ابھیشیک نے نا امید ی کو امید میں تبدیل کرکے ٹی بی کو شکست دی

0
0

اب دوسرے مریضوں کے لئے مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں
حاجی پور 14 اگست: گھر سے دور ابھیشیک بنگلور میں اپنے سنہرے مستقبل کے لئے دل وجان سے محنت کررہا تھا۔ یہ 2014 کی بات ہے جب ابھیشیک کو بار بار چکر اور بخار کی شکایت ہوئی۔ جب بخار بڑھنا شروع ہوا تو وہ حاجی پور اپنے گھر آگیا۔ جہاں اس نے ڈاکٹر کو دکھا کر دو مہینے تک ٹائفائڈ کی دوا کھائی۔مگر افاقہ نہ ہوا، صورتحال کو سنگین دیکھ کر وہ پٹنہ کے کسی ڈاکٹر سے ملے۔ جہاں طبی تفتیش میں ٹی بی کی تصدیق ہوئی، اس کا علاج شروع کردیاگیا۔ تقریباً چھ ماہ بعد ابھیشیک کی حالت اور خراب ہوگئی۔ اس بار دیگر پریشانیوں کے ساتھ اسے خون کی متلی بھی ہونے لگی۔پھر اس نے ڈاکٹروں کو دکھایا اس بار طبی تحقیقات میں ایم ڈی آر ٹی بی کی تصدیق ہوئی۔ ابھیشیک کو جب اس مہلک مریض کی تفصیلات ڈاکٹروں کے ذریعہ ہوئی تو اس کے ہوش اُڑگئے۔ ابھیشیک نے بتایا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ میں ایم ڈی آر کاشکار ہوچکا ہوں تو مجھے لگا کہ اب میری موت قریب آگئی ہے۔
باقاعدگی سے دوائیوں کا استعمال نہ کرنا مہنگا پڑا:ابھیشیک نے بتایاکہ جب مجھے ابتداء میں دوائیں دی گئیں تو میں نے سوچا کہ یہ ایسی ہی کوئی بیماری ہے، ٹھیک ہوجائے گی۔ میں نے ان دوائیوں کا استعمال باقاعدہ نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ میں ایم ڈی آر کا شکار گیا۔ پرائیویٹ اسپتال سے  میں ایم ڈی آر کی دوا لے رہا تھامگر اس نے میری الجھن کواور بڑھا دیا۔ اس بار ابھیشیک نے ایمس دہلی کا رخ کیا۔ یہاں انھیں بتایا گیا کہ مناسب تحقیقات کے بغیر انہیں ایم ڈی آر کی دوائیں کھا کر ا ن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایمس سے ابھیشیک کو حاجی پور کے ڈوٹس سینٹر بھیج دیا گیا جہاں ایم ڈی آر کی مناسب تفتیش ہوئی۔
حاجی پور میں تفتیش کے سات دن بعد، اسے پٹنہ کے اگم کنواں کے ٹی بی اسپتال بھیج دیا گیا۔ جہاں ان کا باقاعدہ علاج کیا گیا۔ اس دوران ابھیشیک کو ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ابھیشیک کے مطابق وہ علاج کے دوران ذہنی دباؤ کا شکار بھی تھا۔ سماعت میں دشواری ہونے لگی۔ ان ساری چیزوں کے بیچ یہ خوشگوار بات ہے کہ علاج کے دوران میرے اہل خانہ نے جس طرح سے میرا ساتھ دیا، اس کا قرض کبھی نہیں اداکرپاؤں گا۔ پورے 27 ماہ تک دوا کھانے کے بعد 2017 میں ٹی بی سے آزاد ہوا۔ علاج کے دوران، میں نے اپنی ناامیدی کو اپنی زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیا۔
فوری اور درست علاج ضروری:ٹی بی سے متعلق تجربات کی بنیاد پر ابھیشیک کا ماننا ہے کہ اس مرض کی صحیح شناخت کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ جو اس کی پیچیدگی کو مزید بڑھاتا ہے۔ جب میں زیر علاج تھا،اس وقت نئے مریض کو درجہ ایک کی دوائیں دی جاتی تھی۔ اگر کوئی فائدہ نہیں ہوا تو درجہ دو کی دوائیں دی جاتی،جب وہ بھی غیر موثر ثابت ہوتی تو ایم ڈی آرکی جانچ کی جاتی تھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مریض کو پہلے ہی ایم ڈی آر ٹی بی ہو اور اگر تحقیقات کے دوران پتہ چل جائے تو وقت اور رقم دونوں کی بچت ہوسکتی ہے۔
ٹی بی کے مریضوں کو ابھیشیک کا مشورہ: اس بابت ابھیشیک اپنے تجربات کی بنیاد پر دوسرے مریضوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صبرکا دامن ہرگز ہاتھ سے نہ چھوٹے، دوا لینے کے دوران کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، لیکن دوائیوں سے یہ بیماری یقینا دور ہوجائے گی۔ آس پاس کے لوگوں کی منفی باتوں کو نظرانداز کریں، صرف ماہرین کی باتوں پر اعتماد کریں۔ دوائیں لینے میں تسلسل برقرار رکھیں، ایک دن بھی ناغہ نہ ہونے دیں۔ ٹی بی کو شکست دینے والے ابھیشیک طبی مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے تجربات اور معلومات لوگوں کے ساتھ بانٹنے کا عہد کررکھا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا