خواتین سے متعلق حکمت عملی میں اصلاح کی ضرورت

0
0

 

نریندر سنگھ بشٹ
نینی تال، اتراکھنڈ
ہندستان کے 27 ویں ریاست کے طور پر بنے اتراکھنڈ میں حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور خود کفالت سے متعلق جتنا بھی دعوی کرلے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خواتین کی زندگی میں امید کے مطابق اصلاح نہیں ہوسکی ہے۔بات چاہے ان کے کام کے بوجھ کی ہو یا صحت یا سہولیات کی ریاست کی تشکیل کے 19 ویں سال بعد بھی خواتین کی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔ریاست کی 10 سب سے بڑی اسکیم میں خواتین کے کام کے بوجھ کی بات کا ذکر تک نہیں ہے۔صحت سہولیات کی بات ضرور کی جاتی ہے لیکن صحت ٹھیک ہونے کے لیے وقت کی کمی آج بھی پہاڑی علاقے کی خواتین کی زندگی میں دیکھنے کو ملتاہے۔
جب بھی ہم پہاڑی راستوں کا سفر شروع کرتے ہیں تو ان علاقوں کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک بات ہمارے سفر میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے اور وہ ہے پہاڑی علاقہ کی زندگی۔ جو کبھی گھاس کے گٹھوں، لکڑیوں کے گٹھوں تو کبھی پانی کے برتنوں کے ساتھ سفر میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔یہ تین کام پہاڑی عورتوں کی زندگی کے سب سے اہم کام ہیں۔جنہیں مکمل کرنے میںہر عورت 10 سے 12 گھنٹے کا وقت لیتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر گھریلو کاموں میں بھی کافی وقت لگ جاتاہے۔ دیکھا جایے تو پہاڑی خواتین کے پاس اپنے لئے وقت کی کمی ہے۔ جہاں ہاتھوں میں 10 کلو کا وزن سیدھے راستوں پر چلنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ وہیں پہاڑی علاقوں کی خواتین سر پر 30 سے 35 کلو (گھاس، لکڑی، پانی) کا وزن لے کر پہاڑوں کے نشیب و فراز میں چلتی ہیں۔یہ خواتین متعلقہ کام کو مکمل کرنے کے لیے مناسب غذا بھی نہیں لیتی ہیں۔ ایک کام ختم نہیں ہوتا کہ دوسرے کام کے لیے نکل پڑتی ہیں۔
الموڑا کے لمگڑا کے علاقہ میں کئی مواضعات کے دورے میں یہ دیکھنے کو ملا کہ مویشیوں کی ناد میں چارہ نہیں تھا۔جس کے لئے عورتیں جنگلوں اور دوسرے علاقوں میں دور دور تک جاتی ہیں تاکہ وقت پر مویشیوں کو چارہ دیا جاسکے۔ چارہ لاکر وہ کھلے میں جانوروں کے سامنے ڈال دیتی ہیں لیکن کئی بار جانور ان کی محنت کو برباد کر دیتے ہیں۔ کھلے میں چارہ کی وجہ سے مویشی کھانے سے زیادہ برباد کرتے ہیں۔ یہ عورتیں بتاتی ہیں کہ ہفتے میں تقریباً 6 کلو گھاس مویشی برباد کردیتے ہیں۔ یہ صرف گھاس کی بربادی نہیں ان کی محنت کی بھی بربادی ہے۔ لیکن اس بربادی کو روکنے کے لیے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ان کو لگتا ہے کہ ریاستی حکومت اور علاقائی منتظمہ کو ایسا پروجیکٹ تیار کرنا چاہیے جس سے برباد چارے کو دوبارہ استعمال میں لایا جا سکے۔
موضع تولی کی ایک بزرگ خاتون کملا دیوی کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ لکڑی پانی، اور گھاس کے ساتھ گھریلوں کاموں میں صرف کیا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کو ان کاموں سے اپنے لئے فرصت ہی نہیں ملتی، جہاں وہ کل کھڑی تھیں وہیں آج بھی ہیں۔ یہ حالت صرف کملا دیوی کی نہیں ہے بلکہ اتراکھنڈ کی بیشتر خواتین کی ہے۔ سرکاری اسکیمیں ان کے لیے کیا ہیں اور کہاں ہیں؟ صرف کملا دیوی نہیں ریاست کی اکثر خواتین سرکار کے ذریعہ ان کے لیے جاری اسکیموں سے ناواقف ہیں۔ حالانکہ کاغذ پر ایسی اسکیمیں سو فیصد چل رہی ہیں۔ لیکن اصل میں حقیت صفر ہے۔
حالانکہ سرکار کی جانب سے دیہی علاقوں میں وقت فوقتاـ پروگرام کرکے سرکاری اسکیموں سے متعلق معلومات عوام کو دی جاتی ہے، حکومت ہند کے ذریعہ جاری ڈی ایس ٹی پروجیکٹ کے تحت چارہ ناد تیاری کے لیے دیہی عوام کو بیدار کیا جا رہاہے۔ انہیں بتایا گیا کہ اس کے استعمال سے چارے کی بربادی کم ہوتی ہے۔ جانوروں کو اس سے کھانے میں پریشانی نہیں ہو تی جس سے چارہ برباد ہوبے سے کافی حد تک بچ جاتاہے۔ دیکھا جایے تو اس سے خواتین کی محنت برباد ہونے سے بچ جاتی ہے۔ ابتدا میں یہ اسکیم عوام کو عجیب لگی لیکن پھر جن لوگوں کو فائدہ محسوس ہوا انہوں نے نہ صرف اس کو اپنایا بلکہ دوسروں کو بھی بیدار کیا۔
فی الحال ڈی ایس ٹی پروجیکٹ کی ابتدا کے بعد گاؤںکے 240کنبوں والے تین گاؤں میں جہاں ایک بھی ناد نہیں تھا وہاں 160 ناد بن چکے ہیں جو خواتین میں بیداری کی دلیل ہے، لوگ ان کا استعمال بہت اچھے ڈھنگ سے کر رہے ہیں۔ جہاں پہلے 6 کلو گھاس برباد ہوتی تھی وہیں وہ اب کم ہو کر ایک کلو ہو گیی ہے۔ آج ان چہروں پر خوشی دیکھنے کو مل رہی ہے جن پر کبھی اداسی چھائی رہتی تھی۔ اب چارہ گھاس کی اچھی بیج بھی مہیا کرائی جانے لگی ہے جس سے خواتین کو گھر کے پاس ہی چارہ مہیا ہونے لگا ہے اور ان کے وقت کی بچت بھی ہونے لگی ہے۔ موضع کلٹانی کی انیتا فریال اور تھاٹ گاؤں کی بینا دیوی بتاتی ہیں کہ اب ان کو جنگلوں میں کم جانا پڑ رہاہے۔ اگر ایک برس کی بات کی جایے تو 240 کنبوں کے ذریعہ گھاس جمع کر نے میں 60000گھنٹوں کی بچت ہو رہی ہے۔ اس سے جہاں خواتین کا وقت بچتا ہے وہیں جو چارہ اور بیج ان کو دی گئی ہے اس سے جانوروں کے دودھ میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
پہاڑی عورتوں کو جس غذا کی ضرورت ہوتی تھی، جن کے پاس اپنے لیے وقت نہیں ہوتا تھا وہ آج خود بھی اچھا کھا رہی ہیں اور اپنے کنبے کا بھی وہ اچھے سے خیال رکھ رہی ہیں آج وہ وقت کا بہترین استعمال کر رہی ہیں ۔وہ خود مختار تنظیموں کی میٹنگ میں شرکت کرکے، گھر کی صاف صفائی اور دیگر کام بھی خود ہی کر لیتی ہیں۔ سرکار کو چاہیے کہ جو بھی اسکیمیں بنائی جائیں ان کو زمینی سطح پر نافذ کیا جایے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں۔ ان اسکیموں سے متعلق معلومات بھی وقتا فوقتا لوگوں کو دی جانی چاہیے تاکہ دیہی عوام بھی وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔جیسے آج پہاڑی علاقے کی خواتین چل رہی ہیں.

 

(یہ مضمون سنجوئے گھوش میڈیا ایوارڈ 2019 کے تحت لکھا گیا ہے)

 

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا