وہ جب لہجہ بدل کر دیکھتا ہے

0
0

شبانہ عشرت،پٹنہ،بہار
غزل
کوئی یونہی سنبھل کر دیکھتا ہے
ڈبو دیتا ہے اپنی ساری ہستی
کوئی اشکوں میں ڈھل کر دیکھتا ہے
کسی پہ بار ہے تاروں کی چھاؤں
کوئی صحرا میں چل کر دیکھتا ہے
جو ہوں گر آہنی اپنے ارادے
تو پھر طوفاں بھی ٹل کر دیکھتا ہے
تپش چاہت کی کتنی کارگر ہے
کوئی پتھر پگھل کر دیکھتا ہے
یہ کیسی چاپ ہے، آہٹ ہے کس کی
کوئی باہر نکل کر دیکھتا ہے
غزل
ایک قطرے میں حوصلہ ہے بہت
یہ سمندر کو بھی پتہ ہے بہت
دیرپا ہے کہاں خوشی کی مٹھاس
غم کے آنسو میں ذائقہ ہے بہت
وہ بدلتا ہے منزلیں اپنی
پاس اس کے تو راستہ ہے بہت
اس نے ڈالی تو اک نظر تجھ پر
اے میرے دل یہی صلہ ہے بہت
وہ نظر پھیر کر کر ہوا رخصت
اس کو مجھ سے ابھی گلہ ہے بہت
خود فریبی میں مبتلا ہر شخص
یوں مقابل تو آیئنہ ہے بہت

 

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا