ڈومیسائل کی نوٹیفکیشن کو التوا میں رکھا جائے

0
0
یہ حکمنامہ بیوروکریسی کی سطح پر لیا گیا ایک غیر سنجیدہ فیصلہ : الطاف بخاری
یواین آئی
سرینگر؍؍جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے مرکزی حکومت سے ڈومیسائل حقوق کے بارے میں جاری حکمنامے کو کورونا وائرس کے پیش نظر التوا میں رکھنے کی اپیل کی ہے۔مسٹر بخاری نے اپنے ایک بیان میں مرکزی حکومت کے اس حکمنامے کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے: ‘انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ حکمنامہ اس وقت جاری کیا گیا ہے جب تمام ملک اپنے وجود کے لئے محو کشمکش ہے اور کورونا وائرس کے پیش نظر ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے’۔انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی جموں وکشمیر کے لوگوں کے لئے ڈومیسائل حقوق اور نوکریوں اور زمین کے حقوق کے لئے پر زور مطالبہ کررہی ہے۔موصوف صدر نے کہا کہ یہ حکمنامہ بیوروکریسی کی سطح پر لیا گیا ایک غیر سنجیدہ فیصلہ ہے اور اس کو لیتے وقت جموں وکشمیر کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کو ملحوظ نظر نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکمنامہ سرکاری سطح پر جاری کیا گیا ایک حکمنامہ ہے نہ کہ پارلیمنٹ میں پاس کیا گیا کوئی قانون ہے جس کے پیش نظر یہ نوٹیفکیشن کسی عدالتی جائزے سے مستثنیٰ نہیں ہے۔مسٹر بخاری نے کہا کہ اس سلسلے میں جموں وکشمیر کے تمام متعلقین کے ساتھ مناسب وقت پر تفصیلی گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف سے پارلیمنٹ میں اس بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو بہتر ڈومیسائل حقوق فراہم کئے جائیں گے، کے بالکل  برعکس ہے۔قابل ذکر ہے کہ الطاف بخاری نے 17 مارچ کو جموں میں کہا تھا کہ اس یونین ٹریٹری میں ڈومیسائل قانون ایک یا دو ہفتوں کے اندر نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اگر کسی ریاست یا یونین ٹریٹری کو ڈومیسائل قانون کے تحت 19 معاملات میں اختیارات ہیں تو جموں وکشمیر کو 20 معاملات میں اختیارات دیے جائیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا