غزل

0
0

تمارے عشق میں خود کو مٹا کر ہم بھی دیکھیں گے
دلِ ناداں کو دیوانا بنا کر ہم بھی دیکھیں گے

خطا کاروں کو کس طرح نہیں ملتی تیری جنت؟
تیرے دربار میں آنسو بہا کر ہم بھی دیکھیں گے

تیرے دیدار کے انداز کتنے خوشنما ہونگے
نگاہِ شوق گردوں میں اڑا کر ہم بھی دیکھیں گے

ہمیں ہر آن دُنیا کے ستمگر آزماتے ہیں
ہمیں بھی حوصلہ دے آزما کرہم بھی دیکھیں گے

حیاتِ جاویداں کی راحتیں کتنی حسیں ہونگی
تیری چاہت میں اپنی جاں لٹا کرہم بھی دیکھیں گے

اگر چہ آتشِ شمع کی لپٹیں جان لیوا ہیں
دما دم زور پروانہ لڑا کر ہم بھی دیکھیں گے

تیرے فضل و کرم کا آسرا لے کر میرے اللہ
تیری دنیا کے ویرانے بسا کر ہم بھی دیکھیں گے

نبیﷺ کے روضہء اطہر کی جالی چوم کر آفاقؔ
بجھی تقدیر کی شمع جلا کر ہم بھی دیکھیں گے

آفاقؔ دلنوی
رابطہ نمبر 7006087267

 

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا