سری نگر میں انتظامیہ، سراغ رساں ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل کور گروپ کی میٹنگ، کئی اہم فیصلے لئے گئے

0
0

سری نگر،// یوم جمہوریہ سے چار روز قبل سول انتظامیہ، انٹلی جنس ایجنسیوں اور سیکورٹی فورسز کے اعلی عہدیداروں پر مشتمل کور گروپ کی یہاں بادامی باغ فوجی چھاﺅنی میں جمعے کے روز منعقدہ میٹنگ میں کشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
میٹنگ کی صدارت چنار کور کے جی او سی لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے اور پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے مشترکہ طور پر کی۔
فوج کے 15ویں کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے اور پولیس چیف دلباغ سنگھ کی سربراہی میں منعقدہ اس میٹنگ کے دوران سال 2021 میں سیکورٹی فورسز کو ملی ٹینسی کے خلاف ملی کامیابیوں پر روشنی ڈالی گئی۔
اس میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ سال 2021 میں دراندازی اور ملی ٹینسی کے واقعات میں غیر معمولی کمی واقع ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں کی جانب سے ملی ٹینٹ صفوں میں شمولیت کے رجحان میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ملی ٹینٹ مخالف آپریشنز کے دوران عام شہریوں کے جان ومال کو تحفظ فراہم کیا گیا جبکہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کے دوران شہری ہلاکت کا کوئی واقع رونما نہیں ہوا ہے۔
اُن کے مطابق سال 2021 میں ملی ٹینسی سے نبرد آزما ہونے کے دوران سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خصوصی آپریشن کے دوران سرگرم ملی ٹینٹوں اور اُن کے معاونین کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا اور اُن کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کیس بھی درج کئے گئے ہیں۔
لیفٹینٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے میٹنگ کے دوران بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیوں اور سراغ رساں اداروں کے درمیان قریبی تال میل کے باعث بڑی کامیابیاں ملی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران سیکورٹی فورسز نے ملی ٹینٹ مخالف آپریشنز کے دوران متعدد پاکستانی جنگجووں کو مار گرایا ہے ۔
کور گروپ کی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران ملی ٹینسی کے خلاف نئی حکمت عملی اپنانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ جنگجو تنظیموں اور اُس پار کشمیر میں بیٹھے اُن کے آقاوں خاص کر ہابئیرڈ ملی ٹینٹوں کے خلاف بھی نئی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔
میٹنگ کے دوران بتایا کہ سال 2021 کے دوران ابتک 15ملی ٹینٹوں کو مار گرایا گیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ ’ایس آئی اے‘ ادارے کے قیام کے ساتھ ساتھ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کی جانب سے ملوث ملی ٹینٹوں اور اُن کے معاونین کے خلاف کارروائی عمل میں لانا اس بات کی عکاسی ہے کہ ملی ٹینسی کے خلاف سیکورٹی ادارے زیرو ٹرولنس پر کاربند ہے۔
اُن کے مطابق ایسے اقدامات سے ڈرگ مافیا، حوالہ اور بالائی ورکرروں کے خلاف چلائے جارہے آپریشنز کامیابی سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں کی مدد و اعانت میں ملوث افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائی عمل میں لا رہے ہیں ۔
سرحدوں کی صورتحال پر بھی کور گروپ میٹنگ کے دوران تبادلہ خیال ہوا جس دوران کور کمانڈر اور پولیس چیف نے بتایا کہ حد متارکہ کی صورتحال اطمینان بخش ہے تاہم سراغ رساں ایجنسی کی جانب سے تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں لانچنگ پیڈوں کو پھر سے فعال کیا گیا ہے جہاں پر نوجوانوں کوا سلحہ وگولہ بارود کی تربیت فراہم کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کے پیش نظر سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کو مستعد رہنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔
اُن کے مطابق سرحدوں پر سیکورٹی فورسز کی چوبیس گھنٹے تعیناتی سے دراندازی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ چونکہ پاکستان کی جانب سے حد متارکہ کے ذریعے منشیات کے ساتھ ساتھ ہتھیار پہنچانے کی بھی بھر پور سعی کی جارہی ہیں جس کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور حال کے ایام کے دوران کئی کوششوں کو ناکام بھی بنا دیا گیا ہے۔
کور گروپ میٹنگ کے دوران سوشل میڈیا کے چیلنج کا معاملہ بھی چھایا رہا ۔
میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پروپگنڈا کے ساتھ ساتھ ملی ٹینسی کو بڑھاوادینے کی کوششیں ہو رہی ہیں جس پر قابو پانے کی خاطر کارگر اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف بھی سیکورٹی ایجنسیوں نے کارروائی شروع کی ہے۔
کور کمانڈر اور پولیس چیف نے بتایا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طورپر حالات کو معمول پر لایا جس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالات کو پوری طرح سے معمول پر لانے کی خاطر مختلف سیکورٹی ادارے مل جل کر کام کر رہے ہیں جس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
پولیس چیف نے میٹنگ کے دوران بتایا کہ مقامی نوجوانوں کی ملی ٹینٹ صفوں میں شمولیت کے رجحان میں کمی آنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ سیکورٹی ادارے ملی ٹینسی کا خاتمہ کرنے کی خاطر زمینی سطح پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنگجو مخالف آپریشنز اور انکاونٹروں کے دوران عام شہریوں کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر سیکورٹی فورسز اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی ملی ٹینٹوں کو انکاونٹروں کے دوران سرینڈر کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا جانا چاہئے تاکہ اُنہیں دوسرے بار زندگی گزارنے کا موقع فراہم ہو سکے۔
کورکمانڈر نے زور دیاکہ 2022 کو ایک تبدیلی والے سال کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے اوریہ کہ رواں برس کو ایسے سال کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جب حالات طویل مدت کے لئے اچھے ہونگے۔
انہوں نے کہاکہ بہتر انٹیلی جنس شیئرنگ کے باعث سال 2021 میں سیکورٹی فورسز کو بڑی کامیابیاں ملی ہیں اور اس حکمت عملی پر رواں برس بھی عملدرآمد کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ہمیں سیول سوسائٹی کو ساتھ لے کر علیحدگی پسند پروپگنڈے کو ختم کرنے کی بھر پور سعی کرنے چاہئے تاکہ کشمیر میں مکمل طور پر امن و امان قائم ہو سکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا