وہ آن،بان اورشان چلی گئی!

0
0

سابق وزرائے اعلیٰ مفت قیام گاہوں اور دیگر سہولیات سے محروم
یواین آئی

سرینگر؍؍مرکزی حکومت نے اس قانونی شق کو منسوخ کیا ہے جس کے تحت جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ کو مفت قیام گاہ اور دیگر سہولیات دستیاب تھیں۔مرکزی حکومت نے ان قانونی شقوں کو بھی منسوخ کیا ہے جن کے تحت سٹیٹ ویجی لینس کمیشن اور سٹیٹ کمیشن برائے پسماندہ طبقہ جات ایکٹ قائم کئے گئے تھے۔مرکزی حکومت کی طرف سے گذشتہ رات دیر گئے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق سٹیٹ قانون سازیہ ممبرس پینشن ایکٹ 1984 کے سکیشن تھری سی کو منسوخ کیا گیا ہے جس کے تحت جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ کو مختلف سہولیات و مراعات حاصل تھیں۔مذکرہ قانون کے تحت سابق وزرائے اعلیٰ کو مفت قیام، قیام گاہ کی دیکھ ریکھ کے لئے 35 ہزار روپے تک سالانہ خرچہ، 48 ہزار روپے تک سالانہ مفت ٹیلی فون سہولیات، 15 سو روپے ماہانہ کی بجلی کی مفت فراہمی کے علاوہ مفت ٹرانسپورٹ اور میڈیکل سہولیات دستیاب ہوتی تھیں۔علاوہ ازیں سابق وزرائے اعلیٰ کو ایک ذاتی اسسٹنٹ، ایک خصوصی اسسٹنٹ اور دو چپراسیوں کی سہولیات دستیاب ہوتی تھیں۔ اس قانون کو جموں و کشمیر ترمیم نو قانون 2020 کے تحت منسوخ کیا گیا ہے۔دریں اثنا مرکزی حکومت نے ان قانونی شقوں کو بھی منسوخ کیا ہے جن کے تحت سٹیٹ ویجی لینس کمیشن اور سٹیٹ کمیشن برائے پسماندہ طبقہ جات ایکٹ قائم کئے گئے تھے۔ تاہم پسماندہ طبقہ جات کمیشن کے تنسیخ سے جموں وکشمیر کمیشن برائے سماجی و تعلیمی طور پسماندہ طبقہ جات کو متاثر نہیں کرے گا جس کو ریاستی محکمہ قانون کی طرف سے جاری ایک حکمنامے کے تحت قائم کیا گیا۔حال ہی میں قائم کردہ یہ کمیشن جسٹس (ر) جی ڈی شرما، منیر احمد خان (سابق آئی پی ایس افسر) اور روپ لال بھارتی (سابق آئی پی ایس افسر) پر مشتمل ہے۔قابل ذکر ہے کہ حکومت جموں و کشمیر نے سٹیٹ انسانی حقوق کمیشن اور ریاستی احتسابی کمیشن سمیت چھ کمیشنوں کو منسوخ کیا تھا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا