پھر بھی کہتے ہو کہ ہم وفادار نہیں

0
0

ڈاکٹر محمد بشیر ماگرے
مسلمانوں کے دور حکومت سے قبل ہندوستان ایک متحد ملک نہیں تھا بے شمار راجواڑے تھے۔جب مسلمان ہندوستان میں آئے تو مسلمانوں نے ہندوستان کو ایک متحد ملک بناےا۔ جس میں مسلمانوں کا کردار ہمیشہ سے لا ثانی اور بے مثال رہا ہے۔ اس میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ہندوستان کو سونے کی چڑیا بنانے میں اور بنگال سے لیکر کابل تک ایک متحد بر صغیر بنانے والے صرف اور صرف مسلم حکمران ہی تھے ۔بر صغیر میں پولیس کا نظام، ڈاک رسل و رسائل نظام قائم کیا،کرنسی کا سسٹم رائج کیا،ریوینیو سسٹم رائج کرنے والے مسلم بادشاہ ہی تھے۔مسلم دور سے قبل ہندوستان میں تو ایک سڑک تک نہ تھی۔کلکتہ سے پشاور تک گرینڈ ٹرنک روڈ بنانے والے مسلم بادشاہ شیر شاہ سوری تھے۔جوایک بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ایڈمنسٹریٹر بھی تھے۔ہندوستان میں سب سے پہلی توپ مسلم مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر نے بنائی تھی۔اور پہلا راکٹ شیر میسور ٹیپو سلطانؒ نے بنایا تھا۔تواریخ کے پنوں میں درج ہے۔’ولیم کانگرس‘ جو اس زمانے کے ڈیفنس ایکسپرٹ تھے۔وہ لکھتے ہیں۔ٹیپو سلطان جب 1789ءمیںشہید ہوئے تو 1801ءمیں انگریز راکٹ کو ضبط کرکے انگلینڈ لے گئے جس پر پانچ سال1801ءسے 1805ءتک تحقیق و ریسرچ ہوتی رہی اور انگریز راکٹ کا ڈیزائن نہ سمجھ سکے۔ بعد میںٹیپو کی کتاب فتح الجاہدین میں اس راکٹ کی ساری ڈیزائننگ کا احوال درج تھا۔جو پڑھکر انگریز راکٹ کے ڈیزائن کو سمجھ پائے تھے۔بھارت میں آج کے موجودہPrithwi Mezile پریتھوی میزائل کے بانی کون ہیں یہ بھی فخر ہند آنجہانی میزائل مین بھارت رتن جناب اول پیکر۔جے۔ عبدال کلام ہیں۔
جنگ آزادی کی پہلی موئمنٹ جس کو صوفی موئمنٹ کہا جاتا تھا۔جس کو تاریخ میںRabiliant Movement کا نام 1773ءمیں چلائی گئی تھی۔اس موئمنٹ کے بانی کوئی اور نہیں تھے بلکہ صوفی اور سنت لوگوں نے اکٹھی چلائی تھی۔پچاس سال تک یہ سلسلہ جاری و ساری رہا تھا۔علامہ فضل حق خیر آبادی نے سب سے پہلے فتویٰ دیا تھا جس میں جنگ آزادی کا کھلم کھلا اعلان کیا گیا تھا۔1857ءمیں جب پہلی جنگ آزادی ہوئی تو دلی کی راجدھانی کو فتح کیا گیا تو انگلیڈ سے خط آیا تھا کہ جن علماءنے فتوےٰ دیا تھا ان سب کو پھانسی دے دی جائے۔اس طرح بیشتر علماءنے پھانسی کے پھندے کو گلے لگایا تھا۔جنگ آزادی کے دوران کل 51209جنگ آزادی کے متوالوں کو پھانسی دی گئی تھی۔جن میں 27300 مسلم علماءہی تھے۔Lt.General Hassan نے لکھا ہے کہ بیشتر لوگوں کو بنا کوئی مقدمہ چلائے پھانسی دی گئی تھی۔Grower & Grower کی تاریخ میں درج ہے کہ جب شہیدبھگت سنگھ کو پھانسی پر لٹکایا گیا تو ان سے عدالت میں پوچھا گیا تھا کہ 800سال تک مسلمانوں نے ہندوستان پر حکومت کی ہے تو کسی نے کوئی بم اسمبلی پر نہیں چلایا تو تم نے 150سال انگریزوں کے راج سے تنگ آکر سنٹرل اسمبلی میں بم پھینک دیا۔تو شہید بھگت سنگھ نے جواب دیا تھا۔کہ مسلمانوں نے ہمارے دلوں پر راج کیا تھا بھارت کی دولت وپیسہ ادھر ہی بھارت میں خرچ کیا تھا۔اور برصغیر کی اسی دھرتی اور دھول میں خود بھی مل
گئے۔بھگت سنگھ نے یہ بھی کہا تھا کہ میرے بم میں نہ تو کو ئی نقصان دہ مواد تھا نہ کوئی کیمیکل یہ تو صرف بہروں کو سنانے کے لئے ایک دھماکے کی آوازکی ضرورت تھی جو میں نے کیا تھا۔
ویر سروارکر نے اپنی کتاب  میں لکھا تھاکہ 1857ءکی جنگ کا سب سے زیادہ نقصان مغلوں کا ہوا تھا۔آن جہانی مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو آنکھوں میں زہریلہ مواد ڈالا گیا تھا۔یہ باور کروانے کیلئے کہ بادشاہ اندھا نہیں رہ سکتا؟ ایک بار ناشتے کے وقت لال رومال میں ڈھک کر ایک تشتری میں تین سر حضرت بہادر شاہ ظفر کو پیش کئے گئے تھے۔جن میں ایک ان کے پوتے کا اور دو ان کے صاحبزادوں کے تھے جن کو قتل کر دیا گیا تھا۔بالآخر ان کو معزول کرکے رنگون جیل میں ڈالا گیا تھا جہاں ان کی موت ہوئی اور ادھر ہی دفن کردئے گئے۔ بر مزار ما غریباں نے چراغ نے گلے نہ پر پروانہ سوزد نے صدائے بلبل۔ہم سے کیا؟ ”کیا چاند ستاروں کی موجودگی کیلئے بحث ہوگی؟؟کیا ابھی بھی یہ سب بتانے کی ضرورت ہے کہ ہم وفادار ہیں کہ نہیں؟
ایودھیا جو کہ قومی یکجہتی کا پرتیک رہا اور آج تنازے کا موزوں بنا دیا گیا ہے؟یہ وہی جگہ ہے جہاں پر بابورام چرن داس اور قاضی امیر علی نے اکٹھے جنگ آزادی لڑی تھی اور انگریز سامراج سے مقابلہ کیا جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔جب انگریزوں نے قاضی امیر علی اور چرن داس کو پھانسی دی تو ایک ہی پھندہ تھا جس میں دو گردنیں تھیں۔ایسا دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا اور نہ ہی اس کے بعد ایسا ہوا؟ آج ایودھیا تنازے کا موزوں بنا ہوا ہے۔جو مثال تھا قومی یکجہتی اور آپسی بھائی چارے کا؟ یہ ہسٹری کو اگر آپ پڑھنا چاہیں تو ایودھیا میں ایک مشہور جگہ ہے املی کا جھاڑ وہ آج بھی موجود ہے اس کو کوبیر کا ٹلہ کہتے ہیں آرکیالوجی سروے آف انڈیا نے ایک بورڈ لٹکا رکھا ہے جس پر یہ ساری تاریخ درج کر رکھی ہے۔ ہریانہ میں ایک جگہ ہے حانسی وہاں پر انگریزوں کر دور میںدو دوست مرد مجاہد رہا کرتے تھے ایک کا نام حکم چند جین اور دوسرے کا نام منیر بیگ تھا۔انہون نے انگریزوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔انگریزوں نے ان کو کپور تھلا،نابیلہ اور پٹودی کے راجاﺅں کی مدد سے گرفتار کیا تھا۔ان کو جب انگریزوں نے سزا دی تو کیا ہوا تھا۔حکم چند جین کو اس کے مذہب کے خلاف زندہ دفنایا گیا تھا اور منیربیگ کو ان کے مذہب کے خلاف زندہ چتاہ پر جلایا گیا تھا۔یہ تھیں ہمارے ہندوستان میں مذہبی رواداری کی مثالیں۔جو تاریخ کے پنون میں درج ہیں۔ایسی انوکھی سزا کی مثال اتہاس میں کبھی نہیں ملے گی۔
ہمیں بھٹک میاں انصاری کی قربانی کو بھی کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ہوا کیا کہ چنپارن ستیا گرہ کے دوران بھٹک میاں انصاری کو مہاتما گاندھی جی کے کھان پان کے لئے تعینات کیا گیا تھا۔انگریزوں نے بھٹک میاں انصاری کے سارے پریوار کو اغوا کر کے گرفتار کر لیا تھا اور میاں انصاری کو مجبور کیا کہ وہ گاندھی جی کو کھانے میں زہر ملا کر مار دے۔بھٹک انصاری نے ان کے دباﺅ میں آکر ایسا ہی کیا۔تو عین کھانا کھانے کے وقت کھانے برتن کٹورہ گاندھی جی سے چھین لیا رونے لگے اور بولے کہ انگریزوں نے مجھے کل بیٹے کی لاش بھیجی دی ہے۔اگر میں نے آپکو زہر نہ کھلایا تو آج وہ مجھے دوسرے بیٹے کا کٹا ہوا سر گھر بھیج دینے کی دھمکی دی ہے۔پورے پریوار کی پرواہ کئے بغیر گاندھی جی کو بچا لیا تھا۔ بھارت کے پہلے صدر پنڈت ڈاکٹر راجندر پرشاد اپنی ڈائری میں درج کیا ہے کہ وہ ۰۵۹۱ءمیں بٹھاری بھٹک میاں انصاری کے گھر گئے اور انہوں نے انصاری کو۰۵ ایکڑ زمیں الاٹ کرنے کی پیشکش کی۔خیر پروسس میں تاخیر ہوئی اور ۷۵۹۱ءمیں میاں انصاری کو زمین الاٹ کرنے کے آرڈرس جاری ہوئے تب تک بھٹک انصاری کی وفات ہوچکی تھی۔
بر صغیر میں مسلمان سب سے پہلے کیرالہ میں آئے ہیں۔نئی تحقیق کے مطابق کیرالہ میں ہندوستان کی سب سے قدیم مسجد ملی ہے۔کیرالہ کے مسلمانوں کوMappila Muslimsکہا جاتا ہے۔ انگریزوں کے خلا ف Rabbilian Moppilaکے نام سے ایک اندھولن بہت مشہور ہے.گاندھی جی کے اس سہیوگ میں اس اندھولن مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ ڈاکٹر بپن چندرہ ایک مشہور تاریخ دان نے اپنی تاریخ کے ۷۱ویں چیپٹر میں لکھا ہے کہ ۱۲۹۱ءمیں2337موپیلا مسلمانوں کو پھانسی دی گئی تھی جو انگریزوں کے ریکارڈ کے مطابق تھا۔Moppila Muslims کے لیڈر حاجی گل محمد تھے۔انہوں انکشاف کیا تھا کہ غیر سرکاری ریکارڈ کے مطابق شہید ہونے والے موپیلہ مسلمانوں کی تعداد45404ہے جنہوں نے جنگ آزادی میں جام شہادت نوش کیا تھا۔ بلاری ٹرین ٹریجڈی ہندوستانی مسلمان نہیں بھول سکتے جب ۷۲۱ مسلم کرانتی کاری موپیلہ مسلمانوں کو بنا کھڑکی والی ویگن ٹرین میں بھر کر تھروڑ سے بلاری بھیجا جا رہا تھا تو راستے میں Coimbatour کے مقام پر ۰۷ مسلمانوں نے دم توڑ دےا تھا۔ یہ سب Sufocation کی وجہ سے ہوا تھا۔ہمیں جلیاں والا باغ کے قتل عام کا نام سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جہاں انگریز جنرل ڈائرنے ۹۷۳نہتے ہندوستانی شہید کروائے تھے۔ ہمیں مجاہد آزادی شہید اشفاق اللہ خان کو نہیں بھولنا چاہیے ؟ 19دسمبر1927ءکو جن کو پھانسی کے وقت اپنی آخری خواہش کے لئے پوچھا گیا تو ۷۲ سالہ شہیداشفاق اللہ خان حسرت نے فیض آباد جیل میں تختہ دار پر کھڑے ہوکر فرمایا تھا کہ۔۔۔۔۔
کچھ آرزونہیں ©؛ہے آرزو تو بس اتنی۔ رکھ دے کوئی خاک وطن کفن میں
ہزاروں جنگ آزادی پر اپنی جان نثار کرنے والوں کے جذبات اور ولولہ ایسا ہی تھا ہماری قربانیاں یہاں تک ہی محدود نہیںوطن عزیز کی آزادی کے بعد بھی مسلمانوں کی قربانیاں جاری و ثاری ہیں۔ہمیں برگیڈیر عثمان کی شہادت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ایک نو نہال بھارت کا ثپوت آعظم گڑھ کے قصبہ ویر پور میں خان بہادر کے گھرپیدا ہوا فاروقیہ مدرسہ سے فارغ ہوکر،رائل ملٹری آکاڈمی سے کمیشن ہونے کے بعد برما اورافغانستان کی جنگوں میںحصہ لیا اور برگیڈیر کے عہدے پر فائز ہوئے۔پارٹیشن کے وقت ان کو پاکستان کی طرف سے چیف آف آرمی کی پیشکش تھی مگر اپنے وطن عزیز کی حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے پاکستان کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔الغرض ۵۲ دسمبر ۷۴۹۱ءکو قسم کھائی کہ نوشہرہ راجوری کے علاقے کو واپس لیکر دم لوں گا۔ایک زبردست جنگ کرکے جہگڑ نوشہرہ کا علاقعہ فتح کرکے دم لیا۔اور ۳ جولائی ۸۴۹۱ءکو جھنگڑ کے مقام پر شہید ہوگئے،شہیدوں کی چتاﺅں پر لگیں گے ہر برس میلے۔وطن پر مٹنے والوں کا یہی آخری نشاں ہوگا۔ جہاں ہم اپنے ہزاروںویر جوانوں کو شیر دھانجلی پیش کرتے ہیں۔ ہمیں حولدار عبدال حمید کو بھی نہیں بھولنا چاہیے؟ جس مجاہد نے دشمن کے ٹینکس کو اپنے سینے پر بم باند کر اڑادیا تھا اور اپنے وطن عزیز کی حفاظت کی اور دشمن کے چنغل سے آزاد کروایا تھا۔
جس قومی تیرنگے جھنڈے پر ہم سب کو ناز ہے اور جسے ہر ہندوستانی سلیوٹ کرتا ہے۔اس قومی پرچم کو ایک مسلم خاتون محترمہ ثریا طیب جی نے ڈیزائن کیا تھا۔ثریا جی حیدرآباد کی رہنے والی تھی۔جو ۷۴۹۱ءمیں آئی سی ایس آفیسر تھی اور پرائم منسٹرس آفس میں طعینات تھیں۔میڈم ثریا جی نے ترینگا ڈیسائن کیا تھا جس کو۷۱ جولائی ۷۴۹۱ءکومنطوری ملی تھی اور ایڈاپٹ کرلیا گیا تھا۔میڈم ثریا طیب جی کے خاوند جسٹس بدرالدین طیب جی ۲۰۹۱ءمیں ہندوستان کے پہلے قانونی صلاح کار اور چیف جسٹس بمبئی تھے۔میڈم ثریا طیب جی جناب سر اکبر حیدری اور مولانا علاﺅ الدین شہید کی بھتیجی تھیں۔جن کو۷۵۸۱ءمیں کالا پانی جیل انڈیمان میں عمر قید کیلئے سزا دی تھی۔میڈم ثریا طیب جی نے ترینگا کا ڈیزائن جس میں(Wheel) ویل چکر کا نشان آج بھی موجود ہے تیار کیا تھا۔جس طرح وینکیا جی Vankya Ji))نے پہلا کانگرس کا جھنڈا تیار کیا تھا جس میں چرخہ کا نشان بیچ میں تھا۔
یہ مت بھولو کہ جے ہند کا نعرہ ایک مسلمان ہندی کی دین ہے۔جے ہند نعرہ سازجناب عبدال حسن سفرانی حیدر آبادی وہ آزادی کے متوالے تھے جنہون نے ’جے ہند‘ کے نعرے کی اختراع کی تھی اور وطن عزیزبھارت کے پہلے انسان تھے جنہوں نے جے ہند کا نعرہ لگایا تھا۔
ہمیں مسلم رہنما اور پہلے نظام حیدر آباد میر عثمان علی کی دیش بھگتی کی خدمات کو بھی سلام کرنا چاہیے جو جنوری ۰۵۹۱ءمیں آندھرا پردیش کے صدر بنے تھے۔جنہوں نے1965ءمیں پاکستان بھارت یدھ کے دوران آں جہانی پرائم منسٹر لال بہادرشاستری نے بھارتی عوام سے امداد کی اپیل کی تھی تو اس وقت لال بہادر ایک خصوصی طیارہ کے زریعے نظام میر عثمان کے پاس حاضر ہوئے تو میر عثمان نے پاکستان اورچین سے ڈیفنس کیلئے پانچ ٹن سونہ دھان کیا تھا۔جس دھان سے پاکستان وچین کے خلاف استعمال ہونے والا اسلح خریدا گیا تھا۔اب تک کا دنیا کاسب سے بڑا دھان ہے۔اگر یہ دھان اسوقت نہ ملتا تو پاکستان کو پسپا کرنا مشکل تھا جس کا ساتھ چین بھی دے رہا تھااور خدا نخواستہ جموں کشمیر کا نقشہ ہی کچھ اور بن گیا ہوتا۔میر عثمان علی نے عثمانیہ یونیورسٹی کا قیام کیا تھا جو آج دنیا کی چند بڑی یونیورسٹیز میں جانی جاتی ہے۔میر عثمان علی نے جہاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو پانچ لاکھ کا دھان دیا تھا وہاں ہی بنارس ہندو یونیورسٹی کو دس لاکھ کا دھان دیا تھا۔میر عثمان علی نے اپنا بر صغیر کا پہلا بینک سٹیٹ بینک آف حیدر آباد ۴۴۹۱ءمیںقائم کیا تھا۔جو بعد میں آج کاسٹیٹ بینک آف انڈیا بنایا گیا۔ٹائم میگزین نے۶۳۹۱ءمیں میر عثمان علی کو دنیا کا امیر ترین آدمی قرار دیا تھا۔جس کے پاس ۶۳۲ عرب ڈالر کی مالیت تھی۔میر عثمان نے ہندوستان کا پہلا ہوائی اڈہ حیدر آباد میںتعمیرکروایا تھا۔انہوں نے داکٹر امبھیدکر کے آئین ہند تشکیل دینے پرانعام کے طور ۴۵ایکڑ زمین ان کو اپنے ادارے کی تعمیر کیلئے دھان کی تھی۔جب امیر عثمان علی کی موت ہوئی تو اب تک کا دنیا کا سب سے بڑا جنازہ ان کا ہوا تھا۔
دنیا کی تاریخ صرف پڑھی نہیں جاتی بلکہ اپنے خون اور جان کا نزرانے دے کر لکھی بھی جاتی ہیں۔وطن عزیز ہندوستان کی تحریک اور تاریخ آزادی میں سبھی قوموں ، مذاہب ،ہندو، مسلمان ،سکھ ، عیسائیوں، بودھو اور جینیوں جیسے نواسیوںکا اپنی اپنی جگہ حصہ اور قربانی ہے۔ مگر مسلمانوں کا کچھ الگ ہی یوگدان اور قربانیاں اس وطن عزیز کیلئے رہی ہیںآئندہ آنے والے وقت میں ہم کیا کررہے ہیں یہ سب لکھا جا رہا ہے۔اور آنے والے مستقبل میں ہمارے کرتوتوں کو ہمارے اباﺅ اجداد کیا پڑھیں گے۔ ہمیں اس پر غور کرنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔میں صرف اپنے وطن عزیز کے زمعدار لوگوں سے۔ندا فاضلی صاحب کے ان الفاظ میںقوم کو بتا دینا چاہتا ہوں۔
اپنے غم لیکے کہیں اور نہ جایا جائے گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سنوارہ جائے۔
میں تمام دانشوروں، پنڈتوں،علمائ، سیاستدانوں، رہنماﺅں،مذہبی رہنماﺅں اور زندہ و جاگتے ہوئے سیکشنز سے اپیل کرتا ہوں کہ آنے والی نسلیں ہمیں کوسیں گی۔ہمیں حالات پر نظر رکھ کراپنے غریباں میںجھانک کراچھے فیصلے لینے چاہیے۔جو صدیوں سے ہمارے رشتے دوسری کے ساتھ قائم تھے باقی رہیں اور اپنی قوم بھی خوشحال رہے۔ یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ٭٭
ڈاکٹر محمد بشیر ماگرے پروفیسر جغرافی ، ریٹائرڈ کالج پرینسیپل ،ایک سماجی کارکن ، لکھاڑی اور کئی کتب کے مصنف بھی ہیں۔وارڈ نمبر ۳ ڈی سی کالونی راجوری جموں و کشمیر۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا