہ حالت ہے تو پھر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سب ڈویڑن مینڈھر کے دور دراز سرحدی و پسماندہ علاقوں میں سڑکیں کتنی معیاری طریقہ کا سے تعمیر ہوئی ہوں گی۔چوہدری بشارت عظیم و دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ یوں تو بغیر تعمیر و ترقی کے نام پر ہر سال قومی خزانے سے کھربوں روپے منظور ہوتے ہیں جن میں مرکزی معاونت والی اسکیموں میں کثیر تعداد میں فنڈز ملتے ہیں لیکن ان منصوبوں کو کاغذوں تک ہی محدود رکھا گیا ہے۔ عملاً ان پروجیکٹوں پر ہر کوئی کام نہیں ہوتا۔سب ڈویڑن مینڈھر میں سینکڑوں چھوٹی بڑی سڑکیں زیر تعمیر ہیں جن پر کھربوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں لیکن یہ تمام کی تمام سڑکیں نا قابل آمد و رفت ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے عوام ہمیشہ پریشان رہتے ہیں مینڈھر تا بھیرہ سڑک محکمہ پی ڈبلیو ڈی کی لا پروائی کی وجہ سے نا گفتہ بہ حالت کی وجہ متعلقہ محکمہ نے اس سڑک پر پانی کی نقاسی کا کوئی معقول بند و بست نہ کیا تھا جس کے باعث نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے پورا بارشی پانی سڑک کے بیچ و بیچ ایک نالے کی صورت میں بہتا رہا۔جس کی وجہ سے پوری سڑک میں بڑے بڑے گڈے اور نالے بن چکے ہیں۔متعلقہ محکمہ نے جو کنکرا بلیک ٹاپ کیلئے بچھایا تھا وہ سارے کا سارا اکھڑ چکا ہے۔بشارت حسین و دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ پی ڈبلیو ڈی سڑک کو تعمیر کرنے میں پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ہم نے کئی بار ان کو کہا کہ سڑک کے کنارے نالیاں بنا کر پانی کی نکاسی کا بند بست کیا جائے۔باوجود اس کے بھی متعلقہ محکمہ کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی۔ سارا پانی سڑک کے بیچ چھوڑ دیا جو کہ ایک دریا کی شکل اختیار کرکے پوری سڑک کو تباہ و برباد کر گیا ہے۔ جس کی ساری کی ساری ذمہ داری متعلقہ محکمہ پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سڑک پر تعینات جے ای کی لا پروائی کی وجہ سے قومی خزانے اور لوگوں کی زمینوں کا بھاری مقدار میں نقصان ہوا تھا جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہ ہوا ہے اگر یہ سڑک تعمیری طریقہ کار کے ساتھ کی ہوتی تو اس سڑک کی وجہ سے کم ازکم دس ہزار سے زائد عوام کو اس کا فائدہ پہنچتا مگر متعلقہ محکمہ نے صرف لوگوں کی زمینوں اور قومی خزانے کا نقصان کیا ہے جس کا رتی بھر بھی یہاں کی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔عوام نے گورنر سرکار و ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ایک با اختیار کمیٹی تشکیل دے کر اس پوری سڑک کی انکوائری کروائی جائے اور جو بھی قصور وار اس میں پایا جائے اس کے خلاف کڑی سے کڑی کاروائی کی جائے تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔