یواین آئی
سری نگرسابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے کہا ہے کہ میری والدہ جموں و کشمیر کے باہر جیلوں میں بند ہزاروں نوجوانوں کے تئیں بے حد فکر مند ہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر ان نوجوانوں کے اہل خانہ جس ذہنی کوفت سے دوچار ہوں گے وہ ناقابل تصور ہے۔دریں اثنا سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں محبوبہ مفتی اور دیگر لوگوں کو بند رکھنا ظالمانہ اور بے رحم اقدام ہے۔التجا مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں اپنی والدہ کی جلد رہائی کے حوالے سے کہا: ‘میری والدہ اپنی جلد رہائی کی خبریں سن رہی ہیں جس کے لئے وہ متفکرین کی مشکور ہیں لیکن وہ جموں وکشمیر کے باہر جیلوں میں بند ہزاروں نوجوانوں کے تئیں بہت ہی فکر مند ہیں۔ ان کے اہل خانہ جس ذہنی کوفت سے دوچار ہوں گے وہ ناقابل تصور ہے’۔انہوں نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا: ‘میری والدہ گھر سے محض دس منٹوں کے فاصلے پر بند ہیں لیکن یہ نوجوان اپنے گھروں اور اہل خانہ سے سینکڑوں میل دور بند ہیں، وہ (محبوبہ مفتی) وزیر اعظم سے ان قیدیوں کی فوری رہائی کی اپیل کرتی ہیں’۔نیشنل کا نفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘محبوبہ مفتی اور دیگر لوگوں کو موجودہ حالات میں بند رکھنا ظالمانہ اور بے رحم اقدام ہے، پہلے بھی ان میں سے ہر کسی کو بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اب جب کہ ملک میں لاک ڈاو¿ن ہے، اس میں کوئی جواز نہیں ہے، امید کرتا ہوں کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ انہیں جلد رہا کریں گے’۔قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو منگل کے روز قریب آٹھ ماہ کی طویل نظر بندی کے بعد رہا کیا گیا قبل ازیں نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ماہ رواں کی 13 تاریخ کو رہا کیا گیا تھا۔