’ہندوستان امن کے تئیں پابند عہد ‘

0
0

خود مختاری کی دفاع کے لیے ملک کوئی بھی قربانی دینے کو تیار:راجناتھ
یواین آئی

نئی دہلی؍؍وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر جاری کشیدگی کے درمیان آج واضح طور پر کہا کہ ہندوستان امن کے تئیں پابند عہد ہے لیکن ساتھ ہی وہ اپنی خود مختاری کے لیے بھی مکمل تیار ہے خواہ اس کے لیے کوئی بھی قربانی دینا پڑے ۔ نیشنل ڈیفنس کالج کی ‘ہیرک جینتی’ پر منعقد وبینار میں ملک اور بیرون ملک کے ماہر اسٹریٹجسٹک، سلامتی، غیرملکی پالیسی ماہرین، فوج اور انتظامی افسران کے سامنے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے مسٹر سنگھ نے مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ جاری فوجی تعطل کے تناظر میں کہا کہ گذشتہ وقت سے ہندوستان کو اپنی سرحدوں پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ انہوں نے کہا،‘ ہندوستان امن دوست ملک ہے ۔ ہمارا ماننا ہے کہ اختلافات کو تنازعات میں میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے ۔ ہم مذاکرہ کے ذریعے اختلافات کے پرامن حل کو اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن ایک طرفہ کاروائی اور حلمے کی حالت میں وہ اپنی خود مختاری کی دفاع کے لیے تیار ہے ، خواہ اس کے لیے کوئی بھی قربانی دنا پڑے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ مختلف ممالک کے سفر میں اتار چڑھاؤ سے ہم نے سب سے بنیادی سبق یہی سیکھا ہے کہ محض امن کے ارادے سے امن حاصل نہیں کی جا سکتی لیکن امن یقینی بنانے کے لیے جنگ کے تئیں مزاحمت کی استعداد پیدا کرنا پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے استعداد کو فروغ اور انڈیجائزیشن کی طویل مدتی پالیسی تیار کرکے یہ مزاحمت کی استعداد پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے خطے میں اور اس کے باہر مشترکہ مفادات کے لیے یکساں فکر کے حامل ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں اور شراکت داری کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہماری اسٹریٹجک شراکت داری سے قبہ کہیں زیادہ مضبوط ہوئی ہے ۔ ہندوستان کے روس کے ساتھ بھی مضبوط روایتی اور گہرے رشتے ہیں اور دونوں ملکوں نے ماضی میں کئی چیلنجز کا مشترکہ طور پر سامنا کیا ہے ۔ ہندوستان اور آسٹریلیا کے بھی مشترکہ قدر اور ایک جیسی تشویش ہے ۔ گذشتہ جون میں دونوں ملکوں کے درمیان ورچول کانفرنس سے وسیع اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم ہوئی ہے ۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ گذشتہ چھ برسوں میں حکومت نے آئندہ ایک دہائی کے لیے ملک کی قومی سلامتی کے تئیں چار نکاتی بلو پرنٹ پیش کیا ہے ۔ پہلا ملک کی ریاستی اتحاد اور خود مختاری کے باہری خطرات اور داخلی چیلنجز کے محاذ پر سکیورٹی کی اہلیت پیدا کرنا، دوسرا محفوط استحکام پیدا کرنا جس سے ملکی معاشی ترقی کی راہ ہموار ہو اور عوام کی امیدوں کے مطابق قومی تعمیر کے وسائل اکٹھا کیے جا سکیں۔ تیسرا ہم دوسرے ملکوں میں رہنے والے اپنے عوام اور اپنے دفاعی مفادات کی دفاع کے لیے پر عزم ہیں اور چوتھا ہمارا ماننا ہے کہ عالمی ور باہم مربوط دنیا میں ملک کے دفاعی مفادات مشترکہ اور یکساں ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا