کروناوائرس کاقہردنیابھرمیں پھیلتاجارہاہے،باری باری ایک ایک ملک کو پوری طرح سے اپنی چپیٹ میں لے رہاہے،چین کے بعد اِٹلی،امریکہ،ایران اوراب سب سے زیادہ تباہی سپین میں ہورہی ہے جہاں چوبیس گھنٹوں میں سات سو سے زائد لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے،ہندوستا ن میں متاثرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، یہاں جموں وکشمیرکیلئے تازہ اعدادوشمار اورکووِڈ19-سے پہلی موت واقع ہونے کے بعد خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے،اپنی سفری تاریخ مخفی رکھنے، انتظامیہ کیساتھ تعاون نہ کرنے کی وجہ سے اب نئے معاملات سامنے آرہے ہیں، ایسے لوگ سامنے آرہے ہیں جنہوں نے دیگر ریاستوں وممالک کاسفرکیاتھالیکن کوروناکے قہرکے چلتے انتظامیہ کی بار بار استدعاکے باوجود اُنہوں نے اپنے سفرکی داستان ظاہرکرنے سے گریزکیاجو نہ جانے خدانہ کرے کِتنوں کو متاثرکرےگا،جس بزرگ کی موت واقع ہوئی ہے اُن سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وہ دین کی تبلیغ میں مصروف رہتے تھے اور سفرمیں رہنااُنکامعمول تھا، حال ہی میں وہ ملک کے دورے سے لوٹے تھے اور اپنی طبی جانچ کرائے بناوہ یہاں دعوت وتبلیغ میں مصروف ہوگئے، جس کی وجہ سے ان کے رابطے میں کئی آئمہ مساجد، مولوی حضرا ت اور دیگر لوگ رابطے میں آئے ہیں، ان کیساتھ حالیہ دِنوں رہے چار لوگوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں، اس سانحہ سے یہی سبق ملتاہے کہ اپنی سفری تفصیلات چھپاناایک بہت بڑاگناہ ہی نہیں بلکہ ایک تباہی کودعوت دینے والاعمل ہے،لوگوں کوچاہئے کہ وہ فوری طورپرانتظامیہ سے رابطہ کریں،اگربیرون ریاست اوردوسرے ممالک کادورہ کیاہے تواپنی چانج کروائیں ، اور وزیراعظم نریندرمودی کے21دِن کے لاک ڈائون کابھرپوراحترام کریں ،اپنے گھرکے باہرکھینچی گئی لکشمن ریکھاکواپنی زندگی کی لکیرسمجھیں اوراِسے پارکرنازندگی کاخاتمہ سمجھتے ہوئے پابندی کیساتھ اپنے گھروں میں قیام کریں اور اپنے رب کو یادکریں۔