اے ٹی این لائیو کے زیراہتمام احتجاجی مشاعرہ

0
0

لازوال ڈیسک

پٹنہ؍؍مرکزی حکومت کے کالے قانون کے خلاف پورے ملک میں گزشتہ دو ماہ سے زائد مدت سیدھرنا اور مظاہرہ ہورہاہے اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر گذشتہ روز راجدھانی پٹنہ کے سبزی باغ واقع دھرنا مقام پر ایک احتجاجی مشاعرہ کا انعقاد اے ٹی این لائیو پٹنہ اور فاروقی تنظیم کے زیراہتمام کیا گیا جس کی صدارت بزرگ اور کہنہ مشق شاعر نیاز نذر فاطمی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض طنزومزاح کے نمائندہ شاعر چونچ گیاوی نے منفرد انداز میں انجام دئے۔اس مشاعرہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس مشاعرہ میں شرکت کے لئے کلکتہ سے شائع ہونے والے اردو ماہنامہ صورت کے چیف ایڈیٹر عمران راقم کے علاوہ گوتم بدھ کی نگری گیا سے خالق حسین پردیسی کابری اور احساس گیاوی اور ویشالی بہار سے اعجاز عادل بھی تشریف لائے۔جن شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازہ ان کے نام مع نمونہ کلام اس طرح ہیں
نیاز نذر فاطمی:
نظر ترچھی جب تک تمہاری رہے گی
ہماری یہ تحریک جاری رہے گی
کفن سر سے ہم باندھ کر اب کھڑے ہیں
کوئی قوم کب تک بیچاری رہے گی
عمران راقم:
ہے ابتدا تا انتہا شاہین باغ
بے آسروں کا آسرا شاہین باغ
ہر طرف ہے وقت کا ابن یزید
ہر طرف ہے کربلا شاہین باغ
پردیسی کابری:
یوں ہی دھرتی پہ نہیں بہتا ہے انساں کا لہو
کوئی تو فرقہ پرستی کو ہوادیتاہے
چونچ گیاوی:
کام اس نے کون سا اچھا کیا گجرات میں
دے دیا جو ساتھ ای وی ایم نے بھی جذبات میں
ہرطرف دنیا میں تھوتھو ہورہی ہے چونچ جی
آگیا ہے ملک کیسے حکمراں کے ہاتھ میں
احساس گیاوی:
بارش رکے گی خون کی معلوم نہی کب
آ گی شب سکون کی معلوم نہں کب
اعجاز عادل
ہمارے جسم میں جو خون ہندوستان والا ہے
یہ ناداں پھر بھی کہتا ہے کہ پاکستان والا ہے
منور داناپوری:
قلم قلم نے لکھا انقلاب زندہ آباد
زباں، زباں نے کہا انقلاب زندہ آباد
ہے انقلاب کا پرچم اک ایک ہاتھ میں آج
صدائے عام بنا انقلاب زندہ آباد
محمد مکرم حسین ندوی:
منظر وہ دلی کا دیکھا جو میں نے
تو دل کانپ اٹھا رو پڑیں میری آنکھیں
کہاں سے وہ آ جو انساں نہیں تھے
دکھاء انھیں ظلم کی کس نے راہیں
معصومہ خاتون
چمن ہے ویراں اداس کلیاں اجڑ چکا ہے اب آشیانہ
اسی کو کہتے ہیں فصل گل تو خزاں کہے گا کسے زمانہ
ڈاکٹر نصر عالم نصر:
میری اچھائیوں پہ مجھکو ڈانٹنے والے
تم بھی بنٹ جاؤگے سن لو ایء بانٹنے والے
تیرے گھر میں بھی کوی جھانکنے آجائیگا
باز آ جا تو میرے گھر میں جھانکنے آجائے گا
مظفر ہاشمی
ہندو ہو چاہے مسلم یہ دیس ہے سبھی کا
تم لاکھ ہم کو بانٹو ہرگز نہ ہم بنٹیں گے
وارث اسلام پوری:
لہوسے ہم نے سینچاہے چمن کے گوشے گوشے کو
ہمارے کارنامے یہ بھلائے جانہیں سکتے

شمیم شعلہ:
مرا مکان سمندر کے بیچ تھا شعلہ
سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ جل گیا کیسے
شازیہ ناز:
ملک کی آن بان ہیں ہم لوگ
ملک وملت کی شان ہیں ہم لوگ
ہاتھ جو ملک پر اٹھائے گا
تیر بھی ہیں کمان ہیں ہم لوگ
ان کے علاوہ میر سجاد،عمران راقم اور خالد عبادی نے بھی اپنے احتجاجی کلام سے تحریک کو مزید تقویت بخشی۔اس مشاعرہ کے انعقاد میں سابق میئر افضل امام، خطیب الرحمٰن، گلزار حسن،محمد افضل،توفیق عالم، عظیم الرحمٰن،محمد خالد، محمد نوشاد علی نعمان،محمد عارف گولڈن،محمد آفتاب،محمد شارق،محمد عارف جامن گلی، علی ہاشمی،محمد خالد اور محمد توثیق نے اہم کردار ادا کیا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا