احساس نایاب ( شیموگہ, کرناٹک)
صبح سے مولوی صاحب بیحد طیش میں تھے، غصہ کی وجہ سے اُنکی آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا وہ اپنی ناک پھلاتے ہوئے میرے قریب آئے اور سیف کہہ کر آواز دی, اُنکی آواز میں بلا کا غصہ تھا، غصہ کی وجہ سے پورا چہرہ سرخ ٹماٹر کی مانند ہوچکا تھا، آواز میں بھی کپ کپاہٹ تھی, میں بچک کر جی محترم کہتے ہوئے انکی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے مجھ پہ غراتے ہوئے مسجد کے تمام ذمہ داران اور محلے کے سبھی نوجوانوں کو جلد از جلد بلا کر لانے کو کہا, اُن کے جلال کو دیکھتے ہوئے میں نے کچھ بھی پوچھنا مناسب نہیں سمجھا اور فورا انکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مسجد کے صدر صاحب, سیکریٹری صاحب کو پڑوس والے منو کے ذریعے مولوی صاحب کا پیغام بھجوا دیا , باقی نوجوانوں کو کال کرکے مسجد کے پاس آنے کے لئے کہہ دیا , تھوڑی ہی دیر میں ایک کے بعد ایک سلام کرتے ہوئے سبھی جمع ہوگئے …….
سارے مولوی صاحب کے جلال کو دیکھ کر پریشان تھے اور خاموش سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھے جارہے تھے کہ اتنے میں مولوی صاحب نے ماحول پہ چھائے سناٹے کو توڑتے ہوئے
صدر صاحب سے مخاطب ہوکر چند دن قبل اُن کے گھر کرائے پہ رہنے آئی فیملی جس میں میاں, بیوی اور ایک بچہ تھا اُنکے بارے میں بات کرنے لگے
دراصل مولوی صاحب کو اُس گھر کی خاتون اول دن سے ہی ایک آنکھ نہ بھائی تھی , وہ اکثر اُس کے چال چلن , رہن سہن کو لے کر تنقید کرتے رہے جسکی وجہ سے مولوی صاحب اور اُن کرائے داروں کے درمیان مزید اختلافات بڑھ گئے مگر اس میں انتہا تو اُس وقت ہوئی جب اُسکا خاوند جمعہ کی نماز کے بعد راستے میں مولوی صاحب سے گفتگو کرتا ہوا اپنے گھر کی طرف جارہا تھا اور سامنے سے اُسکی بیوی جسکا نام مسکان تھا وہ بغیر برقعے کے جمعہ کی نماز کے وقت بازار کی طرف سے آرہی تھی یہ بات مولوی صاحب کو ناگوار گزری، انہوں نے اُس کے خاوند ضمیر کو ڈانٹتے ہوئے اپنی بیوی کو سمجھانے اور قابو میں رکھنے کی بات کہہ دی پھر جیسے ہی خاوند اور مولوی کے درمیان کی گفتگو مسکان کے کانوں میں پڑی اُس نے تپاک سے مولوی صاحب کو جھڑک دیا جس کے بعد تو تو میں میں ہونے لگی اور معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی، لیکن شکر ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ کا کہ وقت رہتے صدر صاحب یعنی مکان مالک بیچ میں آگئے اور دونوں کے درمیان مصالحت کرادی لیکن اُس دن سے مولوی صاحب صدر صاحب کے اوپر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ جتنی جلد ہوسکے مکان خالی کروائیں اُنکی بات پہ ہر بار صدر صاحب ٹالتے رہے کیونکہ پہلے ہی گھر کا اگریمنٹ بن چکا تھا اور اگریمنٹ ہونے کے بعد فورا کسی سے مکان خالی کروانا مشکل تھا لیکن مولوی صاحب ماننے کو تیار ہی نہ تھے اور اپنی بات پہ آڑے رہے ساتھ ہی محلے کے نوجوانوں کو اُس فیملی کے خلاف بھڑکاتے رہے چند نکمے لڑکوں کو انکی جاسوسی کے لئے بھی تعینات کردیا تھا اور آج پتہ نہیں ایسا کیا ہوا ہے جو وہ اتنے طیش میں ہیں ……
ابھی بھی انکے چہرے کے تاثرات ویسے ہی ہیں جیسے کچھ دیر قبل تھے، وہی زرد چہرہ، وہی آنکھوں میں خون کے ڈورے، آواز میں وہی گرج، ناک کے نتھنے ابھی بھی پھولے ہوئے اور سبھی پہ غصہ، ڈانٹ ڈپٹ جاری تھی، ساتھ ہی ضمیر اور مسکان پہ گالیاں و لعن طعن کی بوچھار ہورہی تھی اور اس درمیان کسی میں بھی اتنی جراءت نہیں تھی کہ مولوی صاحب کو بیچ میں ٹوک کر وجہ دریافت کریں، سارے گردنیں جھکائے ترچھی نگاہوں سے ایک دوسرے کا سہارا مانگ رہے تھے کہ کوئی تو اپنی جراءت دکھائے، کوئی تو مولوی صاحب سے غصہ کی وجہ پوچھے ……….. آخر کار سکریٹری صاحب نے خود میں کچھ ہمت جٹائ اور مولوی صاحب کی بات کو کاٹتے ہوئے وجہ دریافت کی …… تب جاکر مولوی صاحب خود پہ قابو پاتے ہوئے مسکان کے کردار، اُس کے ماضی سے جڑے ایسے حقائق سبھی کو سنائے، جنہیں سننے کے بعد جو بھی مسکان کو لیکر اپنے دل میں نرم گوشہ رکھ رہا تھا اُس کے دل میں بھی اس کے لئے کڑواہٹ بھر گئی اور کچھ ہی پل میں مولوی کی فوج بن کر سارے مسکان کے گھر کی چوکھٹ پہ کھڑے ضمیر سے مکان خالی کرنے کا مطالبہ کرنے لگے تبھی مسکان اندر سے اگریمنٹ کے کاغذات لیکر باہر آئی اور آنکھیں پھاڑے سبھی کو گھورے جارہی تھی مسکان ہے ہی بڑی ڈھیٹ اُسے کسی کی پرواہ کسی کا خوف بالکل نہیں ہے اتنی بڑی جماعت کے آگے ڈھٹائی سے کاغذات دکھا کر کہنے لگی کہ ہم بھیک میں نہیں ہیں باقاعدہ کرایہ دے رہے ہیں وہ بھی اصل کرائے سے تین گنا اور جب تک ہمارا اگریمنٹ کا وقفہ ختم نہیں ہوتا کوئی ہم سے یہ گھر خالی نہیں کرواسکتا، اس کے باوجود کسی نے چوں چرا کی تو میں سبھی پہ قانونی کاروائی کرونگی، مسکان کی اس دھمکی کو سنتے ہی صدر صاحب ڈھیلے پڑگئے ایک تو تین گنا کرائے کا ہاتھ سے نکل جانا دوسرا کورٹ کچہری کے جھنجٹ سے گھبرا کر وہ مولوی صاحب اور سبھی کو بہلا پھسلا کر وہاں سے لے جانے میں کامیاب ہوگئے اور کچھ وقت تک صبر کرنے کے لیے کہا ساتھ ہی بہت جلد گھر خالی کرانے کا بھی یقین دلایا، صدر صاحب کی بات کا احترام کرتے ہوئے سبھی اپنے اپنے گھر واپس لوٹ گئے اور کئی دنوں تک اسی طرح کا ماحول رہا پھر آہستہ آہستہ گذرتے وقت کے ساتھ سبھی نے اُس بات کو نظرانداز کردیا مگر مولوی صاحب کے روئیے میں کوئی بھی بدلاؤ نہیں آیا، اب بھی مسکان کے گھر کے آگے سے گذرتے ہوئے لاحول ولاقوۃ پڑھتے، یہاں تک کے اُس کے خاوند ضمیر سے بھی سلام دعا بند کردی اور محلے کے بچوں کو بھی انکے گھر آنے جانے سے منع کرتے رہے یونہی پورا ایک سال گزر گیا اور شہر بھر میں کارپوریشن انتخابات کا موسم گرما گیا جس میں امیدوار کے طور پہ مسکان نے بھی حصہ لیا تھا جس کا پتہ چلتے ہی مولوی صاحب نے محلے کے نوجوانوں کی فوج بناکر آپوزیشن امیدوار کی تائید میں زور و شور سے لگ گئے انکا مقصد ہر حال میں مسکان کو ہرانا تھا ووٹنگ کے دن بھی سارا دن وہ آپوزیشن امیدوار کے ساتھ ہی رہے پھر تیسرے دن جب انتخابات کا رزلٹ اناؤنس ہونے والا تھا اُس دن مولوی صاحب نے منت کا نفل روزہ رکھا خیرات بانٹی، نیاز مرادین سب کچھ کیں اور رزلٹ کے انتظار میں بےقرار ایک پیر پہ کھڑے تھے کہ وہ لمحہ آگیا جب رزلٹ اناؤنس کیا گیا, جیسے ہی رزلٹ اناؤنس ہوا مولوی صاحب کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی، انکے چہرے کا سارا پانی سوکھ گیا….. جب جیتنے والوں کی فہرست میں مسکان کا نام تھا، وہ فورا غصے کی حالت میں اپنے گھر لوٹ گئے اور سارا دن گھر سے باہر نہیں نکلے، محلے والے سبھی مولوی صاحب کے لئے پریشان ہورہے تھے اس لئے کئی لوگوں نے انہیں فون کال بھی کی لیکن انہوں نے کسی کی کال ریسیو نہیں کی، اُس پہ آس پڑوس کے محلے والے مسکان کی جیت کا جشن مناتے ہوئے پٹاخے جلارہے تھے, مٹھائیاں تقسیم کی جارہی تھی, یونہی سارا دن گزر گیا اور دوسرے دن بھی کچھ کچھ یہی حال رہا پھر تیسرے دن جمعہ کی نماز کے دوران میری نظر مولوی صاحب پہ پڑی انہیں دیکھ کر مجھے بہت برا لگ رہا تھا, خیر میں نے جمعہ کی نماز ادا کی اور گھر لوٹ رہا تھا کہ پیچھے سے مولوی صاحب نے آواز دی اور مسکراتے ہوئے مخاطب ہوکر محلے کے سبھی نوجوانوں اور صدر صاحب کو اکٹھا کرنے کے لئے کہا, مولوی صاحب کی بات سن کر میرے دل کی ڈھڑکن آج پھر تیز ہونے لگی , مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک پھر کیا ہوگیا جو سبھی کو اکٹھا کیا جارہا ہے خیر میں نے انکا حکم بجا لایا اور مسجد میں ہی موجود سبھی کو مولوی صاحب کے پاس آنے کے لئے کہہ دیا ….
تقریبا دو سے ڈھائی بج چکے تھے جب سارے جمع ہوئے مولوی صاحب نے سبھی کو مسکان کے گھر جانے کی بات کہی جو سن کر سبھی میری ہی طرح حیران پریشان ہوکر مولوی صاحب کو دیکھے جارہے تھے, مولوی صاحب نے سبھی کو ساتھ چلنے کا کہہ کر خود فوج کے سپاہ سالار کی طرح سینہ چوڑا کئے دونوں بازوؤں کو ہوا میں ہلاتے ہوئے تن کر مسکان کے گھر کی طرف جانے لگے اور ساری فوج اپنے سپہ سالار کے پیچھے پیچھے اصل ماجرے سے انجام چل پڑے، جیسے ہی سبھی گھر پہنچے ضمیر نے ہم سبھی کو اندر جہاں صوفے پہ مسکان پیر پہ پیر ڈالے بڑے ہی رعب سے بیٹھی ہوئی تھی …..
مولوی صاحب سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور صوفے کے آگے لگی کرسی پہ بیٹھ گئے اور ہم سبھی انکے پیچھے کھڑے بس حالات کو سمجھنے کی کوش کررہے تھے کہ اتنے میں مولوی صاحب مسکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگے …… محترمہ مسکان صاحبہ جیت کی بہت بہت مبارکبادی پیش کرتا ہوں یہ کہتے ہوئے مولوی صاحب کرسی سے آٹھ کھڑے ہوئے اور صدر صاحب کے ہاتھ سے پلاسٹک بیگ لی اور اس کے اندر سے مرون رنگ کی بہت ہی خوبصورت مخملی شال اور موگرے کے پھولوں کا ہار نکالا اور مسکان سے بنی محترمہ مسکان صاحبہ کو پہناتے ہوئے مولوی صاحب کا چہرہ آج چمک رہا تھا، مولوی صاحب کے اس بدلتے رنگ کو دیکھ کر میرا منہ بس کھلا کا کھلا اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ……….