منڈی تحصیل کا پرائمری اسکول جندر والی ایک کمرے میں رسوئی بیت الخلاء اب تک تعمیر نہیں ہوئے
ریاض ملک
منڈی؍؍ تحصیل منڈی میں ایک طرف کئی سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی قلت ہے وہی دوسری جانب عمارتوں کہ خستہ حالی سے طلباء اساتذہ اور والدین پریشان نظر آرہے ہیں۔ ایجوکیشن زون منڈی پنچائیت راجپورہ کا گورنمنٹ پرائمری سکول جندر والی صرف ایک کمرے پر مشتمل ہے۔جہاں کے لوگوں نے اسکول کی عمارت رسوئی اور بیت الخلاء فراہم کئے جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک کمرہ پر مشتمل اس اسکول میں بچوں کا تابناک مستقبل تاریک ہورہا ہے۔ اسی کمرے میں پانچ جماعتوں کو تعلیم بھی دی جاتی ہے۔غور طلب بات یہ ہیکہ وہی ایک استاد پانچ جماعتوں کو تعلیم دیتاہے۔وہی پر باورچی بچوں کے لئے کھانا بنارہی ہے۔ گیس سلنڈر پھٹ بھی سکتاہے اور کبھی پائیپ میں آگ بھی پڑ سکتی ہے جس سے کسی بھی وقت کوئی بھی حادثہ ہوسکتاہے لیکن انتظامیہ کو ابھی بھی اس اسکول کوئی خبر نہیں ہے۔ محمد شریف اور منظور حسین نے ذرائع سے بات کرتے ہوئے کہاکہ 1993 میں اس اسکول کی عمارت بنی تھی جو کچھ ہی ماہ کے اندر زمین پھسلنے سے گر گیاتھا۔ اس کے بعد صرف ایک کمرہ مہیا کیاگیاہے۔ جہاں پر استاد بڑی مشکل سے پانچ جماعتوں کو تعلیم دیتے ہیں اور وہی پر باورچی میڈے میل پکاتی ہے اور وہی کتابیں اور بچوں کو کھانا بھی انہوں نے کہا اگر کسی دن گیس خارج ہونے سے یا گیس پھٹ جانے سے نقصان ہوگا تو اس کا ذمہ دار محکمہ ایجوکیشن ہوگا۔پنچائیت راجپورہ کا وارڈ نمبر چار جو راجپور سے محلہ ڈھاکہ تک قریب پچاس گھر ہیں جن کے بچے اس اسکول میں تعلیم کی پیاس بجھانے آتے ہیں لیکن وہ تعلیم کیا حاصل کریں گے جبکہ وہاں نہ اسکول کی عمارت نہ رسوئی اور نہ ہی بیت الخلائ ہیں۔ جس سے استاد بچے سخت پریشانیوں سے دوچار ہیں ان کے علاوہ سرپنچ حلقہ راجپورہ فاروق احمد نجارنے بڑے دکھ کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ منڈی زونل ایجوکیشن آفیس سے صرف 4 چار کلومیٹر پر یہ خستہ حال اسکول موجود ہے مگر اج تک زونل ایجوکیشن آفیسر منڈی زونل ایجوکیشن پلاننگ آفیسر منڈی یاچیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ اس اسکول میں حاضر نہیں ہو پاے افسوس کے ساتھ کہا کہ اس ترقی یافتہ دور میں اس اسکول کی خستہ حالت دیکھ کر ایسالگتاہے کہ ابھی یہاں کے لوگ قدیم دورسے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ سے اپیل کی ہیکہ وہ پنچائیت راجپورہ کے گورنمنٹ پرائیمری کے لئے کمرے کچن شڈ اور باتھروم واگزار کیے جائیں تاکہ ان بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچایاجاسکے۔