
روداد پروگرام : مقصوداحمدضیائی
مفسرقرآن حضرت اقدس مولانا مفتی فیض الوحید قاسمی نوراللہ مرقدہ کی شخصیت گوناں گوں خصائص و امتیازات سے عبارت تھی اتنی مختلف اور متنوع خصوصیات بیک وقت اور وہ بھی کم عمری میں بہت کم لوگوں کے مقدر کا حصہ ہوا کرتی ہیں وذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ خصوصیات نہ صرف ان کی ذات کے لیے بلکہ قوم و ملت اور انسانیت عامہ کے لیے مفید اور کار گر تھیں علم و حلم ؛ ذکاوت حس ؛ دور اندیشی ؛ رہنمائی و دیدہ وری ؛ ان کی امتیازی خصوصیات تھیں اللہ تبارک و تعالٰی کے ان عطیات کو انہوں نے بڑے سلیقہ اور محنت سے استعمال کیا حضرت مفتی صاحب رحمتہ اللہ علیہ اندر سے مضطرب اور بے چین مگر متوازن ومرتب آہنگ شخصیت تھے جو زندگی بھر مسلسل عزم و حوصلے کے ساتھ پیغام حق و صداقت کی آبیاری کے لیے مواج رہے ، ان کے فکر و تدبر نے انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کر دیا تھا مفتی فیض الوحید قاسمی صاحبؒ کے کار ہائے نمایاں ملت کی نسل نو کے لیے بطور خاص نشانِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں 19 سمتبر 2021ء حضرت مفتی فیض الوحید قاسمی صاحبؒ کی یاد میں ان کی حیات و خدمات پر دارالعلوم محمودیہ مہنڈر پونچھ میں ایک پروگرام بطرز سیمینار منعقد ہوا پروگرام بھرپور نمائندگی اور اپنی غیر معمولی افادیت کے اعتبار سے بے پناہ کامیاب رہا کثیر تعداد میں ممتاز علماء کرام اور دانشوران نے شرکت کی اور صاحبِ سیمینار کے تعلق سے اپنے قیمتی تاثرات پیش کیے دارالعلوم محمودیہ کے روحِ رواں اور مادر علمی جامعہ ضیاء العلوم کے مایہ ناز ابنِ قدیم اور خطہ پیرپنجال میں فکر و نظر کے لحاظ سے فعال و متحرک شخصیت حضرت مولانا فتح محمد صاحب زیدہ مجدہ کی کوششوں کے نتیجے میں یہ عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا جو کہ تین نشستوں پر مشتمل تھا پہلی نشست 18 ستمبر 2021ء بروز سنیچر بعد مغرب منقعد ہوئی جس کی نظامت کے فرائض معروف صاحب لسان و قلم اور نوجوان عالم دین مفتی عبدالرحیم ضیائی قاسمی صاحب ناظم اعلٰی مدرستہ التوحید و امام و خطیب مرکزی جامع مسجد تھنہ منڈی (راجوروی) نے انجام دیئے تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ دارالعلوم محمودیہ کے دو طالب علموں نے پیش کی اور پھر تاثرات کا سلسلہ جاری ہوگیا اس مذاکرہ علمی کا آغاز علامہ حافظ چراغ نصیرالقاسمی علیہ الرحمتہ والرضوان کے نواسے مولانا شفیق الرحمن چراغ صاحب حفظہ اللہ کی تاثراتی تقریر سے ہوا آں موصوف نے مختصراً مگر نہایت جامع اور پر مغز انداز میں مفتی صاحب کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی انداز خطابت سے حافظ چراغ صاحبؒ جو کہ اپنے عہد میں خطہ کشمیر کی ولولہ خیز شخصیت تھے کے علوم کے پر تو معلوم ہوۓ رات کا قیام ایک ساتھ رہا علوم سے متمتع ہونے کی کوشش رہی خوبی کی بات یہ کہ بعد بیان مجمع میں بیٹھے اپنے حفظ کے استاذ قاری محمد اعظم صاحب جو کہ ہمارے بھی استاذ ہیں کو اٹھا کر اسٹیج پر لے آۓ ان نسبتوں کے عملی قدردانوں کی آجکل کمی ہے اس لیے ذکر کر دی گئی ضرورت ہے کہ ایسی خوبیاں جہاں اور جس میں بھی نظر آئیں قدردانی کے طور پر ان کو تذکرے میں لایا جاۓ سچ کہا ہے کہنے والے نے کہ ادب سے ہی انسان ؛ انسان ہے اور علم کتابوں سے نہیں آتا استادوں سے آتا ہے بہرحال خطہ کے مقتدر علماء کرام کو اس مجلس میں اظہار خیال کا موقع ملا دوسری نشست بعد نماز فجر منعقد ہوئی جس میں حضرت مولانا صلاح الدین سیفی نقشبندی حفظہ اللہ کا نہایت ہی ایمان افروز بیان ہوا تیسری نشست 19 ستمبر 2021ء کی صبح احاطہ دارالعلوم محمودیہ کے وسیع پنڈال میں منعقد ہوئی جس کا آغاز مولوی و حافظ شمس الزماں خاں سلمہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا پروگرام کی صدارت حضرت مولانا پیر صلاح الدین سیفی نقشبندی حفظہ اللہ نے فرمائی نظامت کے فرائض رئیس الحفلات والاجتماعات حضرت مولانا فتح محمد صاحب مدظلہ نے انجام دیئے خطہ پیرپنچال کے معمر علماء کرام کو کسی پہلے پروگرام میں یکجا دیکھا گیا جن کی موجودگی پروگرام کے وقار میں اضافہ کر رہی تھی اس باوقار اجلاس میں شرکت کرنے والے شرکاء کرام کا استقبال پروگرام کے روحِ رواں حضرت مولانا فتح محمد صاحب مدظلہ نے کیا آں موصوف نے اپنے استقبالیہ میں کہا کہ قبل ازیں بھی ایسے بہت سارے یادگار اور مثالی پروگرام منعقد ہوچکے ہیں امید ہے کہ یہ اجلاس بھی سنگِ میل کی حیثیت سے سامنے آۓ گا ان شاء اللہ اسٹیج کی ایک جانب خطہ پیرپنجال کے چند مشاہیر علماء کرام سے معنون ایک طویل فہرست آویزاں تھی فرمایا کہ ضرورت ہے کہ خطہ پیرپنجال کے علماء دیوبند کی زندگی کے مفید گوشوں کو منظر عام پر لایا جاۓ تاکہ ان کے تابندہ نقوش کی روشنی میں نسلِ نو کو اپنے مستقبل کا خاکہ تیار کرنے میں مدد مل سکے جس کے لیے خطہ میں بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبدالرحیم خاکی صاحب سے متعلق معلوم ہوا کہ وہ اس سلسلہ میں کام کریں گے اللہ پاک آسان فرماۓ اور قبول فرماۓ اس موقع پر پہاڑی ترجمہ قرآن مجید کے اجراء کے ساتھ مفتی صاحب مرحوم و مغفور کے حیات و خدمات پر مبنی کتابوں کا اجراء بھی ہونا تھا رسم رونمائی کا عمل شروع کیا گیا سب سے پہلے پہاڑی ترجمہ قرآن مجید کے اجراء کے لیے مترجم قرآن مجید حضرت مولانا شفیق الرحمن خان قاسمی حفظہ اللہ ہندواڑہ کشمیر اور صدر اجلاس حضرت مولانا صلاح الدین سیفی نقشبندی مدظلہ سمیت دیگر موقر شخصیات کے ہاتھوں رونمائی ہوئی اور پھر حضرت مولانا مفتی محمد اسحاق نازکی صاحب استاذ دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کشمیر کی تصنیف لطیف بنام ” ذکرجمیل بِفَیضِ وحید ” ( یعنی وہ ایک روشن ستارہ تھا ) کا اجراء ہوا اس کے بعد کاتب السطور (مقصوداحمدضیائی) کے قلم سے صادر ہونے والی دو کتابوں میں سے مفتی فیض الوحید قاسمیؒ کی زندگی کے چند روشن پہلو پر مبنی کتاب بنام : ” سنگلاخ وادیوں کا مرد آہن ” کا اجراء عمل میں آیا اور پھر میری دوسری کتاب جو کہ خطہ کی عظیم دانش گاہ جامعہ ضیاء العلوم کے موقر استاذ اور سابق شیخ الحدیث حضرت مولانا قمرالدین قاسمیؒ کی حیات و خدمات پر مبنی بنام : ” ماہتاب علم و عمل ” کا اجراء ہوا اور پھر کہنہ مشق صاحبِ قلم ؛ صاحبِ ذوق اور صاحبِ طرز مصنف جناب پروفیسر مرزا خان وقار صاحب کا ” سفرنامہ حج ” بنام ” سفرمحمود ” کی رونمائی عمل میں آئی بعد اذاں جملہ مولفین کتب کو رداۓ تکریم کے طور پر شال اوڑھا کر عزت افزائی کی گئی اس کے بعد باقاعدگی سے تاثراتی سلسلہ ایڈوکیٹ جناب مرتضٰی خان صاحب سے شروع ہوا موصوف صاحب سیمینار حضرت مفتی فیض الوحید قاسمیؒ کے کامیاب ترین وکیل رہے تھے آں موصوف نے قدرے تفصیلاً مفتی صاحبؒ کے تعلق سے اہم اہم گوشوں پر روشنی ڈالی مجموعی لحاظ سے ان کا اظہار خیال اہمیت کا حامل رہا اس میں ایک عالم دین ؛ ایک مفسر قرآن مجید ؛ ایک داعی توحید و سنت ؛ ایک سیرت نگار ؛ ایک خطیب سیف بے نیام ؛ مرد میداں ؛ سے وابستہ ولولہ انگیز یادیں بھی تھیں جناب مرتضٰی خان صاحب ایڈوکیٹ کے تاثرات حرف حرف جوۓ خون معلوم ہوۓ انداز تخاطب سے آشکارا تھا کہ موصوف انسانوں کی بھیڑ میں منفرد شناخت کے حامل شخص ہیں علماء دین سے بے پناہ محبت بھی دل میں رکھتے ہیں اللہ رب العزت سلامت رکھے اور زندگی کا باغ و بہار لہلہاتا رہے آں موصوف کے تاثرات کو حاضرین نے نہایت ذوق و شوق سے سماعت کیا بلکہ ایک سماں بندھ گیا یہاں دو وجہوں سے ہم دیگر شرکاء پروگرام کے ناموں کے اظہار اور تبصرہ سے معذرت چاہیں گے ایک مضمون کی تنگ دامنی مانع ہے اور دوسرے یہ کہ صداۓ دل نامی واٹس ایپ اور فیسبک گرپس کے پیج پر مکمل پروگرام شائع ہوچکا ہے البتہ جملہ شرکاء کرام کے تاثرات کا جو خلاصہ اپنی سمجھ میں آیا اس کو لفظوں میں میرے نزدیک کچھ اس طرح سے تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ” یہ اہل خطہ کی خوش قسمتی ہے کہ ان میں برابر ایسے افراد پیدا ہوتے رہے ہیں جو اس مطلوبہ بیدار مغزی اور صحیح قوت و کردار کے حامل رہے ہیں ” اس تاثراتی سلسلہ کی آخری کڑی خطہ پیرپنجال کی سربر آوردہ شخصیت ؛ یگانہ عالم ؛ فخر کشمیر استاذ العلماء محسن قوم و ملت حضرت مولانا غلام قادر صاحب حفظہ اللہ کے نقش جمیل صاحبزادے حضرت مولانا سعیداحمد صاحب حبیب رہے آں موصوف نے مفتی صاحب مرحوم و مغفور کی حیات تابدار پر منفرد انداز میں روشنی ڈالی موقع کے تعلق سے جو باتیں ارشاد فرمائیں وہ خاص و عام کے لیے یکساں طور پر مفید معلوم ہوئیں آں موصوف نے اپنے تاثرات کے اختتام پر اس عاجز کی نئی کتاب کے سرورق حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کے درج ذیل شعر
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ میرا پسندیدہ شعر ہے اور اسی پر اپنی بات بھی ختم فرمائی اس موقع پر چند تجاویز بھی پاس کی گئیں حاضرین نے ہاتھ بلند کر کے جن کی تائید کی پروگرام کے آخر میں صدر سیمینار حضرت مولانا صلاح الدین سیفی نقشبندی حفظہ اللہ کا ایمان افروز بیان ہوا جسے حاضرین نے نہایت یکسوئی کے ساتھ سماعت کیا اور پھر حضرت والا کی رقت آمیز دعا پر پروگرام اختتام پزیر ہوگیا اہل خطہ جس کے لیے ہمارے اکابر نے اپنی زندگیوں کی توانائیاں صرف کیں وہ جو با حیات ہیں یا وہ جو اس دنیاۓ بے مایہ سے خداۓ رحیم و کریم کی جنت بامایہ کو کوچ کر گئے ہیں کا حق ہے کہ ان کے کارناموں کو فراموش نہ کیا جاۓ اور اس کے لیے اس قسم کے پروگرام ان کا حق ادا کرنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جاننا چاہیے کہ وہ قوم جو اپنے محسنوں کی قدر نہیں کرتی اہل نظر فرماتے ہیں کہ قدرت ایسے لوگوں پر سے برکتوں اور شفقتوں کا سایہ اٹھا لیتے ہیں اور انہیں طرح طرح کی آزمائشوں کے لیے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں لہذا ہر مہذب قوم کی تہذیبی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دانشوروں علم دوستوں اور ہُنرمندوں کو یاد رکھے اور گاہے بگاہے انہیں نئی نسلوں کے سامنے پیش کرتے رہیں تاکہ اعلٰی تہذیبی اور انسانی قدروں کا تسلسل قائم رہے ایسے لوگ کہ جن کی حیات و خدمات اس قابل ہوں کہ ان کا تذکرہ کیا جانا چاہیے پر مقالات و مضامین لکھے جائیں ان پر کتابیں شائع کی جائیں ان کی یاد میں سیمینار منعقد کیے جائیں میرے خیال سے کسی کی یاد کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کو متعارف کرانے کے لیے اس سے بہتر کوئی دوسرا اقدام نہیں ہوسکتا یہ عاجز ارمغان تبریک پیش کرتا ہے اس پروگرام کے روحِ رواں حضرت مولانا فتح محمد صاحب مدظلہ کی خدمت میں کہ جنہوں نے اس پروگرام کا انعقاد کرکے دروازہ کھولنے کی قابل تعریف کوشش کی ہے امید ہے کہ یہ سلسلہ مزید چلے گا اس سے اہل علم و قلم کو مواقع میسر آتے ہیں تحریری و تقریری طور پر شرکت کرنے کے جس سے وقت کے اہل علم کی صلاحیت بھی درست طور پر استعمال ہوتی ہے یہی وہ موقع بھی ہوتا ہے جو اہل علم کے آپسی میل ملاپ کا ہوا کرتا ہے مطالعہ بتاتا ہے کہ سیمیناروں کا یہ عظیم الشان سلسلہ تحریکی انداز کا ہوا کرتا تھا جن میں باکمال اہل علم کی کہکشاں جلوہ گر ہوا کرتی تھی اور اب اس سلسلہ نے جلسہ عام اور اس میں بھی ایک یا دو لوگوں کے اظہار خیال تک محدود کر دیا ہے جب کہ یہ اہل علم کی مشترکہ ذمہ داری اور حق ہوتا ہے یقیناً یہ قابل توجہ بات ہے ہم پروگرام کے منتظمین کی اس کوشش کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے اس مذاکرہ علمی میں اس عاجز کو بھی شرکت کی دعوت دی اور اس موقع سے آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع بھی دیا بایں وجہ دو کاوشیں منصہ شہود پر آپائیں اس طرح مفتی فیض الوحید صاحب قاسمیؒ کی قدر دانی میں مجھے بھی حصہ ملا بڑی ناسپاسی ہوگی کہ اس موقع پر مخلصم ماسٹر ارشد صاحب کا شکریہ نہ ادا کیا جاۓ جن کو میزبانی کا شرف حاصل رہا اور جو علماۓ دین کے قدردانوں میں شمار ہوتے ہیں پہاڑی مترجم قرآن مجید مولانا شفیق الرحمن خان قاسمی صاحب اور ان کا قافلہ خطہ پیرپنجال کی سماجی شخصیت الحاج سردار مطلوب الرحمن خان صاحب چنڈک پونچھ ؛ مولانا محمد اکرم صاحب راجوروی اور اس عاجز کا قیام موصوف کے گھر رہا ؛ ناشتے میں خطہ پیرپنجال کے اکابر علماء میں سے حضرت مولانا عابد حسین رحمانی صاحب مترجم فیض المنان ؛ حضرت مولانا شمس الدین کھنیتر ثم راجوروی حضرت مولانا قاری شمس الدین صاحب مظاہری کلائیوی ؛ حضرت مولانا نورالحسن صاحب قاسمی مدظلہ بھی تشریف لے آۓ اکابر کی موجودگی اس عاجز کو قابل فخر و عزت معلوم ہوئی قرب نصیب ہونے پر اللہ ﷻ تعالی شانہ کا شکر ادا کیا یقیناً
یہ لمحے زندگی میں بار بار آیا نہیں کرتے
آخری بات : کہنے کو تو بہت سی باتیں کہنے میں آگیئں لیکن میزبان مکرم سے متعلق بات چیت کچھ یوں رہی میزبان کی حیثیت سے جناب ماسٹر ارشد صاحب اور ان کے بیٹوں عزیزم بلال ارشد اور عزیزم حمزہ مُصطفٰی ایک اعتبار سے مثالی میزبان ثابت ہوئے کھانے پینے کی خاطروں کا تو خیر کہنا ہی نہیں اس کا اندازہ کچھ پہلے ہی سے تھا نہایت لطیف و شیریں لوازمات کے روپ میں یقیناً کھانے کی یہ تنوعات ہر کسی کے حصے کی چیزیں نہیں ہوتیں مختصر یہ کہ سادگی کے لحاظ سے دعوت شیراز کا نمونہ !!! باقی بڑی چیز یہ دیکھنے میں آئی کہ مہمان کے مزاج کا خاص طور پر خیال رکھا گیا یہ بات بہت کم میزبانوں کے حصے میں آتی ہے عزیزم بلال ارشد اپنی گاڑی کے ساتھ دوران قیام اس عاجز کو آمد و رفت کے لیے اچھے معاون ثابت ہوئے ان کے ایثار کا جذبہ مثالی رہا غرض کہ میزبان محترم اور ان کے دونوں صالح بیٹوں کے اس مخلصانہ جذبہ ایثار کو ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا اللہ پاک رحمت و برکت کے ساتھ حیات خضر بخشے بہرحال اب میں اس مقام پر پہنچا ہوں کہ جہاں یہ تذکرہ ختم کیا جا سکتا ہے لہذا یہ راہرو قلم اس شعر کے ساتھ رخصت ہوا چاہتا ہے
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں تھک گیۓ داستاں کہتے کہتے








