محمد اعظم شاہد
جن ہم وطنوں نے اپنے ملک کی تقسیم کی ہولناکیوں اور آزاد ہندوستان کی دوسرے ممالک کے ساتھ ہوئی جنگوں کی ہلاکت خیزی نہیں دیکھی انہیں پچھلے دوبرسوں سے ہمارے ملک میں ہورہے حالات انتہائی سنگین اور بدبختانہ لگیں گے ۔کورونا کی خطر ناک وبا کے دوران ملک میں حکومت کی ناکارہ اور ناقص کارکردگی نے ثابت کردیا کہ ملک خود غرض ارباب اقتدار کے ہاتھوں بے بس بن کر رہ گیا ہے ۔مگر ملک کے حکمرانوں کے تلوے چاٹنے والے خوشامد کرنے والے تو آنکھیں بند کر کے تعریفیں کرتے تھکتے نہیں ہیں ۔ ستر سال کے دوران جو کچھ ہونے سے رہا وہ اب ہورہا ہے اور بہت کچھ ہونے والا ہے۔ایسے دعوے 2014ء سے مسلسل سننے میں آرہے ہیں،مگر اِن سات سالوں میں حکومت نے جو کیا ہے وہ اچھا کہنے کے دائرے میں شاید ہی آسکے ۔عام ہندوستانی اِن سات سالہ دور ِ حکومت میں عدم تحفظ اور خوف کے سائے میں سہمے ہوئے وجود کے ساتھ جی رہا ہے ۔کب کونسا نیا قانون آئے گا ،کونسی نئی مصیبت لے آئے گا ،اس سے متعلق پریشان ہونا اب ہردن کی بات ہوگئی ہے ۔نوٹ بندی ،جی ایس ٹی ،کشمیر میں آرٹیکل 370کا خاتمہ ،سی اے اے ،این آرسی کا تنازع ،کسان مخالف بِل، سرکاری اداروں اور صنعتوں کی نجی کاری ،معاشی بحران ،آمدنی میں گراوٹ ،بڑھتی قیمتیں اور بے روزگاری نے ملک کو جس قدر پیچھے دھکیلا ہے ،اس بحران سے نکلنے میں کئی مہینے او رسال لگ جائیں گے ۔گزشتہ سال کورونا وبا کے دوران غیر منصوبہ بند طور پر لاک ڈاؤن نافذکرنا اور مہاجر مزدوروں کا اپنے گاؤں لوٹنے کاعذاب یہ طلوع آزادی ( 9147)کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جو لوگوں کی ہجرت کا عذاب تھا اس کی یاد میں اس کے زخم تازہ کرنے والا وحشت ناک واقعہ گزرا ہے ۔جس دور سے اور جن حالات سے ہمارا ملک گزر رہا ہے ایسی غیر یقینی صورت حال پچھلے ستر سال میں کبھی نہیں دیکھی گئی ۔
کورونا کے دوران اسپتالوں میں بستروں کی قلت ،دوائیوں کی کمی اور دوائیوں کی کالا بازاری ،آکسیجن کی کمی ،بے مروّتی سے مریضوں کے ساتھ سلوک ،نجی اسپتالوں میں مہنگا علاج ،سرکاری اسپتالوں میں رشوت کا بازار ،مرنے والوں کی آخری رسومات میں دشواریاں اور ایسی بہت سی باتیں ہیں جن سے ملک کی موجودہ حکومت کی بے توجہی پر پوری دنیا میں باتیں ہورہی ہیں ۔نئی حکومت جب سات سال پہلے وجود میں آئی یہ مان لیا گیا تھا کہ ملک اب جلد ہی ورلڈ لیڈر اور سوپر پاور بن جائے گا ۔مگر جس طرح باہر کے ملکوں سے کورونا بحران کے دوران ہندوستان مدد لیتا رہاوہ سوپر پاور کے شایان شان ہر گز نہیں ہے ۔ بڑے بڑے ممالک جانے دیجئے جبکہ کینیا( Kenya)جیسے چھوٹے افریقی ممالک نے بھی ہندوستان کو مدد کی خیرات سے نواز اہے ۔ملک کے وزیر اعظم کو ملک کا مقبول لیڈر کہا جانے لگا اور یہ بھی کہ ملک اب محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔کس قدر محفوظ ہے ملک ،یہ اہل نظر بہتر جانتے ہیں ۔انڈیا ٹوڈے کے چینل للن ٹوپ (Lallantop)نے ایک سروے کروایا معلوم کرنے کے لئے کہ موجودہ وزیر اعظم کیا دوبارہ وزیر اعظم بننے کے اہل ہیں ۔اس سروے میں 19فیصد لوگوںنے کہا ’ہاں ‘اور 89فیصداحباب نے کہا ’نہیں ‘۔یہ مقبولیت کا گراف ہے وزیر اعظم کو جو ان کی کارکردگی کا آئینہ ہے ۔ایک اور سروے میں 65فیصد لوگوں نے سات سالہ دور حکومت کو فرقہ واریت سے بھر پور بتایا ہے ۔سال 2024سے پہلے ہی 2021ء میں ہمارے ہر دلعزیز وزیر اعظم دنیا کے غیر ذمہ دار قائدین میں شمار ہونے لگے ہیں ۔اس کی اہم وجہ یہی ہے کہ وہ اپنے ترجیحات (Proritization) میں بھٹکے ہوئے ہیں ۔اپنے قوم سے خطاب میں وہ اِن دنوں میں بھری ہوئی آواز میں نم ناک آنکھوں سے ملک کے حالات پر غم زدہ دکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب عوام کے لئے راحت کاری سے جڑے ہر کام کو اپنے نا م کرنے میں مصروف اور متحرک نظر آتے ہیں ۔سُکڑی معیشت اور بے روزگاری کی مار سہتے ہوئے ملک میں عوام کے پیسے سے کروڑوں روپیوں کی لاگت سے نئے پارلیمنٹ کی عمارت اور سنٹرل وسٹا کاملپکس کی تعمیر میں غلطاں یہ حکومت بہکی ہوئی تو کبھی بھٹکتی ہوئی لگتی ہے۔