قومی کونسل کے زیر اہتمام ’اردو ڈراما:ہندوستانی سماج و تہذیب‘پر آن لائن مذاکرہ

0
0

اردوڈراما کے فروغ کے لیے قومی کونسل ہر ممکن اقدام کرے گی:پروفیسر شاہد اختر   ڈراما ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی ترجمانی کا بہترین ذریعہ:ڈاکٹر شیخ عقیل احمد

لازوال ڈیسک

نئی دہلی: اردو ڈرامانے ہر دورمیں سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ میں نمایاں کردار اداکیاہے اور ہندوستان کے تکثیری سماج اور معاشرے کی عکاسی کی ہے۔یہ باتیں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے وائس چیئر مین پروفیسر شاہد اختر نے قومی کونسل کے زیر اہتمام ’’اردو ڈراما:ہندوستانی سماج اور تہذیب‘‘کے موضوع پر منعقدہ آن لائن مذاکرے میں کہیں۔انھوں نے کہاکہ اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے ڈراما سب سے بہترین اور مؤثر میڈیم ہے۔قبل ازاں مذاکرے کے آغازمیں کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہاکہ ڈراما انسانی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اوراس کے ذریعے فنکار سماج میں پائے جانے والے مختلف مسائل کو پیش کرتے ہیں ،اردو ڈرامے کے اندر بھی یہ خصوصیت پائی جاتی ہے۔موجودہ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل رمیش پوکھریال نشنک جو خود ایک ادیب و مصنف ہیں،وہ بھی ڈراما سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے ہندوستان کے مشترکہ کلچر کا نمائندہ قراردیتے ہیں ،انہی کی ہدایت پر آج کی یہ مجلس مذاکرہ منعقد کی گئی ہے۔اس مذاکرے میں ڈراما سے تعلق رکھنے والی ممبئی،دہلی،جموں و کشمیر اور کولکاتا سے ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سلیم عارف نے کہا کہ ہندوستانی ڈراما کے آغاز سے ہی اس میں اردو زبان کی شمولیت رہی ہے اور اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں پیش کیے جانے والے ڈراموں میں بھی اردو زبان کے الفاظ استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ ڈرامانگار یا ڈراما کے اداکار و ڈائریکٹر دراصل یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایسی زبان استعمال کی جائے،جسے عوام آسانی سے سمجھ سکیں اور اردو ایک ایسی زبان ہے جسے کم و بیش پورے ہندوستان میں سمجھا جاتا ہے۔ مشتاق کا ک نے اپنے تجربات کی روشنی میں اردو ڈرامے کے مسائل پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ جموں و کشمیر،دہلی،ممبئی و کولکاتا میں انھوں نے جو ڈرامے پیش کیے،ان کے ذریعے ان شہروں اور مقامات کی تہذیب و سماج کی عکاسی کی گئی اور بنیادی طورپر ہر ڈرامے میں کسی نہ کسی قوم،سماج یا معاشرے کی ترجمانی کا عنصر شامل رہتا ہے۔ممبئی سے زماں حبیب نے مذاکرے میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ اردو ادب میں ڈرامے کو وہ مقام نہیں مل سکاجس کا وہ حقدار تھا۔اردو کے ناقدین اور تحقیق کاروں نے ڈراما کے ماحول اور اس کی پیش کش کے بجائے زبان و الفاظ پر توجہ دی جس کے نتیجے میں بہت سے اچھے ڈراموں پر بھی گفتگو نہیں ہوسکی۔معروف ڈائریکٹر و ڈراما نگار ظہیر انور نے کہا کہ کوئی بھی تخلیق سماج اور سماجی پس منظر سے الگ نہیں کی جاسکتی۔ ڈراما ایک حیرت انگیز و آفاقی فن ہے جس میں ہمیشہ معاصر سماج و تہذیب کی ترجمانی کی گئی ہے۔اردو ڈرامے میں بھی یہ وصف بخوبی پایا جاتا ہے۔تری پراری شرما نے قدیم ہندوستانی ڈرامے پر روشنی ڈالتے ہوئے موجودہ دورکے ہندوستانی ڈرامے کی صورت حال کا تجزیہ کیا۔اس حوالے سے انھوں نے نواب واجد علی شاہ کے کردارپر خاص روشنی ڈالی۔ مذاکرے کی نظامت کے فرائض دہلی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد کاظم نے بحسن و خوبی انجام دیے۔شرکاء مجلس نے کونسل کو یہ مشورہ دیا کہ اردو کے موجودہ بہترین ڈراموں کا ایک انتخاب شائع کیا جائے ،جس کی کونسل کے وائس چیئر مین پروفیسر شاہد اختر اور ڈائریکٹر شیخ عقیل احمد نے بھر پور تائید کی اور کہا کہ جلد ہی کونسل کی جانب سے پلے رائٹ اور ڈرامے پر ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا جائے گااور اردو ڈرامے کے فروغ کے لیے قومی اردو کونسل ہر ممکن اقدام کرے گی۔ اس مذاکرے میںمذکورہ مہمانوں کے علاوہ کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ(ریسرچ آفیسر)،ڈاکٹر اجمل سعید(اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر)، فیاض احمد اور نوشاد منظر وغیرہ شریک رہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا