جنم آشٹمی کے موقع پر محکمہ بجلی کی جانب سے متواطر بجلی سپلائی کی بحالی میں ناکامی ہوئی ہے ۔کیونکہ اس دوران بجلی کے غیر اعلانیہ کٹ ہو تے رہے اور عوام کو گرمی کے ان ایام میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ہر تہوار کے موقع پر محکمہ بجلی کو انتظامیہ کی جانب سے بجلی سپلائی کیلئے خصوصی ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔دیہی علاقہ جات کی بات تو دور کی ہے لیکن شہروں میں بھی بجلی کٹوتی کو لیکر ہاہاکار مچی ہوئی ہے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ بجلی اس تہوار کے موقع پر بجلی سپلائی میں ناکام ہوا ہے اور بھاجپا پی ڈی پی اقتدار نے چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن بجلی کٹوتی کے سلسلے سے عوام پریشان ہو رہی ہے۔گرمی کے ان ایام میں محکمہ بجلی کی جانب سے ہر جگہ غیر اعلانیہ کٹوتی کو لیکر ہاہاکار مچی ہوئی ہے ۔اکثر دیہی علاقہ جات میں محکمہ کی جانب سے یہ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے اور بیچاری عوام بے بس ہو چکی ہے کیونکہ محکمہ کی جانب سے ہر ماہ بجلی کے بڑے موٹے بل گھروں کو پہنچ جاتے ہیں اور ان کی ادائیگی کیلئے ہدایات بھی ساتھ ہوتی ہیں اور اگر زمینی سطح پر محکمہ کی خدمات دیکھی جائیں تو کنکشن کٹوانے کو من کرتا ہے کیونکہ بجلی آتی نہیں اور کرائے کا بل گھر پہنچ جاتا ہے ۔محکمہ کو چاہئے کہ عارضی ملازمین جو اونچے کھنبوں پر چڑھ کر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور کی خدمات کو رائیگاں نہ کیا جائے اور بجلی کی متواطر سپلائی کو بحال کر کے محکمہ کے ملازمین سے ختم ہوتے اعتماد کو بحال کیا جائے ۔دیہی علاقہ جات میں آسمان پر بادل آنے تک ہی بجلی بند کر لی جاتی ہے اور اگر برسات ہو جائے تو یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا ہے جہاں بجلی کی آمد اور منٹوں میں رفت ہو جاتی ہے اور کئی مرتبہ غیر اعلانیہ طور پر پورے پورے دن اور رات بجلی غائب رہتی ہے جس کی وجہ سے گھروں میں کرونا وائرس کی وجہ سے مقید لوگ ،مریض ،بچے اور خواتین کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔بجلی بند ہونے کی وجہ سے پانی سپلائی بھی متاثر رہتی ہے کیونکہ اکثر مقامات پر پانی سپلائی کیلئے بجلی کا ہونا لازمی ہوتا ہے اور محکمہ بجلی کی آنکھ مچولی کی وجہ سے عوام ان گرمی کے ایام میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے گویا محکمہ کو پوچھنے والا کوئی ہے ہی نہیں!