محمداکرم ظفیر
29فروری بروزہفتہ کوجیسے ہی ہم ،راہل یادو اورویشوجیت سنگھ تینوںنے فسادزدہ علاقوں میں جانے کافیصلہ کیا۔تیزرفتارسے دوڑتی بھاگتی میٹروٹرین سے ہم تینوں یمناپارکرشمالی مشرقی علاقے میں پہنچے جہاںدنگائیوںنے قیامت برپاکی ہوئی تھی۔ایک ایسی تصویردورسے ہی دیکھائی دی کہ آسمان میںپرندے بھی نظرنہیں آرہے تھے۔ایسامحسوس ہورہاتھاکہ انسانی بستی نہیںبھوتوکی بستی ہے،یایوںکہے ،بقول کَسے:
جلے مکانوںمیں بھوت بیٹھے بڑی منانت سے سوچتے ہیں
کہ جنگلوں سے نکل کرآنے کی کیاضرورت تھی آدمی کو
بابرپوراسٹیشن کے نزدیک پہنچنے پرہم لوگوںنے فیصلہ کیاکہ راقم الحروف اسی حلقہ میں رہے گا جبکہ راہل اورویشوجیت سنگھ شیوبہارجائیں گے۔جیسے ہی بابرپورمیٹرواسٹیشن کی سیڑھیوںسے نیچے اترے سامنے درجنوںکی تعدادمیں جگہ جگہ پاراملیٹری فورس تعینات تھی۔بندوقیںــتَنی ہوئی تھیںاورخاموشی کے ساتھ ہرآنے جانے والے پرپولیس کی گہری نظرتھی۔کاش۔۔۔ــــ کہ ان فورسز کوپہلے بُلالیاجاتاتودنگے اس قدربھایک رخ نہیں لے پاتے۔شمسان گھاٹ پہنچے تووہاں اقلیتی طبقہ کے کچھ لوگ کھڑے ہوکرباتیں کررہے تھے کہ اسی درمیان کرائم برانچ ایک کارسے آپہنچے اورکچھ نوجوانوںکے بارے میں لوگوںسے تفیش کرنے لگے۔ڈراورخوف کے سے لرزہ براندم کوئی زبان کوکھولنے کوتیارنہیں ہورہاتھا۔اسی درمیان ایک نوجوان سے میری ملاقات ہوئی جس نے ہمیں ان جگہ لے گیاجہاں کچھ لوگ اورخواتین باتیں کررہے تھے،معلوم کرنے پرپتا چلاکہ اشتیاق خان نامی نوجوان جسے دنگائیوںنے 25فروری کی شام گولیوںسے چھلنی کردیا۔ان کے دوبچے زیداورزینب اپنے والدکودڈھونڈرہے تھے۔دادی کی گودمیں کھیل رہے زیدکی آنکھیں بھری ہوئی تھیں،معصوم لب پہ خاموشی کازبردست پہراتھا۔اشتیاق کی امی روتے ہوئی بولی:’’میرالڑکاکچھ سامان لینے باہرگیاتھاکہ دس منٹ کے بعدہی دوستوںنے کندھے پراٹھاکرگھرلایا،گھرمیں کمانے والاوہ اکیلاہی تھا،اس کی ایک پانچ سال کی لڑکی ہے اوردوسال کالڑکا‘‘ابھی انتاہی کہہ پائی تھی کہ ماں کاکلیجہ کئی ٹکروں میںتبدیل ہوگیااورساون بھادوکی طرح برس پڑیں۔اس مظلوم کی چیخ کب تک میری سماعتوںمیں گونجتی رہے گی،یہ کہنامشکل ہے۔لوگوںنے آگے بڑھ کراسے سنبھالا۔وہیں ان کے والدکے چہرے پرنوجوان بیٹے کے کھوجانے کادردکون جانے کادردآہ صدآہ۔۔۔
بیوہ بیٹی کے والدراقم الحروف سے بات کرتے ہوئے اس قدررونے لگتے ہیںکہ خودپرقابوپانامحال ہونے لگتاہے۔
وہاں موجودایک نوجوان نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پربتایاکہ 25فروری کودوپہرقریب ایک بجے اکثریتی طبقہ نے ان کے محلے کوچاروں طرف سے گھیرلیاتھا،ان کے ہاتھ میں تلواریں،بندوقیں تھیں،اوربھارت ماتاکی جئے کے نعرے لگارہے تھے اندرداخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ہم لوگوںنے جان ہتھیلی پرلئے ڈٹ کرمقابلہ کیاورنہ آج یہ پوراعلاقہ آگ کی نذرہوچکاہوتا۔پولیس دنگائیوںکاساتھ دے رہی تھی۔
تھوری دورچلنے پرفرقان کے گھرپہنچاجہاں سناٹاتھا،پتا کرنے پرمعلوم ہواکہ ان کے گھرکے لوگ ایس ڈی ایم آفس گئے ہوئے ہیں۔’اس دن چھٹی ہوئی۔یہاں وہ اس روزکھانہ لانے ہوٹل سے گیاتھاوہاں کسی نے اسے گولی ماردی جس سے خون زیادہ نکل گیااٹھاکرہسپتال لے جایاگیاجہاں اس کی موت ہوگئی۔ان کے پاس ایک لڑکااورایک لڑکی ہے۔بوڑھے ماں باپ ہیں۔ابھی حالات باہرٹھیک ہیں لیکن اندرکشیدگی برقرارہے‘‘۔کچھ لوگوںسے باتیں کرنے پراندازہ ہواکہ دہشت اب بھی دلوںمیںبیٹھی ہوئی ہے۔ دنگائیوں سے بچ کریہاں لوگوںکے گھروںمیں رہ رہے کچھ لوگوںنے بات کرتے ہوئے ان کی آنکھ سے آنسونکل آئے۔ایسی تصویرجورونگٹے کھڑے کردینے والی تھی،دنگائیوںنے ان کی آنکھوں کے سامنے قتل وغارت گری کاایساننگاناچ کہ وہ آخری سانس تک نہیںبھول سکتے ۔
فرقان کے گھرسے کچھ دوری پرمحمدفیضان کاتھا،جس کی تصویرایک ویڈیومیں وائرل ہوئی جس میں کچھ پولیس والے نوجوانوں کوزبردستی قومی ترانہ گانے پرمجبورکیا تھا۔23سال کے محمدفیضان کی لاش کے انتظارمیں گھرکے باہرسینکڑوں لوگ جمع تھے۔جیسے ہی ایمبولینس کی گاڑی کی آوازسنائی دی کہ چیخ پُکاراورآہ بکاکانہ تھمنے والاالمناک شوربپاہوگیا۔سب کی آنکھیں نم بہہ پڑیں ،کیابچے اورنوجوان سب کے سب پھوٹ پھوٹ کررونے لگے اوربولنے لگے کہ ظالموںنے ہمیں بربادکردیا۔دنگائیوں کاسب ہوتاہے ہماراکوئی نہیں ہے۔فیضان کے پڑوسی نے بتایاکہ ’’فسادایک منظم سازش تھاجولوگ آئے تھے وہ باہری تھے ،ہمارے گھروں کولوٹ لیے گئے۔دوسرے شخص نے بتایاکہ ’’محمدفیضان اپنی ماں کودیکھنے گیاکہ وہاں بھگڈرمچ گئی اوروہ بھاگ رہاتھا کہ پولیس کی زدمیں آگیاان کے ساتھ اورچاربچے تھے،ویڈیوپوری سچائی بیان کررہاہے جسے ہم لفظوںمیںبیان نہیں کرسکتے،بہرحال یہ شدیدپٹائی کی تاب نہ لاسکااورجاں بحق ہوگیا وہ گھرکااکیلالڑکاتھاجو کماکرگھرکوچلاتاتھا،والدکی موت برسوں پہلے ہوچکی ہے۔ماں بوڑھی ہے اب اس کی دیکھ بھال کون کرے گا۔‘‘یہ درد بھری داستان ایک دولوگوں کی نہیں ہے بلکہ ایسے سیکڑوں ہزاروںکی تعدادمیں لوگ ہیں جنہوںنے اپنی نظروںکے سامنے گھروبارکواجڑتے ہوئے دیکھاہے،بلوائیوںنے ان کے سامنے ہی قیامت جیسے خوفناک تصویرپیش کی جسے بھولناناممکن ہے۔آج بھی ان علاقوںمیں پولیس کی موجودگی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ پولیس اکثریتی علاقے کے بجائے اقلیتی علاقے میں بندوق سنبھالے ہوئی ہے۔مگرخاموش فَضا کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اے تیرگئی شب جمالے ابھی تو رنگ
دیکھوں گاتیرارنگ طلوعِ سَحرکے بعد