28 کروڑ کی دھوکہ دہی، قتل کا ملزم، مفرور گردیپ سنگھ گرفتار

0
0

قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں!آٹھ سال بعد چندی گڑھ سے گرفتار ہوا ملزم
لازوال ڈیسک

جموں؍؍ گردیپ سنگھ ولد ہرنام سنگھ ساکنہ مکان نمبر 83/1 چھنی ہمت جموں پولیس تھانہ گاندھی نگر میں درج ایف آئی آر زیر نمبر 302/2012 U/S 406, 409, 420, 468, 471, 120-B/RPC کے تحت مقدمہ کے مرکزی ملزم ہیںجس کی تفتیش کرائم برانچ کررہی ہے اور جو گذشتہ آٹھ سالوں سے مفرور تھے بالآخر انہیںکل کرائم برانچ نے گرفتار کر لیا ۔واضح رہے سنگھ کو اس وقت کی فرسٹ ایڈیشنل سیشن کورٹ نے 2012 میں U/S 512 Cr.PC کے تحتمفرور قرار دیا تھا۔ اس سلسلے میں کرائم برانچ نے ایک کامیاب چھاپے کے بعد مذکورہ ملزم کو چندی گڑھ سے گرفتار کیا ہے۔ مفرور گردیپ سنگھ پولیس تھانہ چھنی میں درج ایف آئی آر زیر نمبر 164/2010 U/S 307, 34/RPC 3/25 Arms Act کے تحت ہائی پروفائل کیس میں ملوث ہے جس میں جموں کے ایک ممتاز شہری کے قتل کی سازش رچی گئی تھی اور ملزم ایف آئی آر زیر نمبر .72/1985 U/S 302, 134/RPC کے تحت بٹوت میں ایک قتل کے معاملے میں بھی ملوث ہے ۔ وہیںبدنام زمانہ مجرم پچھلے آٹھ سالوں سے گرفتاری سے بچ رہا تھااور کرائم برانچ جموں کی جانب سے ایک منصوبہ بند چھاپہ مار کارروائی میں ملزم کو بالآخر بارہ اگست کو پنجاب کے موہالی سے گرفتار کیا گیا۔اس سلسلے میں جوگندر سنگھ نے تھانہ گاندھی نگر میں ایک تحریری شکایت درج کروائی تھی جس میں انہوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ جموں ، کٹھوعہ ، سانبہ، پونچھ ، بارہمولہ اور سری نگر کے 100 کے قریب جمع کنندگان نے اپریل 2011 کے مہینے میں جموں جموں کے نانک نگرمیں’دتہ فائنانسر‘کے نام اور اسٹائل کے تحت کھولی جانے والی ایک فنانس کمپنی کے پاس اپنے پیسے جمع کروائے تھے ۔ جب کچھ جمع کنندگان نے اپنی جمع شدہ رقم اور سود کی ادائیگی کے لئے مذکورہ فنانس کمپنی سے رجوع کیا تو ڈائریکٹرز اور کمپنی کے دیگر عہدیداروں نے انہیں ادائیگی کرنے سے انکار کردیا۔اس سلسلہ میں پولیس تھانہ گاندھی نگر میں ایف آئی آر نمبر 302/2012درج کی گئی ۔تاہم معاملے کی حساسیت اور اعلی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بڑی تعداد کے اصرار پر معاملے کی تفتیش 2013 میں کرائم برانچ جموں کے سپردکردی گئی تھی۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم افراد نے عام لوگوں کو کروڑوں مالیت کا دھوکہ دیا تھا ،ان کے ذخائر کو اپنے استعمال میں لایا تھا اور مختلف اثاثوں کی خریداری کی تھی۔ اس کیس کی تفتیش کے ساتھ ابتدائی چالان کو کرائم برانچ نے 2013 میں عدالت میں پیش کیا تھا تاہم ملزم مفرور ہوگیا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا