کشمیر میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

0
0
 علاج کے دوران لاپرواہی برتنے کی تحقیقات کے احکامات صادر
لازوال ڈیسک
سرینگر؍؍گرمائی دارالحکومت سری نگر کے ڈل گیٹ علاقے میں واقع امراض سینہ کے ہسپتال میں زیر علاج 65 سالہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کی جمعرات کی صبح دل کا دورہ پڑنے سے موت واقع ہوئی۔ وادی میں کورونا وائرس میں مبتلا مریض کی موت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ ادھرموت کایہ معاملہ اس وقت متنازعہ صورت اختیار کر گیا جب انتظامیہ نے مرحوم کے علاج کے دوران مبینہ طور پر لاپرواہی برتنے کے بارے میں تحقیقات کے احکامات صادر کئے۔متوفی شخص کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ پہلے سے ہی ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ تاہم ایک رپورٹ میں ڈاکٹروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا اس شخص کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔ متوفی شخص کو گذشتہ ہفتے امراض سینہ کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور ان کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ ان کی حالت ہسپتال میں داخل کرائے جانے کے دن سے ہی نازک بنی ہوئی تھی۔ متوفی شخص جن کا تعلق سری نگر کے مضافاتی علاقہ حیدر پورہ سے تھا، تبلیغی جماعت کے ایک سینئر رہنما تھے۔ انہوں نے فروری میں نئی دہلی کا سفر کیا تھا اور وہاں قریب ایک ماہ تک مقیم رہے جس دوران انہوں نے وہاں تبلیغی جماعت کے ایک بین الاقوامی اجتماع میں شرکت کی تھی۔ اس اجتماع میں انڈونیشیا اور ملائشیا سے تعلق رکھنے والے علماء اور تبلیغی جماعتوں کے کارکنوں نے شرکت کی تھی۔ جموں وکشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے وادی میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے اور لوگوں سے گھروں میں ہی بیٹھنے کی اپیل دہرائی ہے۔انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا: ‘بری خبر: کورونا وائرس سے پہلی موت، حیدر پورہ سری نگر سے تعلق رکھنے والا 65 سالہ شہری چل بسا۔ اس کے رابطے میں آنے والے چار لوگوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ بدھ کے روز مثبت پائے گئے’۔ انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا: ‘ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے، اس زنجیر کو توڑنے کے لئے مدد کریں، گھروں میں ہی بیٹھیں رہیں، سفری تفصیلات یا اس وائرس کی علامات ہونے کی صورت میں متعلقین کے ساتھ رابطہ کریں’۔متوفی شخص جس کا حکومتی ایڈوائزری کے مطابق نام ظاہر نہیں کیا جاسکتا ہے، کا آبائی علاقہ شمالی کشمیر کا ایپل ٹاون سوپور ہے۔ سوپور میں ان کی موت کی خبر پھیلتے ہی ہر سو غم کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق مہلوک شخص انتہائی شریف النفس اور بہت دوستانہ مزاج رکھنے والی شخصیت تھیں۔ وہ ایک نامی گرامی تاجر تھے اور فلاحی کاموں اور غرباء کی مدد کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔ ایک مقامی خبررساں ایجنسی نے ڈاکٹروں کے حوالے سے کہا ہے: ‘کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی موت جمعرات کی صبح واقع ہوئی۔ ان کو دل کا دورہ پڑا اور ہماری سخت کوششوں کے باوجود وہ دم توڑ گئے۔ وہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کا بھی شکار تھے’۔ متوفی شخص نے نئی دہلی میں عالمی سطح کے اجتماع میں شرکت کے بعد اترپردیش اور جموں کا سفر کیا تھا جس دوران وہ تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ وادی میں انہوں نے شمالی کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں لوگوں سے ملے۔ ضلع بانڈی پورہ میں جن چار افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ بدھ کے روز مثبت آئے ہیں، ان کے مہلوک شخص کے ساتھ قریبی روابط تھے اور پانچوں نے ایک ساتھ مذہبی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ سری نگر اور شمالی کشمیر میں مہلوک شخص کے رابطے میں قریب چار سو افراد بشمول اہل خانہ اور ڈاکٹر آئے تھے جو اپنا ٹیسٹ کرا رہے ہیں اور قرنطینہ میں جارہے ہیں۔جموں وکشمیر میں اب کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد دس ہے جن میں سے تین کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔کورونا وائرس سے بچنے کے لئے وادی میں جمعرات کو مسلسل آٹھویں روز بھی مکمل لاک ڈاؤن رہا جس کے باعث ہر سو سناٹا اور اضطرابی ماحول چھایا رہا۔ سری نگر اور ضلعی ہیڈکوارٹروں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں نافذ ہیں اور سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کے اہلکار لوگوں کو سڑکوں پر پیدل چلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔تاہم وادی کشمیر میں جمعرات کی صبح کورونا وائرس سے موت واقع ہونے والے 65 سالہ مریض کا معاملہ اس وقت متنازعہ صورت اختیار کر گیا جب انتظامیہ نے مرحوم کے علاج کے دوران مبینہ طور پر لاپرواہی برتنے کے بارے میں تحقیقات کے احکامات صادر کئے۔بتادیں کہ وادی میں جمعرات کی صبح سری نگر کے ڈل گیٹ علاقے میں واقع ہسپتال برائے امراض سینہ میں زیر علاج پہلے مریض کی کورونا وائرس کے باعث موت واقع ہوئی۔صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے حیدر پورہ سے تعلق رکھنے والے فوت شدہ کورونا وائرس متاثرہ مریض کے علاج کے دوران مبینہ طور پر برتی گئی لاپرواہی کے بارے میں تحقیقات کے احکامات صادر کئے ہیں۔موصوف کی طرف سے جاری حکمنامے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سری نگر کے مضافاتی علاقہ بمنہ میں واقع شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کالج میں علاج کے دوران متاثرہ مریض کے ساتھ لاپرواہی برتی گئی ہے۔ادھر مرحوم کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ اس (متاثرہ مریض) نے ڈاکٹروں کو اپنی سفری تفصیلات فراہم کی تھیں۔ تاہم سکمز بمنہ کے بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مرحوم نے اپنی سفری تفصیلات چھپائی تھیں۔مرحوم کے ایک رکن خانہ جو اس کے ساتھ 18 مارچ کو بمنہ ہسپتال گیا تھا، نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا: ‘مرحوم کو وہاں اس دن کورونا وائرس کا ٹیسٹ نہیں کیا گیا اور نہ ہی 21 مارچ کو کیا گیا جب ہم اس کو لے کر دوبارہ وہاں گئے، بعد میں ہم نے اس کو شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال سری نگر منتقل کیا جہاں سے اس کو چسٹ ڈیزیز ہسپتال ڈل گیٹ ریفر کیا گیا’۔صوبائی کمشنر کشمیر کی طرف سے جاری حکمنامے میں کہا گیا کہ مریض کی سفری تفصیلات اور وائرس کی علامات جاننے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ نے یہ بات صوبائی، ضلعی یا پولیس حکام کی نوٹس میں نہیں لائی جب مریض کی ہسپتال سے چھٹی کی گئی۔حکمنامے کے مطابق مریض کو لوگوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر اس وائرس کو پھیلانے کئے لئے کافی وقت دیا گیا ہے اور ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے برتی گئی لاپرواہی سے لوگوں میں سراسیمگی اور اضطرابی ماحول پھیل گیا ہے۔موصوف کمشنر کی طرف سے جاری اس حکمنامے میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں سکمز بمنہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور محکمہ چسٹ میڈیسن کے سربراہ سے وضاحت طلب کی ہے۔دریں اثنا صوبائی کمشنر نے کہا ہے کہ تحقیقات کے احکامات مریض کی موت واقع ہونے کے بارے میں نہیں بلکہ آیا مریض کے علاج کے دوران پروٹوکال پر عمل کیا گیا یا نہیں نیز اس علاج کے دوران مبینہ لاپراہی کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے جاری کئے گئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں اب بھی کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد دس ہے جن میں سے تین کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ صحت یاب ہوچکے ہیں۔کورونا وائرس سے بچنے کے لئے وادی میں جمعرات کو مسلسل آٹھویں روز بھی مکمل لاک ڈاؤن رہا جس کے باعث ہر سو سناٹا اور اضطرابی ماحول چھایا رہا۔ سری نگر اور ضلعی ہیڈکوارٹروں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں نافذ ہیں اور سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں وکشمیر پولیس کے اہلکار لوگوں کو سڑکوں پر پیدل چلنے کی بھی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا